احمد اقبال ( اِکز )
بعض آوازیں شور سے نہیں، سکوت سے جنم لیتی ہیں۔ کچھ احتجاج نعروں کی گھن گرج سے نہیں، پیٹ کی خاموشی سے تاریخ کے اوراق پر ثبت ہوتے ہیں۔ جب ایک انسان اپنی زبان کے بجائے اپنی بھوک کو دلیل بنا لے، جب اس کے ہونٹوں پر خاموشی اور آنکھوں میں سوال ہوں تو اس کی ہر گزرتی ساعت آئین، اقتدار، جمہوریت اور سماج سب کے ضمیر پر دستک دینے لگتی ہے۔ بھوک ہڑتال دراصل جسم کی کمزوری نہیں، ایک نظریے کی قوت کا امتحان ہوتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک خالی تھالی، بھرے ایوانوں سے سوال کرتی ہے کہ کیا جمہوریت صرف ووٹ کا نام ہے یا آواز سننے کا بھی کوئی سلیقہ رکھتی ہے؟
سونم وانگچک کی جنتر منتر پر جاری بھوک ہڑتال کو بھی محض ایک شخص کے احتجاج یا ایک سیاسی واقعے کے طور پر دیکھنا شاید اس پورے منظرنامے کے ساتھ انصاف نہ ہو۔ یہ واقعہ بیک وقت کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، سوال احتجاج کے حق پر بھی، ریاست کی ذمہ داری پر بھی، اخلاقی قوت کی حدود پر بھی اور جمہوری اداروں کی افادیت پر بھی۔
دنیا کی سیاسی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بھوک ہڑتال ہمیشہ کمزور کا ہتھیار رہی ہے۔ آئرلینڈ کے بابی سینڈز سے لے کر ہندوستان میں مہاتما گاندھی، پوتی سری رامولو، انا ہزارے اور اب سونم وانگچک تک، بھوک کو احتجاج کی زبان بنانے والے افراد نے اپنے جسم کو میدانِ احتجاج میں تبدیل کیا۔ ان کے پاس ہتھیار نہیں تھے، مگر اخلاقی دباؤ پیدا کرنے کی صلاحیت ضرور تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بھوک ہڑتال محض سیاسی عمل نہیں بلکہ ایک اخلاقی مکالمہ بھی ہوتی ہے۔
تاہم ہر حقیقت کا ایک دوسرا زاویہ بھی ہوتا ہے۔ر یاست صرف اقتدار کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری کا دوسرا نام بھی ہے۔ اگر کوئی شہری مسلسل فاقے کی وجہ سے زندگی کے نازک مرحلے میں داخل ہو جائے تو حکومت کے سامنے ایک پیچیدہ آئینی اور اخلاقی سوال کھڑا ہو جاتا ہے۔ کیا وہ شہری کی خودمختاری کا احترام کرے یا اس کی جان بچانے کے لیے مداخلت کرے؟ اگر مداخلت کرے تو اسے جبر کہا جائے گا اور اگر خاموش رہے تو بے حسی کا الزام اس کے حصے میں آئے گا۔ یہی وہ باریک لکیر ہے جہاں آزادیٔ اظہار اور ریاستی ذمہ داری ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو جاتی ہیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جدید میڈیا کے دور میں احتجاج کی نوعیت بدل چکی ہے۔ آج کسی بھی تحریک کی کامیابی کا انحصار صرف اس کے مقصد پر نہیں بلکہ اس کی بصری کشش، سوشل میڈیا کی رفتار اور سیاسی بیانیوں پر بھی ہوتا ہے۔ چند ہی دنوں میں اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور شخصیت موضوعِ بحث بن جاتی ہے۔ لوگ یہ پوچھنے لگتے ہیں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط، جبکہ اصل سوال — جس کے لیے احتجاج کیا گیا تھا — خاموشی سے خبروں کے ہجوم میں گم ہو جاتا ہے۔
جمہوریت کا حسن یہ نہیں کہ اس میں اختلاف ختم ہو جائے بلکہ یہ ہے کہ اختلاف کو جگہ ملے۔ مگر جمہوریت کی مضبوطی اس بات میں بھی مضمر ہے کہ فیصلے سڑکوں کے دباؤ اور ایوانوں کی ضد، دونوں سے محفوظ رہیں۔ اگر ہر مطالبہ بھوک ہڑتال کے ذریعے منوایا جانے لگے تو پارلیمان کی معنویت متاثر ہوگی اور اگر ہر پُرامن احتجاج کو انتظامی کارروائی سے ختم کیا جائے تو شہری آزادیوں کا مفہوم کمزور پڑ جائے گا۔ ایک بالغ جمہوریت انہی دونوں انتہاؤں کے درمیان اپنا راستہ تلاش کرتی ہے۔اس پورے واقعے میں شاید سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ سونم وانگچک درست ہیں یا حکومت۔ بلکہ یہ ہے کہ کیا ہمارے جمہوری ادارے ایسے ہو چکے ہیں جہاں ایک شہری کو اپنی بات منوانے کے لیے اپنی جان کو داؤ پر لگانا پڑے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو یہ صرف ایک فرد کا المیہ نہیں بلکہ پورے جمہوری نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
احتجاج کی کامیابی صرف مطالبات کی منظوری میں نہیں ہوتی، بلکہ اس میں بھی ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دے۔ اگر ایک بھوک ہڑتال ہمیں آئین، آزادی، ذمہ داری، تعلیم، احتساب اور جمہوری اقدار پر دوبارہ غور کرنے پر آمادہ کر دے تو وہ محض ایک احتجاج نہیں رہتی، بلکہ ایک قومی مکالمہ بن جاتی ہے۔
تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ریاستیں طاقت سے چل سکتی ہیں مگر اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں اور اعتماد وہاں جنم لیتا ہے جہاں سوال پوچھنے والوں کو غدار نہیں، شہری سمجھا جائے، جہاں اختلاف کو دشمنی نہیں جمہوریت کی سانس تصور کیا جائے۔آخرکار، کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے بلند و بالا ایوانوں، وسیع شاہراہوں یا معاشی اعداد و شمار میں نہیں ہوتی، بلکہ اس ظرف میں ہوتی ہے جس کے ساتھ وہ اپنے اختلاف کرنے والوں کی آواز سنتی ہے۔ کیونکہ تاریخ اکثر یہ ثابت کرتی ہے کہ بعض اوقات ایک خاموش بھوک، ہزار تقریروں سے زیادہ گہرا سوال چھوڑ جاتی ہے۔
رابطہ ۔ 7006857283
[email protected]
����������������