’’تیس سال بعد اوردرد کا رشتہ‘‘دونوں افسانوں میں ایک ایسے مسائلے کی عکاسی کی گئی ہیں جس میں یہاں کے اُس تاریخ ساز واقعے کا ذکر کیا گیا ہے،جس سے نہ صرف یہاں کے لوگ بلکہ یہاں سے باہر جانے والے لوگوں کی ایک درد انگیز داستان بیان کی گئی ہیں۔طارق شبنم نے اپنے دور کی روح کے درد و کرب کو جس طرح اپنے ان افسانوں میں سمو کر اپنے زمانے کے لوگوں کے باطن کی ان گہرائیوں میں اتر کر ان کے اس احساس و درد کو بیان کیا ہے جو نہ صرف ان کشمیری پنڈتوں کو تھا بلکہ یہام کی عوام کو بھی اس کا بھر پور احساس تھا۔اس تاریخ ساز واقعے نے وادی میں ایک ایسا ماحول پیداکیا کہ صدیوں کی بھائی چارگی خلوص،پیار،محبت،ان رشتوں کی مٹھاس کو بلائے طاق رکھئو ایا جس کے لیے وادی ِ کشمیر پوری دنیا میں اپنا مقام رکھے ہوئے ہیں۔طارق شبنم افسانہ درد کا رشتہ میں رقمطراز ہیں:
’’پھر اچانک نہ جانے کس کی نظر ِ ِ بد لگ گئی۔وادی کے حالات نے اچانک ایک بھیانک کروٹ لی،ایک
تیز سرخ آندھی چلی جس میں سب کچھ لُٹ گیا لوگوں کا چین و سکون غارت ہوگیا۔صدیوں پرانے بھائی چارے،
آپسی محبت اور میل ملاپ کی روشن قندیل شک و شبہات کے بھیانک بادلوں کی لپیٹ میں آگئی۔‘‘
(افسانہ،درد کا رشتہ،ص:۹۳)
جس طرح کی آگ پھر وادی میں لگی تو کئی صدایوں تک اپنے اس بھائی چارے کو نہ صرف یہاں کی عوام بلکہ ان پنڈتوں نے بھی ہمیشہ کے لیے اپنے روح میں اس کمی کو محسوس کیا کہ کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ملکر ساتھ رہتے تھے۔اس کا افسوس نہ صرف زندہ لوگوں کو تھا بلکہ آتما ؤں کو بھی اس اضطراب نے بے چین کر کے رکھا۔ملاحظ ہو افسانے سے یہ عبارت:
’’شنو بیٹی ۔۔۔میں یہیں رہ رہا ہوں،مگر پاپاجی۔۔۔آپ تو پردیس میں تھے نا یہاں کب آئے؟ـ‘‘
بیٹی تمہیں کس نے کہا میں پردیس میں تھا۔۔۔وہاں تو صرف میرا شریر تھا۔۔۔آتما ہمیشہ اپنے ہی وطن میں تھی۔
(افسانہ،بیس سال بعد،ص:۸۹)
’’گمشدہ دولت ‘‘کے نام سے مجموعے میں شامل افسانہ اپنے موضوع کے اعتبارایک بہتریں افسانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔افسانہ میں جنرل ٹام کا مریخ سے اتر کر روئے زمین پر آدم زاد کے حالات و و اقعات کا جائزہ لیکر واپس مریخ پر جانا ہوتا ہے تاکہ مریخ کے بادشاہ کو یہاں کے حالات سے واقف کرائیں لیکن یہاں کئی دنوں تک مسلسل جدوجہد کرنے کے باوجود اس کو اپنی کامیابی کے وہ آثار نظر نہیں آتے ہیں بلکہ یہاں روئے زمین پر انسانوں کی ترقی اور عیش و آرائش کو دیکھکر وہ آ دم زاد پر رشک کرنے لگاتا ہے۔لیکن مریخ جانے سے پہلے اس کے ہاتھ میں ’تلاش‘نام کی ایک کتاب آتی ہیں۔تب اس سے اپنی کا میابی اور مریخ واپس خوشی خوشی جانے کی اُمیدنظرآتی ہے۔تلاش میں مصنف رقمطراز ہیں:
