جموں//گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے کہا ہے کہ ریاست کے لوگ انسانیت کی اصلیت کو سمجھنے کے لئے صوفی ازم کی پیروی کرتے ہیں اور صوفی روایات یہاں کی عام زندگی پر کافی اثر انداز ہوتی ہیں۔صوفی میگزین ’’وجد‘‘ کی رسم رونمائی انجام دینے کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خورشید گنائی نے کہا کہ صوفی روایات رواداری، بھائی چارے اور امن کی تعلیم دیتے ہیں۔اس تقریب کا انعقاد جموں سول سوسائٹی فار آرٹ اینڈ لٹریچر نے نامی ڈوگری سنستھا کے اشتراک سے کیا تھا۔وجد صوفی تعلیمات پر مشتمل ششماہی میگزین ہے۔ ایوارڈ یافتہ سماجی کارکن افان اے یسوی اس کے مدیر اعلیٰ اور پبلشر ہیں۔وجد کے پہلے شمارے کا موضوع’’آفاقی عشق‘‘ ہے۔ سابق نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا، سابق ایم ایل سی وجے بقایا، سیکرٹری جے کے اے سی سی ایل عزیز حاجنی، نامورصحافی سُہیل کاظمی، سماجی کارکن روما وانی، سول سوسائٹی کے ممبران، بھاری تعداد میںدانشوراور مصنف بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔یہ میگزین شروع کرنے اور اس کے ذریعے کشمیر کی صحیح صورتحال دُنیا کے سامنے لانے کے لئے خورشید احمد گنائی نے یسوی کی کوششوں کی سراہنا کی۔ انہوں نے کہا کہ میگزین کے ذریعے امن، روا داری اور بھروسے کی اقدار کی عکاسی ہوتی ہے جن کی تعلیمات صوفی سنتوں نے دی ہیں۔مشیر موصوف نے معیاری میگزین شائع کرنے پر افان یسوی اور ان کی ٹیم کو مبارک باد دی۔خورشید احمد گنائی نے کہا کہ ریاست کی یونیورسٹیوں میں صوفی تعلیمات کی کلاسز لی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کلچرل اکاڈمی کے سیکرٹری کو ہدایت دی کہ وہ صوفی ازم پر ایک ایڈیٹوریل کتاب شائع کریں۔اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سابق نائب وزیر اعلیٰ کوئندر گپتا نے کہا کہ نوجوانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ سماج میں امن اور بھائی چارے عام کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔اس موقعہ پر سابق ایم ایل سی وجے بقایا نے کشمیر کی بیش قیمتی صوفی روایات اور تہذیبی اثاثوں کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں صوفی نظریے کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔ انہوں نے وجد کو متعارف کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کلچرل اکاڈمی کے سیکرٹری ڈاکٹر عزیز حاجنی نے کہا کہ آج کے مادی دور میں صوفی تعلیمات پر مشتمل ایک میگزین متعارف کر کے یسوی نے قابل قدر کام انجام دیا ہے۔اس موقعہ پر معروف صحافی سُہیل کاظمی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا جبکہ سماجی کارکن روما وانی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔وجد کے پہلے شمارے میں ترکی، امریکہ، پاکستان، قزاکستان اور ہندوستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے صوفی قلمکاروں کی تحریریں شامل ہیں۔