بانہال// سرکاری سکولوں میں مفت وردی فراہم کرنے میں تاخیر کے خلاف ضلع رام بن کے اساتذہ اور بچوں میں غم و غصہ پایا جارہا ہے اور دو ماہ سے زائد پہلے پیشگی رقم ادا کرنے کے باوجود بھی ضلع رام بن کے بیشتر سرکاری سکولوں کو وردی فراہم نہیں کی گئی ہے – محکمہ تعلیم صوبہ جموں کے احکامات پر سرکاری پرائمری ، مڈل اور ہائی سکولوں میں آٹھویں جماعت تک کے زیر تعلیم بچوں کو سروشکھشا ابھیان کی اسکیم کے تحت مفت وردی فراہم کرنے کیلئے سٹیٹ پروجیکٹ ڈائریکڑ کی طرف سے جموں کے چند ڈیلروں کو مقرر کیا گیا ہے اور سکولوں نے ضرورت کے مطابق اپنی رقم بھی ان ڈیلروں کو اپریل کے مہینے میں ہی منتقل کی ہے۔ تاہم،وردی ابھی تک سکولوں میں نہیں پہنچ پائی ہے – ضلع رام بن کے سینکڑوں سکول وردی خریدنے کے گھورکھ دھندے میں شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک وردی کے بغیر ہی ہیں جس میں کھڑی ، بانہال ، اکڑال ،رام بن ، بٹوٹ اور گول کے تعلیمی زون قابل ذکر ہیں اور پورے ضلع میں مشکل سے پچاس فیصدی بچوں کو ابھی تک وردی مل پائی ہے – جبکہ بہت سارے سکولوں کی طرف سے سکول گرانٹ کی مد سے سامان خریدنے کیلئے پیشگی رقم ادا کی گئی ہے مگر اس کے باوجود بھی انہیں مطلوبہ سامان فراہم نہیں کیا گیا ہے اور اس معاملے کو بھی کئی ماہ گذر گئے ہیں۔ کئی اساتذہ نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ انہوں نے شری لکشمی ٹریڈرس جموں کے نام رواں سال اپریل کے مہینے میں وردی اور دیگر سامان کیلئے رقم روانہ کی ہے لیکن ابھی تک نہ وردی ملی اور نہ ہی سکولوں کو سامان روانہ کیا جا سکا ہے۔ ضلع رام بن کے بیشتر اساتذہ سروشکھشا ابھیان کے تحت وردی اور سکول گرانٹ کے تحت سکولوں کیلئے سامان کی خرید پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں اور اسے مبینہ طور پر ایک بڑا گھپلہ قرار دے رہے ہیں۔ کشمیر عظمی کے پاس موجود اعداد وشمار کے مطابق اپ گریڈڈ پرائمری سکول منجوس ، کھڑی کے 123 بچوں کی وردی کیلئے 49200 روپئے ، گورنمنٹ پرائمری سکول اپر منجوس کھڑی نے 27200 روپئے، گورنمنٹ پرائمری سکول ہرنیہال کھڑی نے 18800 روپئے ، گورنمنٹ پرائمری سکول تالاب کھڑی نے 12000روپئے ، گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول ناچلانہ کھڑی نے 12000 روپئے کی پیشگی رقم شری لکشمی ٹریڈرس کو سکول کھاتوں سے فی بچہ چار سو روپئے کے حساب سے اس سال اپریل میں منتقل کی ہے لیکن جولائی کا مہینہ شروع ہونے کے باوجود بھی سکولوں کو وردی فراہم نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی سکول گرانٹ کے تحت سکولوں سے منتقل کی گئی رقم کے عوض سکولوں کیلئے سامان بھیجا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ ہائی سکول ترنہ ، گورنمنٹ پرائمری سکول ترنہ ترگام ، گورنمنٹ پرائمری سکول شعبان پورہ ، یو پی ایس سرن کھڑی ، گورنمنٹ پرائمری سکول تراگن کھڑی اور ہائی سکول بْزلہ ، کھڑی ضلع رام بن کے سکولوں کی طرف سے وردی اور سکول گرانٹ کیلئے منتخب کئے گئے ڈیلروں کو وردی اور دیگر سامان کیلئے منتقل کی گئی رقم کے باوجود بھی وردی اور دیگر سامان سکولوں ابھی تک نہیں بھیجا جا سکا ہے۔ اس صورتحال نے پورے ضلع رام بن کے اساتذہ کو پریشان کر رکھا ہے۔ جبکہ بانہال ، کھڑی، اکڑال ، رام بن وغیرہ کے زونوں میں وردی نہ ملنے کو لیکر اساتذہ پریشان ہیں۔ اس سلسلے میں بات کرنے پر چیف ایجوکیشن افسر رام بن عبدالحمید فانی نے کشمیرعظمی کو بتایا کہ اْن کی طرف سے اس سلسلے میں زونل افسروں سے کہا گیا ہے کہ وہ وردی ڈیلروں سے وردی حاصل کرنے میں جلدی کریں ،تاکہ وردی کے بغیر بچوں کومزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ خود بھی متفکر ہیں اور اس بارے میں اعلی حکام کو بھی متعدد بار مطلع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں ایس پی ڈی حکام سے بھی وردی کی جلد فراہمی کیلئے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعداد ہزاروں اور لاکھوں میں ہونے کی وجہ سے ایس پی ڈی کی طرف سے منتخب کئے گئے ڈیلر ابھی تک سارے سکولوں کو وردی فراہم نہیں کر پائے ہیں جس کی وجہ سے ضلع رام بن میں بھی درجنوں سکول ابھی وردی کے بغیر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آئیندہ دو ہفتوں میں تمام سکولوں کو وردی فراہم کرنے کیلئے حکام کو مطلع کیا گیا ہے تاکہ وقت کے اندر اندر وردی کے حصول کا مقصد پورا ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ضلع رام بن میں وردی کو جلد از جلد فراہم کرنے کیلئے زونل افسروں سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں۔