غلام قادر کامران
کسی بھی علاقے کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کا براہِ راست انحصار وہاں کے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے پر ہوتا ہے۔ سڑکیں نہ صرف مسافروں کے سفر کو آرام دہ بناتی ہیں بلکہ تاجروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے اور عوامی رابطوں کو وسعت دینے کا بھی اہم ذریعہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔تاہم ضلع بڈگام میں اس حوالے سے ایک تشویشناک صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اگرچہ یہاں متعدد نئی سڑکیں بنائی گئی ہیں، لیکن ضلع کی درجنوں پرانی اور اہم سڑکیں مکمل خستہ حالی کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ اس ابتر صورتحال کی وجہ سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے، بلکہ مقامی آبادی کا عبور و مرور بھی شدید مشکلات سے دوچار ہوا ہے۔اگرچہ جون کا مہینہ بھی اب اختتام ہوا ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ضلع کی درجنوں رابطہ سڑکوں کی تجدید و مرمت کا کام تاحال شروع نہیں ہو سکا ہے۔ بیشتر سڑکیں گہرے گڑھوں میں تبدیل ہو چکی ہیں، جس کے باعث ڈرائیوروں اور مسافروں کے لیے روزمرہ کا سفر ایک عذاب بن گیا ہے۔ عوامی حلقوں نے بارہا اس ابتر صورتحال کو انتظامیہ کے نوٹس میں لایا ہے، لیکن حیران کن طور پر حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔
ضلع بڈگام کی اہم ترین رابطہ سڑکوں میں شمار ہونے والی سرینگر۔چاڈورہ روڈ کی حالت کئی مقامات پر انتہائی ناگفتہ بہ ہو چکی ہے۔ باغِ مہتاب سے لے کر موچھوہ، کرالہ پورہ اور واتھورہ تک، یہ اہم ترین سڑک بڑے اور گہرے گڑھوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جس کے باعث روزمرہ سفر کرنے والے ہزاروں کی تعداد میں مسافروں جن میں بیشتر ملازمین،طلبا اور مریض شامل ہیں کو روز شدید ذہنی وجسمانی اذیت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے واضح رہے کہ یہ سڑک تاریخی قصبے چرار شریف اور سب ڈویژن چاڈورہ کو دارالحکومت سرینگر سے جوڑتی ہے ایسی مصروف ترین اور انتہائی اہمیت کی حامل سڑک کا اس قدر خستہ حال ہونا متعلقہ محکمے کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔سویہ بگ -واڈون سے رازون بیروہ تک جانے والی سڑک خستہ حالی کی بدترین تصویر پیش کر رہی ہے۔ اس سڑک میں نہ صرف گہرے گڑھے پڑے ہیں بلکہ یہ اس قدر تنگ ہے کہ یہاں ٹریفک جام اب روز کا معمول بن چکا ہے سڑک کی خستہ حالی اور طویل ٹریفک جام سے رسو، رازون، رڈبگ، اوہنگام اور زیوڈارہ جیسے متعدد دیہات کا رابطہ سب ڈویژن بیروہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔
ضلع بڈگام کے مختلف علاقوں میں رابطہ سڑکوں کی خستہ حالی نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ نکاسیِ آب کے ناقص نظام، گہرے گڑھوں اور میکڈمائزیشن نہ ہونے کے باعث ان سڑکوں پر سفر کرنا انتہائی دشوار گذار بن گیا ہے، جس کا خمیازہ عام شہریوں بالخصوص مریضوں، بزرگوں اور طلباء کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ژیرہار سے ہردملپورہ سڑک کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ نکاسیِ آب (Drainage) کا کوئی معقول نظام نہ ہونے کی وجہ سے اس سڑک پر اکثر پانی جمع رہتا ہے، جو اسے مزید کھنڈر بنا رہا ہے۔خانصاحب سے رائےیار جانے والی اہم سڑک کئی مقامات پر مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ سڑک پر پڑے بڑے اور گہرے گڑھوں کی وجہ سے گاڑیوں کی آمد و رفت انتہائی دشوار ہو گئی ہے۔