طالبان نہیں آئیں گے!

افغانستان میں حالات بدل رہے ہیںاور ان کا لازمی اثرکشمیر پر ضرور پڑ سکتا ہے ۔البتہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ طالبان اب افغانستان کی جنگ جیت چکے ہیںاور وہ کشمیر آزاد کرانے کیلئے بھی بس آیا ہی چاہتے ہیں۔دونوں باتیں حقیقت سے بعید ہیں۔تاہم یہ کہنا درست ہے کہ کشمیر میں تشدد کی سطح بڑھ سکتی ہے ۔اس لئے نہیں کہ طالبان آئیں گے بلکہ اس لئے کہ نئی دلّی کو تشدد کی سطح بڑھانے کا ایک بہانہ مل رہا ہے۔دسمبر میں پونا میں للتا دھتیہ یاد گاری لیکچر میں بولتے ہوئے ریاست کے ایک سابق اور سخت گیر ڈی جی پی کے راجندرا نے کہا کہ اب جبکہ امریکہ افغانستان سے رخصت ہورہا ہے تو اس کے اثرات وادی میں نمایاں ہونا شروع ہونگے کیونکہ بقول ان کے کشمیر میں دہشت گردعناصر کا حوصلہ بڑھے گا۔کے راجندرا کے بیان کا مطلب یہ بھی ہے کہ ریاست کو مزید سخت گیر ی سے کام لینا ہوگا۔ریاستی فورسز طالبان کے بہانے تشدد کی بھٹی کو مزید ہوا دے سکتے ہیں۔البتہ افغانستان کے حوالے سے کئی حقائق کو مد نظر رکھنا ضروری ہے ۔
ایک یہ کہ امریکہ کے وہاں سے چلے جانے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ طالبان جلد ہی کابل پر قبضہ کرنے والے ہیں۔ایسا سابق سویت یونین کے وہاں سے چلے جانے کے بعد بھی نہیں ہوا تھاجب انہوںنے نجیب اللہ کو کابل میں مسند ِ اقتدار پر براجماں کیاتھا۔یہ جنگ مزید سخت ہوسکتی ہے اور کئی سال تک چلے گی ۔کابل کی حکومت تاش کے پتے نہیں ہیں جو کہ بس بکھر نے والے ہیں۔افغانستان کے سابق دفاعی ترجمان ظہیر عظیمی کا کہنا ہے کہ فرق ضرور پڑے گابالخصوص جب افغان گرائونڈ فورسز کو امریکی فضائیہ کا نہایت ہی طاقتور کور حاصل نہیںہوگا لیکن اس کے ساتھ ہی افغان صدر کے مشیر فضل فاضلی کا کہنا ہے کہ محض چند ہزار غیر ملکی (امریکی)افواج کے ملک سے چلے جانے سے کوئی فرق نہیںپڑے گاکیونکہ ان کا کردار لڑائی میں نہیں تھا بلکہ وہ بطور مشیر ،تر بیت کار اور مدد گار یہاں تعینات ہیں۔گزشتہ ساڑھے چار برسوں سے ملکی دفاعی سیکورٹی افغان فورسز کے پاس ہے ۔ امریکہ اور نیٹو نے 20ہزار افغان کمانڈو فورسز کو تیار کیا ہے اور فی الوقت 34میں سے18صوبہ جات پر سرکاری افواج کا قبضہ ہے ۔افغان صدر کے ترجمان ہارون چکھان سوری کا بھی خیال ہے کہ امریکی افواج کے چلے جانے سے ملکی سیکورٹی پر کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ2015سے2018تک افغانستان میں امریکہ کے صرف42فوجی مارے گئے البتہ اس دوران 28529افغان فورسز مارے جاچکے ہیں جوکہ اوسطاً 25فوجی فی روز بنتے ہیںجوکہ ایک سخت جانی نقصان کا ریکارڈ ہے۔چونکہ افغانستان میں امریکہ کے صرف14ہزار فوجی موجود تھے جن میں سات ہزار مشاورت اور تربیت کاری سے وابستہ رہے ہیں ۔البتہ20دسمبر کے صدر ِ امریکہ ٹرمپ کے اعلان سے چند ہفتہ قبل طالبان کے ایک شدید حملے میں افغانستان میں نیٹو اور امریکی فورسز کے کمانڈ ر جنرل سکاٹ ملر بال بال بچ گئے جبکہ اس حملہ میں شدید طور پر سخت گیر اور قندھار کے طالبان مخالف بدنام جنرل عبدالرزاق مارے گئے۔جنرل رزاق کی موت سے امریکہ کو سخت دھچکا لگا۔اس کے بعد افغانستان کے صدر نے امریکہ کی ایک یونیورسٹی کنوو کیشن سے ٹیلی خطاب میں کہا تھا کہ طالبان افغان جنگ نہیں جیت رہے ہیں لیکن ا سکے فوراً بعدامریکہ کے جنرل چیف آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ طالبان جنگ نہیں ہار رہے ہیں۔تاہم اس کا مطلب یہ نہیں لیاجانا چاہئے کہ بس طالبان کابل پر قبضہ کرنے والے ہیں۔افغان فورسز گزشتہ کئی برسوں سے یہ جنگ لڑ رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مذاکرات نہیں ہوئے تو جنگ شدت اختیار کرے گی۔
