صحافی عاقب جاوید کے ساتھ ناشائستہ سلوک

سرینگر//کشمیر ایڈیٹرس گلڈ نے سائبر سی پولیس منتظمین کے ہاتھوں صحافی عاقب جاوید کے ساتھ توہین آمین سلوک پر سخت غم و غصے اور تشویش کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ عاقب جاوید جو سرکاری طور پر ایک تسلیم شدہ صحافی ہیں کونئی دہلی کے ایک نیوز پورٹل پران کے نام سے شائع شدہ رپورٹ کی بنا پر طلب کیا گیا تھا۔ گلڈ نے آج یہاں جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی نیوز رپورٹ کی ذمہ داری پبلشر پر عاید ہوتی ہے نہ کہ رپورٹر پر اس لئے رپورٹر کو بلا کر جو طریقہ کار اختیار کیا گیا وہ جمہوری قدروںکے سراسر منافی ہے۔ااس سلسلے میں ویب سائٹ کی وساطت سے عاقب نے تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کو بلا کر اس کے ساتھ نہ صرف بدسلوکی کی گئی بلکہ اسے تھپڑبھی رسید کیا گیا ے۔بیان کے مطابق فون کال کی بنیاد پر ، سائبر سیل سے ، ویب سائٹ ایڈیٹر نے رپورٹ سے متعلق کئی باتوں کو تسلیم کیا اور فوراًہی ان کی تصحیح بھی کردی۔اس کے باوجود اگر اس رپورٹ پر مزید کوئی اعتراض تھا تو رپورٹر اور ویب سائٹ اخلاقی طور پر اس کی تصحیح کرنے کے پابند تھے۔کے ای جی سختی کے ساتھ اس اصول پر کاربند رہا ہے کہ نامہ نگار کسی بھی واقع کے بارے میں صرف اس کی تفصیلی جانکاری فراہم کرنے کے علاوہ اپنی طرف سے کوئی تبصرہ کرنے کا صحافتی اقدار کے مطابق مجاز نہیں ہے۔ اس لحاظ سے رپورٹر کاکردار غیر جانبدارانہ ہے لیکن افسوس کہ اس کے باوجود بھی مسائل پیدا ہوتے ہیں اور میڈیا ارکان ایسی زیادتیوں کے شکار ہوتے ہیں۔ چنانچہ کے ای جی حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایسی صورتحال پیدا نہ کریں جس میں میڈیا کے لئے غیر جانبداری اور پیشہ ورانہ اصولوں کے مطابق کام کرنا مشکل ہوجائے ساتھ ہی واقعات کا ریکارڈ باقی نہ رہے۔جموں و کشمیرسے شائع ہونے والے اخباروں اور ملک کے اندر اور بیرون ملک متنوع میڈیا کے لئے رپورٹنگ کرنے والے بشمول کشمیر میڈیا پیشہ ورانہ اہلیت کے مالک ہیں۔ اس لئے میڈیا کو جان بوجھ کر شکار بنانامعاشرے اور جمہوریت دونوں کیلئے نقصان دہ ہوگا
 

سائبر پولیس نے بے بنیاداورمن گھڑت قراردیا

سرینگر//سائبر پولیس کشمیرزون نے ان خبروں کوبے بنیاداور من گھڑت قراردیا ہے جن میں الزام لگایا گیاتھا کہ پولیس حکام نے کسی صحافی کے ساتھ ناشائستہ سلوک کیا ہے۔ایک بیان میں سائبر پولیس نے کہا کہ17ستمبر کو باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا کہ ایک نیوز پورٹل’’آرٹیکل- 14‘‘پر ’’دی رئیل بُلی :پولیس ان کشمیر کوسچن کشمیرٹوئٹر‘‘،شائع ہوئی ہے جس میں نامہ نگار نے غلط تفاصیل کے ذریعے ایک گمراہ کن تصویر کی عکاسی کی ہے ۔سرخی اور تصویر کچھ مواد کے ساتھ حقیقت سے دور تھے ۔کہانی کے ساتھ شائع ایک تصویر کو سائبر پولیس اسٹیشن کے طور دکھایا گیاتھا جوغلط ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سائبر پولیس اسٹیشن اکتوبر2019میں شیرگڑھی تھانے کی بالائی منزل میں قائم کیاگیا ہے۔مذکورہ نامہ نگار نے سائبر پولیس اسٹیشن کے کام کاج اور اس کے قیام سے متعلق عوام الناس کوغلط اطلاعات پہنچائی ہیں ۔ بیان کے مطابق 18ستمبر کو نامہ نگار کو سائبر پولیس اسٹیشن طلب کیاگیا تاکہ مضمون میں ذکر کئے گئے حقائق کوواضح کیاجائے اور19ستمبر کو مذکورہ نامہ نگار کشمیر پریس کلب کے کچھ سینئر صحافیوں کے ساتھ سائبر پولیس اسٹیشن پہنچا۔نامہ نگار نے مضمون میں غلطیوں کو تسلیم کیااوراعتراف کیا کہ اُسے سائبر پولیس کے کام کاج اور قیام سے متعلق کوئی علمیت نہیں ہے ۔اس کے علاوہ اس نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اس نے کبھی سائبر پولیس اسٹیشن کا دورہ نہیں کیا ہے ۔نامہ نگار اور اس کے ساتھ صحافیوں نے غلط تفاصیل کیلئے اظہار افسوس کیااوریقین دلایا کہ مضمون کی تصحیح کی جائے گی ۔اس پر نامہ نگار اور اس کے ساتھ صحافیوں نے ایس پی انچارج سائبر پولیس سے ملنے کی خواہش ظاہر کی اور انہیں تصحیح شدہ مضمون دکھایا اوراظہارافسوس کیا۔ بیان کے مطابق اس کے بعد وہ چلے گئے۔