ہانجورہ سے شمناگ جانی والی سڑک میکڈمائزیشن نہ ہونے کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر ہے۔ بزرگوں، خواتین اور اسکولی بچوں کے لیے اس پر چلنا محال ہو چکا ہے۔ سرسیار سے برنوار جانے والی سڑک بھی انتہائی خستہ ہے، نالہ دودھ گنگا میں پانی کے تیز بہاؤ سے اس سڑک کا ایک بڑا حصہ پانی میں بہہ چکا ہے، جسے تاحال ٹھیک نہیں کیا گیا۔ اس مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں یہاں ہر وقت کسی بڑے اور جان لیوا حادثے کا خطرہ منڈلاتا رہتا ہے۔چاڈورہ سے کھیری گنڈ جانے والی سڑک بوروہ سے لے کر کھیری گنڈ، چھانہ گنڈ اور نوہار تک انتہائی خستہ حالی کا منظر پیش کرتی ہے ۔چرار شریف- یوسمرگ سڑک سیاحتی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اس سڑک کے ذریعے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں سیاحوں کی آمد و رفت رہتی ہے۔ تاہم، یہ سڑک کن دجن سے یوسمرگ تک انتہائی ناگفتہ بہ ہے اور بڑے گڑھوں کے باعث اس سڑک سے گاڑیوں کا گزرنا اذیت ناک ہو چکا ہے۔
سڑک کی خستہ حالی سے علاقے کی سیاحت بری طرح متاثر ہوئی ہے چرار شریف کی اندرونی سڑکوں میں بھی بہت سی سڑکیں خستہ ہو چکی ہیں وارڈ نمبر 3 کو جانے والی سڑک اور راہ کائی سے نارپورہ سڑک مکمل طور پر خستہ ہو چکی ہیں۔ہپرو بٹپورہ سے چرار شریف بٹپورہ تک 3 کلومیٹر سڑک پر حال ہی میں میکڈمائزیشن کی گئی تھی، لیکن تعمیری کام اس قدر ناقص تھا کہ میکڈم (تارکول) بہت جلد سڑک سے اکھڑ کر تباہ ہو گیا۔ان سڑکوں کے علاوہ، ضلع کے دیگر اہم رابطے کی سڑکیں جن میں سرائے سے گوسو، ناگام سے باباونی، مین مارکیٹ ناگام سے تکیہ ناگام اور اچھ گام سے نارو جانے والی سڑک کے علاوہ درجنوں سڑکیں شامل ہیں انتہائی خستہ ہو چکی ہیں۔
غرض یہ کہ انتظامیہ کی اس چشم پوشی اور سڑکوں کی اس ناگفتہ بہ حالت کے باعث پورے ضلع کے عوام شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار ہیں، اور متعلقہ محکموں کی فوری توجہ کے منتظر ہیں۔
اگرچہ میکڈمائزیشن کا کام اپریل یا مئی کے مہینوں میں شروع ہوتا تھا تاہم اس سال جون کامہینہ گزر جانے کے باوجود بھی خستہ حال سڑکوں کی مرمت اور تجدید کا کام تاحال شروع نہیں ہو سکا ہے۔ اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے مسلسل اعلانات کیے جا رہے ہیں اور ٹینڈرز بھی جاری ہو رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور عملی طور پر کہیں کوئی کام ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
سڑکوں پر میکڈمائزیشن (تارکول بچھانے کے کام) میں اس غیر معمولی تاخیر کی بنیادی وجہ ٹھیکیداروں اور ہاٹ مکس پلانٹ مالکان کا موجودہ کم ریٹس پر کام کرنے سے دوٹوک انکار ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ تعمیراتی مواد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور کاروباری اخراجات کے باوجود نرخوں(Rates) میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، جس کے باعث ان کے لیے کام کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ٹھیکیداروں نے ‘پولیس ویریفکیشن (Police Verification) کی غیر ضروری شرط پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اس سنگین صورتحال اور تعطل کو ختم کرنے کے لیے ہاٹ مکس پلانٹ ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر بشیر احمد خان نے حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے حکومت کے سامنے چند اہم مطالبات رکھے ہیں، جن میں میکڈمائزیشن کے کاموں میں ‘اے (A) کلاس ٹھیکیداروں کی باقاعدہ شمولیت، موجودہ مارکیٹ کے رجحانات کے مطابق ‘سٹینڈرڈ شیڈول آف ریٹس (SSR) پر فوری نظرِ ثانی۔اور سال 2016سے 2019تک کی زیرِ التوا ادائیگیوں کی فوری منظوری اور واگزاری جیسے اہم مطالبات سرفہرست ہیں۔
