صدرکوٹ بالا اجتماعی قتل واردات

 بانڈی پورہ//صدر کوٹ بالا میں 25 سال قبل ایک خاندان کے7 افراد کے اجتماعی قتل  ملوث اخوانی کو پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بانڈی پورہ محمد ابراہیم وانی نے سنٹرل جیل سرینگر جوڈیشل حراست میں بھیج دیا ہے۔ صدر کوٹ بالا میں 5 اکتوبر 1996 کو کوانٹرانسرجنسی سے تعلق  رکھنے والے تین افراد پر مشتمل سرکاری بندوق بردار جن کو عرف عام میں اخوانی کہتے تھے،نے غلام قادر کے گھر میں داخل ہوکر 5مرد اور 2خواتین سمیت کنبے کے سات نہتے افراد کو قتل کیاتھا۔ اس کنبے کا قصور یہی تھا کہ اس کنبے نے 1996 کے چنائو میں نیشنل کانفرنس کے امیدوار محمد اکبر لون کے حق میں ووٹ ڈالے تھے ۔غلام قادر کے وکیل ایڈووکیٹ بٹ شفیق نے بتایا ہے کہ پولیس نے ٹیرٹوریل آرمی کے نائیک سابق اخوانی ایوب ڈار ساکن ہاکبارہ سمبل کو 25سال بعد گرفتار کر کے سوموار کو پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد ابراہیم وانی کی عدالت میں پیش کیا۔ اس دوران ملزم کے خلاف ٹھوس دلائل عدالت مجاذ کے سامنے رکھنے کے بعد پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج موصوف نے  ملزم کوجوڈیشل حراست میں بھیج دیا ۔ ایڈوکیٹ بٹ شفیق نے کہا کہ 25سال قبل اس اجتماعی قتل عام کی نسبت سے مارچ 2019 کو اخوانی ولی محمد میر کو جوڈیشل حراست میں جیل بھیج دیا گیا جبکہ تیسرا ملزم جو سرغنہ تھا ،عبدلرشید پرے عرف رشید بلا کو 16 اپریل 2017کو نامعلوم مسلح افراد نے حاجن میں اپنے گھر کے قریب مارا تھا ۔صدرکوٹ بالا کے غلام قادر نے بتایا کہ ایڈوکیٹ بٹ شفیق کے ذریعے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں تحریری درخواست پیش کی ہے کہ اس اجتماعی قتل واقعے کے اہم ملزم ایوب ڈار جو ٹیرٹوریل آرمی میں بھرتی ہوا ہے، کی گرفتاری عمل میں لائی جائے ۔ عدالت نے پولیس کو گرفتاری کا حکم دیا اور پولیس نے اُسے گرفتار کر کے سوموار کو عدالت میں پیش کیا ۔