صنف ِنازک۔۔۔ غلامی کے منجدھار میں!

پیغمبر اسلام صلی ا للہ علیہ و سلم تمام جہانوں کے لئے رحمت للعالمین بن کے آئے۔ آپؐ کے آنے سے پہلے عرب میں عورت حقوق، عزت اور راحت وسکون سے محروم تھی۔ بیٹی ہوتی تو اے بے عزتی سمجھ کر زندہ دفنایا جاتا، شوہر بیوی کو غلام رکھتا اور جانوروں کی طرح پیٹتا،عورتیں بازاروں میں منڈیوں میں کسی سامان کی طرح خریدی اور بیچی جاتی تھی۔ آپؐ آئے تو عورت کو زمین سے اُٹھا کر دل میں جگہ دی ،بیٹی ہے تو باپ کی عزت ہے، بہن ہے تو تمہاری ناموس ہے، بیوی ہے تو تمہاری ذمہ داری ہے کہ اسے محبت اور عزت دو، ا س سے جانوروں جیسا سلوک نہ کرو، ماں ہے تو اس کے پائوں کے نیچے تمہارے لئے جنت ہے، خالہ ہے تو ماں کے مرنے کے بعد تم پر سب سے پہلا حق اسی کا ہے۔ نہ عورت بازاروں میں بکنے کیلئے بنائی گئی، نہ محل سجانے کیلئے بلکہ یہ تمہارے گھر کی شان عزت اور تمہارے خود کے سکون کیلئے بنائی گئی ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت راحت اور سکون دیا۔ جتنی عزت اسلام اور اسلامی حدود و قوانین نے دی اتنی شاید کسی مذہب یا معاشرے نے نہیں دی۔باقی غیر آسمانی مذاہب میں عورت کو کبھی انسان سمجھا ہی نہیں گیا۔
ہندو عزم میں عورت کیلئے کوئی حقوق ہی نہیں تھے ۔وہ محض ایک غلام تھی اپنے شوہر کیلئے یہاں تک اسے جائیداد میں بھی کوئی حق حاصل نہیں تھا اور شوہر کے مرنے پہ بیوی کو اس کے ساتھ زندہ جلایا جاتا تھا یعنی ستی کیا جاتاتھا۔ یونان اپنے وقت کے بہت ہی ترقی یافتہ، تہذیب وتمدن والی قوم تھی ۔ وہ لوگ اپنی دانائی، عقلمندی، علم ود انش، فلسفہ، دائیوں کے علم کیلئے بہت مشہور تھی لیکن یہ لوگ بھی عورتوں کو بیچا اور خریدا کرتے تھے اور اسے شیطان کی بیٹی کہتے کہ عورت صرف بربادی لانی ہے۔ یہودی عورت کو نوکر کا درجہ دیتے اور باپ کو حق تھا کہ وہ بیٹی کو بیچے عورت کو برائی اور گناہ کی طرف راغب کرنے والا سمجھا جاتا تھا۔ عیسائی عورت کو شیطان کا پھندا سمجھتے اور کہتے جب بھی تم کسی عورت کو دیکھو تو سمجھ لینا کہ وہ انسان نہیںبلکہ وہ ایک درندہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے عورت کو پردوں میں پیدا کیا ۔ جب حضرت آدم ؑ کو پیدا کیاگیا تو مٹی کا ایک پتلا فرشتوں سے بنوایا۔ پھر چالیس سال بعد اللہ نے اس میں روح ڈالی اور وہ اٹھ بیٹھ گئے لیکن جب عورت کو پیدا کیا تو اپنے پردے میں بنایا کہ اللہ کے سوا جس کی وہ بیوی ہے اس کو بھی پتہ نہیں چلنے دیا کہ کیسے بنایا کب بنایا، فرشوں کی نظر بھی نہیں پڑنے دی گئی، نہ ہی کائنات کی نظر پڑنے دی۔ پہلے دن سے اللہ نے ہماری ماں حضرت حوا ؑ کو پردے میں رکھ دیا۔ جب حضرت آدم کی آنکھ کھلی تو ایک مکمل وجود لباس میں ان کی الٹی طرف بیٹھا ہوا ہے۔ اللہ نے عورت کا الٹی طرف پیدا کیا جس طرف دل ہوتا ہے اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہ کہ عورت جس شکل میں بھی ہوگی اس کا مقام، درجہ دل میں ہوگا، چاہئے وہ بیٹی ہو ، بہن ہو، ماں ہو، دادی ہو ، نانی ہو یا خالہ پورے قرآن شریف میں حضرت مریم  ؑ کا ذکرنام لے کر کیا گیا ہے تاکہ پتہ چلے  کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے نہیں مریم  ؑکے بیٹے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی اچھی عورت ہو یا بری کسی کا بھی نام قرآن میں نہیں لیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عورت کے نام تک کو بھی پردے میں رکھا۔
ہم عورتوں کو جنہیں جانوروں جیسی عزت بھی نہیں دی جاتی تھی، ا للہ تعالیٰ نے حضور ؐ کے ذریعے دنیا کی ہر شے سے قیمتی بنادیا۔ ہم قیمتی چیزوںجیسےDiamond Goldکی نمائش گھروں میں سجائے یا بازاروں میں کھلم کھلا تو نہیں کرتے، انہیں بہت حفاظت سے سنبھال کے رکھتے ہیں کہ چوری نہ ہو جائے گرد و غبار گند وغیرہ نہ لگ جائے۔ کوئی خراش نہ آجائے۔ کسی غلط انسان یا بچے کے ہاتھ نہ لگے جائے، تو پھر اسلام نے عورت کو اگر چھپا کر ہر چیز سے اگر قیمتی بنایا ،اس نکتے پر ذرا ہم اپنے عقلوں سے غور کریں اور دل کو ٹٹولیں کہ اسلام پھر دقیانوس اور عورت پر ظلم و جبر کرنے والا مذہب کیسے ہوگیا؟
کیا گھر میں رشتہ دار بغیر اجازت آسکتے ہیں ؟ قریبی رشتہ داروں سے اسلام نے پردے کا حکم کیوں دیا ہے؟ اس کا جواب ایک یورپی ماہر نفسیات ڈاکٹر سٹیفن کلارک کے تاثرات سے ملتا ہے ۔ وہ اپنے بیان کرتا ہے کہ عورتوں اور مردوں کا اختلاط، بلاروک ٹوک ملنا جلنا، کزن کا گھر میں بلا روک ٹو ک آنا جانا،یہ تمام میری نگاہ و نظر میں غلط اور نقصان دہ ہے اور اس کا برااثر ہماری نسلوں تک جاتا ہے۔ میں عورت اور مردوں کے اختلاط سے عورتوں کو دوسرے مردوں کی طرف مائل دیکھا، میں نے اس اختلاط سے طلاقوں کی کثرت دیکھی، گھر اجڑتے دیکھے، برائیاں اور فحاشی کو بڑھتے دیکھا، خودکشیاں دیکھیں، عورتوں اور مردوں کو جیل جاتے دیکھا۔ اس سب کی وجہ گھروں میں بلا روک ٹوک آنا ہے۔ یوں ایک غیر مسلم نے پردے اور اخفاء چھوڑنے پر اتنے نقصانات گنوادئے جب کہ ہمارے رسول ؐ نے ہمیں یہ پردے کا تحفہ دے کر تمام برائیاں اور نقصانات سے بچایا۔
عورت ایک Attractionہے جس کی خوبصورت، نسوانیت، ادائیں ،اس کا چلنا، بیٹھنا، اٹھنا اور ہر چیز اپنی طرف راغب کرتی ہے۔ عورت مرد کو کسی Magnetکی طرح اپنی طرف کھینچتی ہے ۔یہ ایک Natural Processہے، یعنی ایک خدائی نظام ہے۔ جب یہی عورت بے پردہ ہ وکے غیر شرعی لبا س زیب تن کئے باہر نکلتی ہے تو بازاروں میں چلنے والے مرد اور جوان لڑکے ذہن پہ اثر منفی پڑتا ہے، عورت کی خوبصورتی مرد کو اپنی طرف راغب کرتی ہے اور ان کے جسم میںطرح طرح کے شیطانی وسوسے آتے ہیں اور شہوت و ہوس جنم لیتی ہے کہ دماغ کام کرنا بند کر دیتا ہے، اخلاق کی لگام چھوٹ جاتی ہے اور برائیاں جنم لیتی ہیں۔ آج کا لباس  ماڈرن ہے اورا سے پہننے سے ہمارے سماج میں برائیوں اورجنسی زیادتیوں کے واقعات کم ہونے کے بجائے بڑھ جاتے ہیں۔اس کی اصل وجہ یہی موجودہ دور کا ماڈرن  غیر شرعی لباس ہے۔ اس بے حیا لباس میں عورت اپنی خوبصورتی کا کھلم کھلا نمائش کرتی ہے۔ جہاں مرد حضرت اپنے دماغ، عقل و ہواس کھو کر غلط اور فحاشی کی طرف آمادہ ہوتے ہیں۔ مولانا ذوالفقار نقشبندی ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ میںریل میں سفر کر رہا تھا ایک آدمی میرے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ کہنے لگا کہ اسلام میں عورت اور مرد کے اختلاط ا ور بلا روک ٹوک ملنا جلنا منع کیوں ہے؟ آپ لکھتے ہیں کہ میں نے اس کو بہت دلائل سے سمجھایا مگر وہ نہیں مانا اور کہنے لگا کہ ہم خود کنٹرول کرسکتے ہیں ۔ میں چپ ہوگیا اور ایک لیموں نکال کر چوسنے لگا ۔وہ دیکھتا رہا۔ میںنے پوچھا کیا ہوا؟ کہنے لگا اتنی گرمی ہے ،آپ اکیلے لیموںچوس رہے ہیں، میرے منہ میں پانی آگیا۔ پھر میں نے کہا کہ جب تم اتنی چھوٹی سی چیز پر کنٹرول نہیں کرسکتے تو غلط لباس میں ملبوس عورت کو دیکھ کر خود کو قابو کیسے کرو گے؟
اسلام نے عورت کو احترام، پاس و لحاظ دیا جو شاید ہی کسی مذہب یا معاشرے نے دیا۔ ہم ذرا خود سوچیں کیا اسلام نے عورت کو بے پردہ ہونے کے بجائے پُر وقار لباس نہیںدیا ہے؟ کیا اسلام نے عور ت کو بازاروں اور منڈیوں کا مال بنا دیا؟ یا گھر کی روشنی، گھر کی عزت؟ کیا اسلام نے عورت کو محفل کی نمائش بنایا یا گھر کا اعزاز؟ آج ہمارے لئے جو یوروپ اور اس کی برہنہ فحش تہذیبrole modelبن چکی ہے، کیا عورت کو عزت یورپ نے دی یا اسلام نے؟ ہمارے لئے Role Modelہمارے رسول ؐ ہونے چاہئے ، آپ کے ذی وقار احکامات و احادیث اور سنت نبوی ؐ ہونی چاہئے ۔ ہم عورتوں کے لئے پیارے نبی ؐ نے کتنی قربانیاں دیں ، ہم  نے وہ سخت قربانیاں ،وہ انتھک کوششیں، وہ تکالیف اور آپ کی محبتوں کو بھلا دیا۔ ہم ذرا دیکھیں کہ آپؐ نے کیسے عورت کو اس کا مقام ومرتبہ دلایا،گھر کی عزت اور چراغ خانہ بنایا، باپ کی محبت سے فیض یاب کروایا، شوہر کے گھر کی ملکہ بنوایا، جائیداد میں حق دلوایا اور ہم نے اس سب کوبھول کر یوروپ کے برہنہ موحول کو اپنالیا ہے۔ کیا عورت سڑکوں پہ جھاڑو لگائے صفائی کرتے باعزت نظر آتی ہے؟ یا Public Bathroomکو صاف کرتے ہوئے اس کی عزت کو چار چاند لگ جاتے ہیں؟ یا ہزاروں میل اکیلے سفرکرتے ہوئے اسکی عزت محفوظ ہے؟ اسلام نے عورت کو گھر داری میں عزت دی اور جب یہی عورت گھر داری چھوڑ کر وہ باغیانہ اور احمقانہ مزاج اپنائے تو ذلت اور خواری اس کا مقدر بن جائے گی اوراس کی عزت خاک میں مل جائے گی۔ کیا ہمارے آج کی تاریخ میں یورپی خاتون ِمحفل ہماری رول ماڈل کوئی  باوقار وجود ہے ؟کیا وہ پرُسکون ہے؟ آخر وہ طلاق اور خودکشی پر مجبور کیوں ہو جاتی ہے؟