امریکی صدر کے اعلان کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے وزارت داخلہ اور وزارت دفاع میں دو ایسے بڑے افسروں کو عہدوں پر تعینات کیا جو افغان انٹیلی جنس کے سابق سربراہ ر ہ چکے ہیں اور دونوں طالبان اور پاکستان کے سخت مخالفین میں شمار کئے جاتے ہیں۔یہ ہیں امر اللہ صالح اور اسداللہ خالد ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان ِ واپسی کے بعد اشرف غنی کی حکومت طالبان اور پاکستان کے خلاف سخت گیر پالیسی پر عمل پیرا ہورہی ہے اور دونوںکو سخت پیغام دے رہی ہے ۔ٹرمپ کے اعلان سے قبل دسمبر کے پہلے ہفتے میں کابل میں افغانستان ،چین اور پاکستان کی ایک اہم کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں افغانستان سمیت پورے علاقائی امن پر بات ہوئی تھی ۔اس کانفرنس کے بعد افغانستان کے وزیر دفاع صلاح الدین ربانی نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ٹھوس اور مخصوص نوعیت کے اقدامات اٹھانے ہونگے اور ابھی تک ایسے واضح نتائج سامنے نہیں ہیں کہ پاکستان واقعی علاقائی امن کیلئے سنجیدہ ہے ۔ جہاں تک بھارت کا تعلق ہے تو افغانستان کے حوالے سے اس کے دو بڑے مقاصد ہیں۔اول یہ کہ کوئی بھی گروپ مطلب طالبان اکیلے ہی کابل میں اقتدار پر قبضہ نہ کرنے پائے اور دوم یہ کہ بھارت کی افغانستان میں ترقیاتی سرگرمیاں اور حکومتی تعلقات جاری رہیں۔اس طرح کے واضح اشارے موجود ہیں کہ اگر طالبان بھی کابل میں برسر اقتدار آتے ہیں تووہ بھی نئی دلّی کے خلاف کوئی سخت گیر پالیسی اختیار نہیں کریں گے کیونکہ نئی دلّی نے وہاں ترقیاتی اور سول معاملات میں اپنے پنجے اس قدر گاڑ دئے ہیں کہ انہیں جاری رکھنے میں ہی سبھی اپنی بھلائی سمجھیں گے۔
یہ بات بالکل دو اور دو چار کی طرح سمجھنی ضروری ہے کہ ایک تو طالبان کابل پر قبضہ کرنے والے نہیں ہیں ۔اس میں کئی سال اور لگ سکتے ہیں ۔دوسرا یہ کہ طالبان نے ایران اور ہندوستان سمیت تمام علاقائی ممالک کے ساتھ ایک مصالحانہ رویہ کی خارجہ پالیسی اپنائی ہوئی ہے ۔ ہندوستان افغانستان کی رگ رگ میں داخل ہوچکا ہے ۔اس لئے اس ملک کو وہاں سے یکسر بے دخل کرکے دشمن نہیں بنایا جارہا ہے اور اسامہ بن لادن ،9/11اور طالبان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد یہ طالبان کی پالیسی نہیں ہے کہ وہ دوسروں کی جنگ دوسروںکے خلاف لڑیں۔یعنی کشمیر کوئی طالبان آنے والے نہیں ہیں کیونکہ وہ خود سالہاسال تک اپنے ملک کے اند ر مصروف رہیں گے ۔اس وقت بھی مجموعی طور پر طالبان کی تعداد کابل کی افواج کے مقابلے میں بہت کم ہے ۔البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ طالبان کی آڑمیں نئی دلّی کی ڈیپ سٹیٹ یہاں تشدد کا گراف بڑھا سکتی ہے ۔افغانستان سے امریکی افواج کی مکمل واپسی کے نتیجہ میں پاکستان پر بہت زیادہ دبائو بڑھ سکتا ہے کیونکہ اس سے اب کابل اور اسلام آباد براہ راست تصادم کے راستے پر بھی گامزن ہوسکتے ہیں۔طالبان کو کرائے کا لڑاکو سمجھنا غلط ہوگا۔امریکہ کی واپسی کا مطلب یہ ضرور ہے کہ افغانوںنے بہادری اور حریت کا ایک عظیم سنہرا باب حسبِ تاریخ رقم کیا ہے لیکن اس کا لازمی مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ امریکی شکست ہے ۔ عین ممکن ہے کہ امریکہ اپنے اہداف حاصل کرکے جارہا ہے اور اس کی یہ واپسی خود طالبان کے ساتھ کسی درپردہ مصالحت کا نتیجہ ہو۔اس لئے قضیہ زمین برسر زمین کے مصداق کشمیریوںکو خود اپنے حالات ،حقائق اور حقیقت پسندی پر نظر رکھنی چاہئے ،کابل یا طالبان پر ہرگز نہیں جوکہ ایک خود فریبی بھی ہے اور سراب بھی !۔
( بشکریہ ہفت روزہ ’’نوائے جہلم‘‘ سری نگر)