صدر اسپتال میں زائد المعیاد ادویات کا سیکنڈل،گرفتار ملازمین کیخلاف8روز پولیس ریمانڈ،مزید گرفتاریاں متوقع

سرینگر //صدر اسپتال سرینگر میں زائدالمعیاد ادویات فروخت کرنے والے میڈیکل اسٹور کے انچارج سمیت دو ملازمین کو پولیس نے 8دنوں کی ریمانڈ پرلے کر بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کردی ہے۔ پولیس ذائع کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں زائدالمعیاد ادویات فروخت کرنے کے معاملے میں تحقیقات کو وسعت دی گئی ہے اور اسپتال میں دوائیوں کی خرید و فروخت سے جڑے تمام افراد سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ ادھر جی ایم سی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دونوں گرفتار شدہ ملازمین کو بدھ کوضمانت پر رہا کردیا جائے گا۔سوموار کو صدر اسپتال سرینگر کے میڈیکل اسٹور سے مریضوں کو زائد المعیاد ادویات فروخت کرنے کے سلسلہ کا بھانڈا پھوڑ ہونے کے پولیس کی طرف سے تحویل میں لئے گئے صدر اسپتال سرینگر کے میڈیکل سٹور کے انچارج اور فارمسسٹ کو پولیس نے 8دنوں کی ریمانڈ پر لیا ہے ۔ پولیس اسٹیشن کرن نگر کے ایس ایچ او مسیر اصغر نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا’’ پولیس نے دونوں ملازمین کو 8 دنوں کی ریمانڈ پر لیا ہے۔‘‘  انہوں نے کہا کہ پولیس نے صدر اسپتال کے میڈیکل سٹور سے جڑے تمام افراد سے پوچھ تاچھ کا سلسلہ شروع کیا ہے اور اسپتال کی پرچیزنگ کمیٹی کے ممبران کو بھی پوچھ تاچھکیلئے بلایا جائے گا۔ ادھر کالج انتظامیہ نے صدر اسپتال میں زائدالمعیاد ادویات فروخت کرنے کے سلسلے میں گرفتار کئے گئے دونوں ملازمین کی رہائی کیلئے کوششیں تیز کردی ہے اور اس سلسلے میں پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈاکٹر ثامیہ رشید نے پولیس اسٹیشن کرن نگر جاکر گرفتار شدہ ملازمین سے ملاقات کی ہے۔پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈاکٹر ثامیہ رشید نے بتایا ’’پولیس نے دونوں ملازمین پر فوج داری مقدمہ درج کیا ہے تاہم کالج کی جانب سے دونوں کی ضمانت کیلئے عدالت میں درخواست جمع کی گئی ہے اور اُمید ہے کہ وہ بدھ کو ضمانت پر رہا ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر ثامیہ رشید نے بتایا کہ صدر اسپتال کے درگ سٹور سے ڈرگ مافیا کو کافی نقصان پہنچا تھا اور وہ ہر ممکن کوشش کررہے تھے کہ ڈرگ سٹور کو 
بند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ Iopodimol (100ml)فراہم کرنے والی کمپنی نے خود بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہIopodimol (100ml) کی لیبلنگ میں انکی غلطی ہے۔ واضح رہے کہ پولیس نے سوموار کو  زائدالمیاد ادویات کی فروخت پر دو ڈاکٹروں سمیت چار افراد کو گرفتار کیا تھا ۔ پولیس نے اگر چہ ابتدائی پوچھ تاچھ کے بعد دو نوں سینئر ڈاکٹروں کو رہا کردیا تھا تاہم ڈرگ سٹور کے انچارج اور فارمیسسٹ کے خلاف کیس درج کیا ہے۔