’’بظاہرروئے زمین پرآباد انسانوں کے پاس سب کچھ ہے۔دھن دولت،عیش و آرام،طاقت و حشمت اور بے
بے شمار ترقی لیکن یہی انسان ایک بیش بہاانمول دولت سے یکسر محروم ہو چکُے ہیں،جس کے بغیر یہ ساری چیزیں بے
معنی اور بے و قعت ہیں۔۔۔دھرتی پر آباد تمام فرقوں سے وابستہ انسانی قدرتی آفاقی اصولوں سے رو گردانی کر کے اپنے
وضع کردہ خودغرضانہ اور فرسودہ اصولوں کے تابع زندگی گذارنے کی احمقانہ غلطی کے سبب ذہنی و دلی سکون کی انمول
نعمت کو کھو بیٹھے ہیں جسے واپس حاصل کرنے کے لئے اگر چہ یہ سخت جتن کر رہے ہیں لیکن اپنی روش بدلنے کے لئے ہر گزتیار نہیں ہیں۔‘‘
(افسانہ،گمشدہ دولت ،ص:۱۰۴)
اقتباس سے واضح ہوجاتا ہے کہ بظاہر زمین پر آدم زاد ترقی،خوش حالی،عیش و آرائش کے ڈھنڈور پیٹ رہا ہے ،لیکن یہ بات ہم سے چھپی ہوئی نہیں ہیں کہ انسان کن مصائب ،پریشانیوں ،اضطراب اور ذہنی طلاطم میں مبتلا ہو کر اپنے اندون کی آزادی سے محروم ہو کر رہ گیا ہے۔یہ پریشانی انسان نے اپنے وضح کردہ ان غلط اور فرسودہ اصولوں کی آڑ میں رہ کر کررہے ہیںجس کی وجہ سے وہ ذہنی و دلی سکون جیسے بڑی نعمت سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں۔
’’بے رنگ‘‘افسانہ ایک ایسے مسائل کی عکاسی کر رہا ہے جس سے یہاں کے لوگ بخوبی واقف ہیں۔طارق شبنم نے کشمیر میں موجودہ صورتحال کو اپنی روح میں اس طرح ضم کیا ہے کہ یہاں کے عوام کے جو دکھ درد ہیں اس کو انہوں نے اپنے تخیل میںشامل کر کے قلم سے اس کی ایک خوبصورت عکاسی کے ساتھ ساتھ مصائب سے پُر حالات کاایک جیتا جاگتا مرقع پیش کیا ہے۔آئے روز یہاں لال چوک،پرتاب پارک،پریس کالونی میں جو ڈیلی ویجروں کے نوکریوں کے مستقل کا مسائلہ ہے وہ افسانے کی زینت بنا ہوا ہیں۔کہ کس طرح یہ ڈیلی ویجر تن دہی سے اپنے کام کو پورا کرنے کے باوجود بھی اپنے اہل و عیال کو دو وقت کی روٹی کھلانے میں بڑے مصائب کا سامنا کررہے ہیں۔سرکار کی طرف سے آئے روز صرف بیانات جاری کئے جاتے ہیں جب کہ ان ڈیلی ویجروں کی مستقلی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ہیںجس کی وجہ سے ان ڈیلی ویجروں کو سڑکوں پر آئے روز سراپا احتجاج ہونا پڑ تا ہے۔عبارت ملاحظ کیجئے:
’’سرکاری ملازمین اپنے مطالبات کو لے کر ایک بار پھر سراپا احتجاج ہیں کیونکہ سرکاری ملازمین کا اپنی
مانگوں کو لے کر سڑ کوں پر آنا اور پولیس کے ساتھ گتھم گھتا ہونا اس شہر کا روز کا معمول بن چکا ہے۔‘‘
(افسانہ ، بے رنگ،ص:۱۱۲)
