صدارتی انتخابات

 میڈیا میں ہمیشہ موضوعِ بحث بنا رہناوزیر اعظم مودی کوپسندتو ہے ہی ،بی جے پی اور آر ایس ایس بھی اس عارضے میں مبتلا ہیں ۔اِن کا کوئی بھی کام اورکوئی بھی اقدام ہو،اُس پر بحث ہونا لازمی ہے۔سیدھے کام کو بھی یہ یوں اُلجھا دیتے ہیںجیسے ’’اُلجھاؤ ‘‘ ہی ان کے نزدیک ہر درد کی دوا ہو۔اِس ’’اُلجھاؤ‘‘ سے فائدہ حاصل کر لینا بھی انہیں خوب آتا ہے ۔چونکہ اپنے اس چال میں یہ اب تک کامیاب ہیں، اس لئے’’ الجھاؤ ‘‘ کی سیاست کر ناانہیں بہت بھاتا ہے۔اس انوکھے طریق کار سے دائمی کامیابی ملتی ہے عارضی فائدہ، اس کاندازہ کرنا مشکل ہے۔بہر صورت صدارتی الیکشن کے حوالے سے یہ امر حزب اختلاف کی مختلف پارٹیوں پر منحصر ہے کہ وہ کیا چاہتی ہیں ؟اگر اُن کا منشا بھی وہی ہے جو بی جے پی اور آر ایس ایس کا ہے تو اس ملک کا تو خدا ہی حافظ ہے لیکن اگر وہ واقعتاً مخلص اور سنجیدہ ہیں کہ یک قطبی نظام اس ملک کا مقدر نہ بنے تو اُنہیں کھلم کھلا حزب اختلاف کا کردار نبھانا ہوگا،۔ورنہ موقع پرستی کے ناؤ میں سواری کر کے وہ اپنا بیڑا تو غرق کریں گی ہی ، ساتھ میںملک کو بھی کافی نقصان پہنچائیں گی۔
بی جے پی نے صدرِہند کے لئے’’ ظن وتخمین لگاتے رہو‘‘والی پالیسی کو اپنایا اور اپنے اکلوتے مگر نمایاں اتحادی شیوسینا تک کو بھی اس کی بھنک لگنے نہیں دی ۔شیو سینا چیف اُدھو ٹھاکرے سے ملاقات کے وقت بھی بی جے پی صدر امیت شا نے وہ نام ظاہر نہیں کیا، ورنہ نام کے اعلان کے بعد اُدھو ٹھاکرے نے جس طرح مخالفت کی ،وہ سامنے نہیں آتا۔اُدھو ٹھاکرے اور شیو سینا، بی جے پی کے نامزد رام ناتھ کووند کو صدارتی امیدوار ماننے سے انکاری تھے لیکن اسی بیچ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کووِندکی حمایت کر کے نہ صرف حزب اختلاف کا کھیل بگاڑدیابلکہ اُدھو ٹھاکرے کے لئے ایسے حالات پیدا کر دئیے کہ شیو سینا بھی کووِند کی حمایت کا اعلان کرنے پر مجبور ہو گئی۔اس کے ساتھ ہی اُن پارٹیوں کی حمایت ملنا شروع ہوگئی جو کسی نہ کسی طور پر بی جے پی سے پُر خاش رکھتی ہیں لیکن نتیش کمار کی شہہ پر وہ بھی حمایت کرنے کے لئے تیار ہو گئیں جن میں بیجو جنتا دل اہم ہے۔ بی جے پی نے اِس صدارتی انتخاب کو بھی قابلیت پر مبنی نہیں بلکہ ذات پر مبنی بنا دیا ہے ۔اس سے پہلے جتنے بھی صدور ہوئے ہیں دو ایک کو چھوڑ کر تمام کی قابلیت قابلِ رشک رہی ہے۔بی جے پی پانی پی پی کر جو کانگریس کو ذات پر مبنی سیاست کے لئے کوستی رہتی تھی ،اسی کو اپنا کر اپنا اُلّو سیدھا کر رہی ہے۔وہ سارا کام جو کانگریس کرتی رہی ہے وہی کام اور وہی طور طریقہ بی جے پی بھی اپنا رہی ہے ۔اِس تناظر میں اسے کانگریس کا ورژن-۲ ؍کہنے میں کوئی مضائقہ نہی۔اور کبھی بی جے پی اپنے لئے جو کہتی تھی کہ ’’وہ ایک مختلف پارٹی ہے‘‘ اِن ۳؍ برسوں میں اس نے اس مفروضے کو غلط ثابت کر دیاہے ۔