موجودہ دور میں سڑکوں کی دیکھ بھال مکمل طور پر عدم توجہی کا شکار ہو چکی ہے۔ محکمہ تعمیراتِ عامہ (R&B) کے سینئر اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر ریاض احمد کے مطابق، ماضی میں محکمے کے پاس زمینی سطح پر کام کرنے والا خاطر خواہ عملہ موجود ہوتا تھا، جن میں روڈ ورکرز، اور ورکس سپر وائزرز شامل تھے۔ یہ عملہ سڑکوں کی مسلسل دیکھ بھال اور فوری مرمت کا ذمہ دار تھا۔ تاہم، ان ملازمین کے ریٹائر ہونے کے بعد نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں۔ ایک طرف سڑکوں کے جال میں بے پناہ وسعت آئی ہے، لیکن دوسری جانب نہ تو نیا عملہ تعینات کیا گیا اور نہ ہی نئے سب ڈویژنز کا قیام عمل میں لایا گیا، جس سے سڑکوں کی دیکھ بھال کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔سڑکوں کی تباہی کی ایک بڑی وجہ مختلف سرکاری محکموں کے درمیان آپسی تال میل کا فقدان بھی ہے۔ ایک طرف محکمہ آر اینڈ بی (R&B) اور پی ایم جی ایس وائی (PMGSY) کروڑوں روپے خرچ کر کے سڑکوں کی تعمیر، تجدید اور کشادگی (Widening) کا کام کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف محکمہ بجلی (PDD) اور محکمہ جل شکتی بجلی کے کھمبے نصب کرنے یا پانی کی پائپ لائنیں بچھانے کے لیے ان نئی سڑکوں کو کھود کر تباہ کر دیتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کھدائی کے بعد ان سڑکوں کی مرمت نہیں کی جاتی، جو بعد ازاں بڑے گڑھوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔
اکثر اوقات سڑکوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والا مٹیریل بھی انتہائی غیر معیاری ہوتا ہے۔ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے ‘کوالٹی کنٹرول کا ایک الگ اور فعال ونگ ہونا چاہیے تھا جو تعمیراتی مواد کے معیار کو سختی سے پرکھتا۔ مزید برآں، سڑکوں کے کنارے پانی کی نکاسی (Drainage) کا کوئی معقول نظام نہ ہونے کی وجہ سے بارشوں کا پانی سڑکوں پر جمع ہو جاتا ہے، جو تارکول کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے اور اکثر سڑکوں کی تباہی کا باعث بنتا ہے۔
انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ اس ساری صورتحال میں کچھ غیر ذمہ دار شہریوں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ بھی سڑکوں کی تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ سڑکوں پر ناجائز تجاوزات قائم کرنا، بے ہنگم ٹریفک پارکنگ اور کوڑا کرکٹ پھینکنا جیسے اقدامات نے عام لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سڑکوں کی تعمیر اور تجدید حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ کیونکہ سڑکوں کی خستہ حالی نہ صرف عوامی ترقی کی راہ میں حائل ہوتی بلکہ عام لوگوں کے عبور و مرور میں شدید مشکلات پیدا کرتی ہیں حکومت کوہنگامی بنیادوں پر خستہ حال سڑکوں کی مرمت کے لیے اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ عوام کو روزمرہ کے سفری عذاب سے نجات مل سکے ساتھ ہی عام لوگوں کو بھی بحیثیت ذی شعور شہری سڑکوں کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے کیونکہ سڑکیں ہم سب کی مشترکہ ترقی کی ضامن ہیں۔