ریاض// سعودی عرب نے صحافی جمال خاشقجی کے قاتلوں کو حوالے کرنے کے ترکی کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قاتل سعودی عرب کے باشندے ہیں لہٰذا ان پر قتل کا مقدمہ ان کے ملک میں ہی چلایا جائے گا۔ سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات اور پالیسیوں کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی رواں سال 2 اکتوبر کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں کی زینت بنے تھے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے۔ بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے اور پھر ابتدائی طور پر انکار کے بعد سعودی عرب نے ان کے قتل کا اعتراف کر لیا۔ سعودی اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ 59 سالہ صحافی جمال خاشقجی جھگڑے کے دوران مارے گئے۔ ادھر قتل کے بعد ترکی نے خاشقجی کے قتل کو سوچا سمجھا منصوبہ قرار دیتے ہوئے سعودی عرب سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ قتل میں ملوث 18 سعودی باشندوں کو ٹرائل کے لیے ترکی کے سپرد کرے۔ تاہم سعودی عرب کے وزیر خارجہ عدل ال زبیر نے ترکی کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جن افراد کو قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، وہ سعودی شہری ہیں، ان سے تفتیش سعودی عرب میں ہی ہوگی اور سزا بھی وہیں دی جائے گی۔ خاشقجی کے قتل پر امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس نے بھی سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے علاقائی سلامتی و استحکام پر اثر انداز ہونے کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ ایک سفارتخانے کے اندر صحافی کے قتل پر عالمی برادری کو بہت تشویش ہے۔ مناما میں فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی قوم عالمی اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اس سے علاقائی استحکام کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں جس کی اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ تاہم سعودی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ صحافی کے بہیمانہ قتل سے سعودی عرب اور امریکا کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے اور جلد ہی چیزیں معمول پر آ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، ہم سچائی جاننے کے بعد ذمے داران کو سزا دیں گے اور ایک نظام مرتب کریں گے تاکہ اس طرح کے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قاتلوں کی گرفتاری کے باوجود ابھی تک مقتول صحافی کی لاش کے بارے میں کسی قسم کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سعودی عرب سے مستقل لاش کے بارے میں بتانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قتل کے بارے میں ہمارے پاس منظر عام پر لانے کے لیے مزید کئی ثبوت ہیں لیکن سعودی عرب کو جمال خاشقجی کی لاش دکھانا ہو گی۔ یاد رہے کہ سعودی عرب نے قتل کے الزام میں 18 افراد کو حراست میں لیا ہے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر وہ قتل کے لیے خصوصی طور پر ترکی گئے تھے۔