رام ناتھ کووند میری جانکاری میں ایک اضافہ ہیں ۔اس سے پہلے میں انہیں نہیں جانتا تھا،نہ ان کا نام ہی سنا تھا ۔ممبئی میں مقیم بہار کے چند افراد سے بات کرنے پر پتہ چلا کہ وہ بھی انہیںاِس اعلان سے پہلے نہیں جانتے تھے جب کہ وہ سب پڑھے لکھے اور سیاست پر نظر رکھنے والے افراد ہیں ۔یہ ہم تمام کی بے خبری تھی کہ حقیقت کچھ اور ہے ؟اب ہوا یہ کہ میڈیا والوں نے ان کے بارے میں معلومات جمع کرنا شروع کر دیں اور تب پتہ چلا کہ سب سے بڑی خصوصیت جو اُنہے وہ اُن کا آرایس ایس کا کارکن ہونا ہے۔ایل ایل بی اور وکالت ، کوئی خاص بات نہیں ہے کیونکہ اس طرح کے لوگ ہندوستان میں کروڑوں کی تعداد میں مل جائیں گے اور یہ کوئی قابلیت نہیں بنتی۔دوسری قابل ِذکر قابلیت ان کا دلت ہونا ہے ۔اِس دلت کارڈ کو بی جے پی آنے والے انتخابات میں استعمال کرنا چاہتی ہے جس سے ڈر کر نتیش کمار نے سب سے پہلے حمایت کا اعلان کیا ہے۔
کسی نے سوچا بھی نہیں تھاکہ نتیش کمار اس قدر موقع پرست ہو جائیں گے کہ حزب اختلاف اور حزب اقتدار کا فرق تک بھول جائیں گے ،وہ صرف اپنی کرسی بچانے کے لئے جب کہ اُن کی کرسی محفوظ ہے ۔وہ اپنی دانست میں مستقبل کا کھیل کھیل رہے ہیں لیکن انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ مستقبل کی تعمیر حال کی کارکردگی اور نتیجے پر منحصر ہے۔انہیں یہ بھی پتہ ہونا چاہے کہ مستقبل کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ حالات کیا کروٹ لیں گے ۔کیا انہیں پتہ تھا کہ جو عظیم اتحاد بہار میں بر سرِ اقتدار ہے اور جس کے مکھیا وہ خود ہیں ،کسی بھی طور ممکن تھا؟لیکن لالو یادو کی قربانی نے وہ کر دکھایا جو ناممکنات میں سے تھا۔نتیش جی کو کرسی تو مل گئی لیکن دنیا جانتی ہے کہ آر ایس ایس کی آئیڈیا لوجی کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے لالو یادو نے جو کردار ادا کیا ،وہ ایک نمونہ بن گیا اور اس میں نتیش کی کوئی کرامات نہیں ۔ نتیش کو لالو کا مرہونِ منت ہونا چاہئے اور عظیم اتحاد کا جو دھرم ہے اسے نبھانا چاہئے ۔صدرِ ہند کے لئے حزبِ اختلاف کا ایک بہترین اور قابلِ قبول امیدوار ہو ، اس کے لئے سب سے پہلے نتیش کمار ہی نے پہل کی تھی اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی سے ملے تھے۔حزب اختلاف کے امیدوار کے اعلان تک رُک جاتے تو ان کا کیا بگڑ جاتا ؟لیکن انہیں تو آلہ ٔ کار بننا تھا جو وہ فی الحال بن چکے ہیں اور حزب اختلاف کا کھیل بگارڑرہے ہیں۔