آئیں کچھ جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں جب پردہ دای کے جنازے نکلتے ہیں ،عزتوں کے جنازے نکلتے ہیں، مرد اور عورت کے آزادانہ ملاپ سے ہمارے سماج پر برے اثرات پڑتے ہیں ، اخلاقیات کا کفن دفن ہوتا ہے، اس سب سے ہماری صحت اور دماغ داری پہ کیا اثر پڑتے ہیں۔ ہمارا فیملی سسٹم تباہ ہو کے رہ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کے اعضاء الگ الگ بنائے مرد کے الگ بنائے، مرد کی شکل وصورت الگ عورت کی الگ، مرد کی جسامت الگ اور عورت کی الگ، اگر مرد اور عورت دونوں ایک ہی کام کے لئے بنائے گئے ہوتے تو پھر دونوں کو جسمانی طور پر الگ الگ پیدا کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ مرد کا مزاج اور دلچسپیاں الگ ہیں ، عورت کی الگ ۔مرد اور عورت دونوں کی صلاحتیںالگ ہیں ۔ مرد اور عورت دونوں کی صنفیں اللہ نے ایسی بنائی ہیں کہ دونوں کی تخلیقی ساخت اور بنیادی نظام جسم الگ ہے اور یہ کہنا کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں، یہ تو قدرت اور فطرت کے خلاف بغاوت ہے۔ اللہ نے مرد کی جسامت ایسی بنائی کہ وہ مشکل سے مشکل سخت سے سخت کام کرسکے، بوجھ اٹھا سکے۔ کیا یہ عورت کے ساتھ نا انصافی نہیںہے کہ اس کے آرام کیلئے اللہ نے اسے گھر کی ملکہ بنا دیا اور مرد کو گھر کے باہر دوڑ دھوپ میں مشغول رکھا چاہے گرمی ہو یا سردی، حالات مشکل ہوں یا آسان، وہ ہرحال میں عورت کو غذا سے لے کر زندگی کی ہر چیز میسر کرنے کا پابند ہے۔ اس عزت مآبی کے لئے ہم عورتیں اللہ کا شکر کرنے کے بجائے ،اس سامنے جھکنے کے بجائے کہ اس نے ہمارے ساتھ کتنی آسانی کا معاملہ کیا ہے ، آزادیٌ نسواں کے نام پر غلط جھانسوں میں آتی ہیں ، مساوات مردوزن کے فریب میں آتی ہیں، اللہ کے احکام کی بغاوت اور ناشکری کھلم کھلا کرتی ہیں۔ جب ہمارے گھر میں ہماری مائیں ہماری آسائش کا خیال رکھتی ہیں ،ہمار اسکول سے، کالج سے ، یونیورسٹی یا کی مدرسے سے واپس آنے پر ہمیں کام کے بجائے آرام کرنے کو کہتی ہیں تو کیا یہ ہماری مائیں ہمارے ساتھ محبت اور انصاف نہیں کر تی ہیں ؟کیا یہ ہمارے ساتھ ظلم ہے؟ تب ہم کوئی سوال کیوں نہیں کرتے؟ جب اللہ نے ہمیں آرام کی زندگی فراہم کرکے ہمارے ساتھ ماؤں کی صورت میں اتنے انمول احسان کا معاملہ کیا ہے تو اس کرم فرمائی پر کیا ہمیں سجدہ ٔ شکر بجا نہیں لانا چاہیے ؟
 مردوزن کو اپنے اپنے حدود کار میں آزاد چھوڑ کراللہ تعالیٰ دنیا کے نظام کو ایک مکمل ترتیب اور سسٹم کے تحت چلارہاہے ۔ اگر کسی نظام یا کام میں نظم و ضبط نہ ہو تو ہر طرف افراتفری مچ جائے گی۔ اللہ نے مرد کو باہر کی حکومت اور عورت کو گھر یلو حکومت دے کر ایک مکمل فیملی سسٹم بنایا ہے۔ گھر کا شعبہ عورت کو دیا کہ تم اسے جنت بنائو اور مرد کو گھر کے باہر کا شعبہ دیا کہ تم اس جنت کی زینت کے لئے کماکے لاؤ ، یہ دونوں شعبے ایسے ہیں کہ دونوں کو ساتھ لئے بغیر ایک متوازن اور متعدل زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔ جب دونوں کام ایک ساتھ ٹھیک چلیں گے تب زندگی خوشگورا ہوگی ورنہ نظام بگڑنے سے زندگی کا توازن ختم ہو جاے گا۔ مثال کے طور پر اگر ڈاکٹر کا کام انجینئر کرنے لگے تو کیا ڈاکٹری کا نظام چل پائے گا؟ اگر گھر کے کام کیلئے مرد کچن میں گھس جائیں گے تو کوئی کام ڈھنگ سے ہوگا؟ افراتفری اور انتشارمچ جائے گا۔ گھر کو ترتیب وتہذیب سے چلانے کیلئے کچھ لوگ کچن کا اور کچھ کچن کے باہر کا کام کرتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر چیز ترتیب سے بنائی ہے ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عورت مرد کے لحاظ سے جسمانی قوت میں کم ہے تو باہر کے کام محنت کا تقاضا کرتے ہیں قوت کا تقاضا کرتے ہیں، تو یہ عورت کے ساتھ نا انصافی کیسے ہوسکتی ہے کہ اس کے لئے جسمانی لحاظ سے اللہ نے اتنا ہی بوجھ ڈالا جتنا وہ برداشت کرسکتی ہے؟ آج کل آزادی اور ایمپاورمنٹ کے دھوکے سے عورت کو باہر نکالا جارہاہے مگر اس سے فیملی سسٹم تباہ ہو گیا ہے ، نتیجہ یہ کہ باپ بھی گھر سے باہر ،ماں بھی گھر سے باہر اور بچے سکول میں اور گھر پر تالا کہ سارا فیملی کا نظام تتر بترہ ۔ بچے ماں کی تربیت سے سیکھتے ہیں ، وہ اخلاق ماں سے سیکھتے ہیں، کردار اور زندگی گزارنے کے طریقے بھی اپنی ماں سے ہی سیکھتے ہیں لیکن آج معربی معاشرے میں بچے ماں باپ کی محبت سے محروم ہیں کیونکہ جس کے ذمہ بچوں کی تعلیم و تربیت اور گھر کا نظام ہے ، وہ اب گھر چھوڑ کر نام نہاد آزادی کے راستے پر آوارہ گردی سے چل پڑی ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں   مادیت کی پرودہ تہذیب کے نرغے میں آکر عورت( ماں ) ایک جگہ کا م کر رہی ہے،مرد ( باپ )دوسری جگہ کام کرکے تھکا ہارا گھر میں گھس جاتا ہے مگر گھر میں سوائے حسرت  اور خالی پن کے کچھ اور نہیں دیکھتا۔ اکثر وبیش تردونوں میاں بیوی کے درمیان کوئی ربط وتعلق نہیں رہتا کیونکہ ان کو ایک دوسرے کیلئے وقت ہے نہ مہلت۔ اس سے رشتے کمزور پڑ جاتے ہیں اور گھر ٹوٹنے بکھرنے لگتے ہیں اور کہیں کہیں فتنے جنم لیتے ہیں بلکہ نوبت طلاقوں پر آپہنچتی ہے۔اکیا س سے ہمارا فیملی سسٹم تباہ ہو کے نہیں رہ سکتا ؟آج کل  ہامرے یہاںجس طرح فیملی سسٹم تباہ وبرباد ہے ،اسی کا نتیجہ ہے کہ طلاق وخلع کے واقعات کثر ت سے بڑھ رہے ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک قانون بناکے یہ ایک منضبط سسٹم ہمیں دیا تھا، جب ہم نے اس کے طریقہ کار کو بے وقوفی سے تبدیل یا مسخ کر دیا اور آزادیٔ خواتین کے نام پر ٖصنف نازک کو سڑکوں پرلا کھڑا کیا ، تو نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے گھر تباہ ہو رہے ہیں۔ عورت کو گھر کی جو ذمہ داری سونپ دی گئی ہے وہ جب گھر سے باہر کی دنیا میں مست ومحو ہو تو اب گھر کو کون سنبھالے گا ؟ شوہر کام سے لوٹ کر بچے اسکول کالج سے مڑکر گھر آجائیں تو ان کو گھر کی مالکن گھر میں نہ دیکھ کر کیوںتکلیف محسوس نہ ہو؟ بچے تو سب سے پہلے ماں کو پکارتے ہیں مگر وہاں کون ان کی پکار کا جواب دے گاٹھہر میں آرہی ہوں ۔ آج اس ماں کے پاس باہر کے دھکے کھانے کیلئے فرصت ہیں مگر اولاد کیلئے نہیں۔ ایسے میں اگر  بے فکرامرد باہر اپنے لئے ذہنی آسائش یا عیاشی کے لئے غلط راہیں تلاش کرتا ہے ، ناجائز رشتے بناتا ہے، گھر میں اپنی شریک حیات سے لڑائی جھگڑے شروع کرتا ہے  اور نوبت طلاق پر پہنچ جاتی ہے تو اس بر بادی کا ذمہ دار کون ہے ؟ اس نوع کی بے اعتدالیوں سے میاں بیوی اور بچوں میں طرح طرح کی دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ ان کے درمیان پیار محبت کے لئے وقت چاہئے اور جب وقت میسر نہ تو گھر نفرت کی آگ میں جہنم کا نمونہ کیوں نہ بنے؟
 چلئے ہم خود اپنے گردونواح کا جائزہ لیں ۔ کیا ہم ایسی لڑکی سے اپنے بیٹے، بھائی کا رشتہ کریں گے جو ہر ایک لڑکے سے ہنسی مذاق اور اخلاق سے ماوراء اندا زِ گفتگومیں میں بات کرتی ہو؟ جس کے خدانخواستہ تعلقات کسی غیر محرم لڑکے سے ہوں ؟۔ ہم کو چاہئے خود کو کتنا بھی ماڈرن تہذیب یافتہ کہہ سکیں اور اسلام یا اسلام کی تعلیمات کو العیاذ باللہ کتنا بھی دقیانوسی کہیں مگر جب شادی کی بات ہوتی ہے تو ہمیں ایک شریف النفس، خوش اخلاق، دین دار لڑکی چاہئے۔ ہم میں سے کتنے ہوں گے جنہوں نے کسی آوارہ یا بدکار، پارٹیوں میں گھومنے والی لڑکیوں کو اپنایا ہو گا؟ ہم آج کل زور و شور سے وومنر ایمپاورمنٹ کا نعرہ لگاتے ہیں، میڈیا پُر جو ش انداز میں یہ کہہ کر اسلامی پردہ پر تنقید یں کرتا ہے کہ اسلام نے عورت کو کس طرح پردے میں قید رکھا ہے مگر کیا آج تک کسی ایسی دوشیزہ کو اپنایا گیا جس کے شادی سے پہلے بچے ہوں ؟ کیا آج کل  کسی این جی اونے کسی گھر میں لڑکیوں کو طلاق کی لعنت سے بچایا ؟ کتنی عورتوں کو جہیز کے نام پر سسرال والوں کی طرف سے تنگ طلب کیا جاتا ہے،ہمارا میڈیا نے کسی ماں باپ کو بیٹی کے گلے جہیز باندھ دینے سے بچا پا؟یہ سب لوگ بس باتیں بنانا جانتے ہیں،ان کے پاس عورت کے درد کا درماں نہیں ۔  ہمیں ان کی چکنی چپڑی باتوں سے ہوشیار رہنا چاہیے کیونکہ یہ ودسروں کی مان بہن بیٹی کو برباد ہونے کے سوا اور کوئی راہ نہیں دکھا سکتے۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ اگر ایک نوجوان غلط کاری اور اوباشی کے راستوں پر نکل پڑتا ہے تو وہ سب سے پہلے معصوم لڑکیوں کو اپنی بد نگاہی کا شکار بناکر ان سے غلط تعلقات جوڑنے کا دلدادہ بنتاہے ۔ اس کام کے لئے اسے پیسے کی ضرورت پڑتی ہے، گھر سے پیسے نہ ملیں تو وہ قمار بازی،چوری اور فراڈ کاموں پر اُتر آتا ہے تاکہ کسی کم نصیب لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلقات جوڑ کر یہ ہوٹلوںاور پارکوںشیطانیاں کرے ۔