انٹرنیٹ پر نہ صرف بہت عمدہ قسم کی معلومات ہمیں حاصل ہوتی ہیں بلکہ طرح طرح کی بُرائیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔انٹرنیٹ پر جو جرائم پیشہ لوگ (cyber crime) سے وابستہ ہوتے ہیں وہ لوگوں کو اپنے شکنجے میں پھسلا کر ان کا استعمال کر تے ہیں۔افسانہ ’’سنہرا پھندا‘‘ بھی ایک ایسے حقیقی مسائل کی عکاسی کررہاہے جس میں راحیلہ انٹرنیٹ کے شکنجے میں پھنس کر اپنے خوش حال ازدواجی زندگی کو خرابی کرتے کرتے نہ صرف ان مجرموں سے بچتی ہیں بلکہ آخر میں اپنی ہونے والی اس غلطی کا ازالہ کرنے کے لیے خودکشی کو بھی گلے لگا نا چاہتی ہیں۔افسانہ میں (cyber crime) کی اور توجہ مبذول کرواکے مصنف نے انٹرنیٹ کے غلط استعمال کا پردہ فاش کیا ہے۔عبارت ملا حظ کیجیے:
’’راحیلہ ۔۔۔تمہیں نہیں معلوم کہ انٹرنیٹ پر کیسی کیسی فحاشیات ہوتی ہیں،تمہارے لئے مناسب نہیں رہے گا۔
آپ ٹھیک کہتے ہیں ۔۔۔لیکن وہاں اچھی چیزیں بھی ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر کچھ سیکھا بھی جا سکتا ہے۔‘‘
(افسانہ ، سنہرا پھندا،ص:۱۶۴)
ان کے علاوہ صدمہ ،اعتبار،شکست،دھوپ چھاؤ،آخری جام وغیرہ جیسے افسانے بھی افسانوی مجموعے ’’گمشدہ دولت‘‘ میں شامل ہیں۔طارق شبنم کا یہ پہلا افسانوی مجموعہ ہیں جو منظر عام پر آیا ہے۔جس میں کئی دلچسپ افسانے شامل ہیں ۔ہاں بعض افسانوں کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہانی پر مقصدیت کی دھن بھی سوار رہی ہیں۔لیکن باقی جس طرح انہوں نے اپنے چند افسانوں کو فنی چا بکدستی کے ساتھ پیش کیا ہے وہ قابل تعریف ہیں۔طاق شبنم کا تعلق چونکہ کشمیر سے ہے اس لئے ان کے یہاں بھی ہمیں کشمیری عوام ،یہاں کے مسائل،مفلسی میں گرے ہوئے لوگوں کے مسائل ،ان کے دکھ درد کو پیش کرنے میںطارق شبنم اپنی مثال آپ ہیں۔نور شاہ ان کے افسانوں کے حوالے سے ایک جگہ رقمطراز ہیں:
’’طارق شبنم کے اکثر افسانوں کے موضوعات سماج کے درماندہ اور پسماندہ لوگوں کے مسائل سے تعلق
رکھتے ہیں۔ان میں محبت کی چاشنی بھی ملتی ہے اور انسانی نفرتوں کی عکاسی بھی منظر آتی ہیں۔‘‘
(پیش لفظ،گمشدہ دولت،طارق شبنم،ص:۷)
طاریق شبنم میں افسانہ نگاری کے وہ سارے اسرار و رموز موجود ہیں جس سے وہ نہ صرف جموںکشمیر میں بلکہ برصغیر میں بھی اپنی مثال آپ پیش کر سکھتے ہیں ۔اُمیدی قویٰ ہیں کہ آنے والے سالوں میں ان کے افسانوں کے کئی مجموعے منظر عام پر آ کر قاریئں کو پڑھنے کوملیں گے جس سے وہ نہ صرف اپنا بلکہ وادی کا نام بھی روشن کرئیںگے۔
ریسرچ اسکالر،شعبہ اردو یونیورسٹی آف کشمیر،سرینگر