نتیش کمار اور ان کے حامی یہ کہہ سکتے ہیں کہ حزب اختلاف کو اپنا امیدوار پہلے ہی پیش کر دینا چاہئے تھا لیکن یہ بات کتنی بچکانہ ہوگی ۔ ہمیشہ سے یہ روایت رہی ہے جو صحیح بھی ہے کہ بر سرِ اقتدار پارٹی ہی اپنا امیدوار پہلے پیش کرتی ہے ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اتفاق رائے سے امیدوار طے کرلیا جاتا جو سب کے لئے قابل قبول ہو۔کچھ نام گردش کر رہے تھے مثلاً رتن ٹاٹا اورسوامی ناتھن وغیرہ۔ان ناموں پر کسی کو اختلاف نہیں ہوتا اور انتخاب کی نوبت ہی نہیں آتی لیکن بی جے پی تو زعم میں مبتلاہے،وہ اپنے سوا کسی کو قابلِ اعتنا سمجھتی ہی نہیں ہے اور کانگریس کو تو وہ کسی خانے میں بھی رکھنا نہیں چاہتی ۔لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈرملکارجن کھڑگے کا وہ بیان بی جے پی یاد رکھنا نہیں چاہتی کہ ’’حزب اختلاف میں اگر ایک بھی ممبر رہے تو بھی حزب اختلاف اپنا کام کرتا رہے گا۔‘‘لیکن خیر سے کانگریس کے تو ۴۴؍ لوک سبھا ممبر ہیں اور راجیہ سبھا میں بھی ممبروں کی تعداد خاطر خواہ ہے اور وہ اب بھی حزب اختلاف کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔
یو پی اے نے کانگریس کی قیادت میں صدر ہند کے لئے حزب اختلاف کا امیدوار ڈاکٹر میرا کمار کے روپ میں پیش کرکے صدارتی انتخاب کو دل چسپ بنا دیا ہے۔ڈاکٹر میرا کمار کو سب جانتے ہیں۔وہ ایک جانا پہچانا چہرہ ہیں ۔پڑھی لکھی خاتون ہیں ۔سیاست کا طویل تجربہ ہے۔اس کے علاوہ وہ ایک دلت بھی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور نتیش کمار کے لئے اب وہ یوں مسئلہ بن گئی ہیں کہ وہ بہار کی بھی ہیں ۔لالو یادو نے نتیش کمار سے اپیل کی ہے وہ میرا کمار کی حمایت کریںاور توڑنے والی طاقتوںکی سازش سے بچیں۔ایسا لگ رہا ہے کہ نتیش مان جائیں لیکن صرف اُن کے مان جانے سے کام نہیں بنے گا۔اگر کام بنانا ہے یعنی حقیقتاً کوئی کرشمہ ہوتے ہوئے دیکھنا ہے تو حزب اختلاف کے ان ۱۷؍پارٹیوں کے لیڈروںکو اپنی حیثیت سے زیادہ محنت کرنی ہوگی جس کی کمان سونیا گاندھی سنبھالیں۔ نتیش کے علاوہ بیجو جنتا دل، انا ڈی ایم کے کے دونوں دھڑوں (ممکن ہے کہ دیناکرن یہاں پر کام آئیں) سے بات کریں۔ٹی آر ایس اورایس آر ایس کانگریس وغیرہ کو اپنا ہم نوا بنائیں اور ہو سکے تو بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کے ناراض لیڈروںکو بھی اپنے خیمے میں لائیں اور میرا کمار کی جیت کا کرشمہ کر کے دکھائیں ۔ممکن ہے کہ شیو سینا بھی ساتھ ہو لے،کوشش کرنے میں کوئی ہرج نہیں ۔اگر ایسا ہو جاتا ہے تو سمجھئے بی جے پی کی ’چترائی‘ میں سیندھ لگ گیا اور پھر ملک کی سیاست کو ایک نئی کروٹ لینے سے کوئی نہیں روک سکتا جس کی اب نا گزیر ضرورت ہے۔ورنہ صرف امیدوار کھڑا کردینے سے کوئی بات نہیں بنے گی۔ 
 نوٹ :مضمون نگار ماہنامہ تحریرِ نو ،نئی ممبئی کے مدیر ہیں ۔۔۔رابطہ9833999883