اسلام اس کو یہ کہہ کر روکتا ہے کہ ایک گناہ  کے ارتکاب سے لغزشوں کے سودروازے کھول کر اپنے آپ کو برباد نہ کر ۔ اپنے اوپر خوف الہٰی کی چادر اور اچھے کردار کا لباس لازم کر ، پھر زندگی میں کچھ اچھا کر پاؤگے ، ورنہ تباہی وبربادی تمہاری قسمت کی لکیر ہوگی اور شیطان چاہتا ہے کہ تم اسی کام میں لگے رہو ۔  بہر حال تحریک آزادی نسواں کے نام پر ہمارے نام نہادترقی یافتہ سماج نے عورت کو گھر سے نکال کر سڑکوں پر کھڑا کر دیا ، اسے دفتر وں میں کلرکی عطا کی ، دوکان کی سیلز مین شپ کا اعزاز بخشا ، اجنبی مردوں کی پرائیوٹ سکریٹری کا ’’اعزاز‘‘دیا،ماڈل ، رقاصہ ، داکارہ بناکے تجارتی شئے ہونے کا درجہ دیا ، اُس کے ایک ایک عضو کو بازار ی  گاہکوں کی حریص آنکھوں کے سامنے اِستادہ کیااور انہی گورکھ دھندوں میں پھنسا کر عورت ذات کو متاع کوچہ وبازار بنایا گیا اورلوگوں سے کہا گیا آئو ہم سے یہ مال مفت خریدو۔ اس کے برعکس اسلام نے عورت کو عزت، وقار ، سنجیدگی ،علم وحلم اور گھر گرہستی کا رتبہ عالیہ بخش کر اسے گھر کا چراغ ، عزت و آبرو کا تاج اور سماج کا ایک جیتا جاگتا نمونۂ بہشت بنا کے رکھا۔ افسوس کہ عورت نے اپنی کم مائیگی ، مردوں کی چال بازی اوربے پردگی سے اپنے اس  درجے کی عظمت ورفعت کو آزادی کے نام پر لتاڑدیا۔
آئیے! ذرا سوچیں ہم جو جدیدیت کے پر وردہ ہونے کے ناطےCulturedاور جنٹل ہونے کے زعم باطل میں مبتلا ہیں، یہ دیکھنے کی زحمت گوارا کریں کہ کیا ہم نے عورت کو گھر کی دہلیز سے نکال کر اور فیملی سسٹم کی پاک بازی سے کاٹ کرکے اس کا بھلا کیا یا بُرا کیا ؟ عورت کو بازاروں کی رونق، گلی کوچوں کی نمائش بناکر اس کی عزت کو بگاڑا یا بنایا؟ یااسلام نے اس کو گھر کی حکومت دے کر ، نسل انسانی کی ملکہ بنا کر، جائیداد کا حصہ دار قرار دے کر، شوہر، ماںباپ، بھائی چچا ، ماموںکی محبتوں اور نازونعم میں پال کر وومنز ایمپائور منٹ کی مثال قائم کی؟ کیاتہذیب جدید نے عورت کوحاصل یہ سارے امتیاز ات چھین کر عورت کے ساتھ ظلم وجبر نہیں کیا؟ عورتیں خود بھی اپنے آپ کا محاسبہ کریں کہ اسلام کے دئے ہوئے مقام عزت وآبرو کا احسا س کر تے ہوئے کیا وہ اپنی شرم وحیا اور نسوانیت کی حفاظت کر رہی ہیں؟سوچنے کا مقام یہ بھی ہے کہ گھر کی چارد دیواری میں عورتوں کو کیوں اپنے ماں باپ، شوہر اوربچوں کی خدمت کر نا غلامی کی زنجیر لگتی ہے جب کہ باہر باز ار، دفتراو رایوان میں اپنی غلامانہ تذلیل وتوہین سے شرم محسوس نہیں ہوتی ؟ انہیں گھرکو قید اور باہری دنیا کیوں آزادی کا پروانہ لگتا ہے ؟ دفتروں، کارخانوں اور دوکانوں میں کام کرنے میں کیوںخوشی محسوس ہوتی ہے اور اپنی رسوئی میں کھانا پکانا ذلت کی علامت دِ کھتی ہے ؟  بالفاظ دیگرہمیں اپنی نسوانیت اور آزادی کا اصل مفہوم ، اپنا اصل حدودکارا اور اپنی فطرت کاتجزیہ کرتے ہوئے سوچنا چاہئے کہ ہمیں اس بے پردگی وبرہنگی سے کیا حاصل ہورہا ہے؟
