صبر و رضا کےعظیم پیکر | سیدنا امام حسین ابن علی ؓ

دنیا میں حق و صداقت کی علمبرداروں کو ہر دور میں مصائب و آلام کی دشوار گزار وادیوں سے گزرنا پڑااوردعوت حق کی صدا جب بھی بلند ہوئی تو باطل مقابلہ پر آمادہ ہوا ہے۔ حق وصداقت کے مقابلہ میں باطل کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی ہے،دلائل کے میدان میں وہ ٹک نہیں سکتاپھر بھی باطل اپنے ظلم سے باز نہیں رہتا گویا حق وباطل کی یہ لڑائی شروع سے چلی آرہی ہے اور روز آخر تک جاری رہے گی۔
 واقعہ کربلا تقریباً چودہ سو برس پہلے کا ہے ۔مگر لگتا ہے کہ آج ہی ہوا ہے۔ اس طویل عرصے میں اُمت مسلمہ کے بڑے بڑے محققین ، فقہاءو محدثین اور علماءکرام نے واقعاتِ کربلا پر بے شمار کتابیں لکھیں اورآج بھی لکھی جارہی ہیںلیکن جب بھی واقعہ کربلا کا تذکرہ ہوتا ہے تو انسان کے آنکھوںمیںخون کے آنسو اُبل پڑتے ہیں۔ سیدنا امام حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت سے براہ راست دل متاثر ہوتا ہے اور ایسا تاثر ڈالتا ہے کہ سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت مزید بڑ ھ جاتی ہے اور اُن ظالموں کی نفرت دل میںبڑجاتی ہے جنہوں نے حق و صداقت کے علمبردار نواسۂ نبی آخرالزماںصلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسین ابن علی ؓ پر ظلم وستم ڈھائے ہیں۔
 یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بد بختی کسی ظالم حکمران کا مقدر بن جاتی ہے تو ان کے آنکھوں پر پردے پڑجاتے ہیں اور دل پر مہر لگ جاتی ہے، پھر اُن میںحق وصداقت دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہےورنہ کوفہ والوں کو بھی معلوم تھاکہ سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کون ہے۔مگربد بختی ان ظالموں کی مقدر بن چکی تھی جنہوں نے شہادت حسینؓ میں حصہ لیا ۔ میدان کربلا میںسیدنا امام حسین ؓ کے لئے تمام مصیبتوں سے بڑھکر مصیبت یہ تھی کہ آپؓ نے اپنی آنکھوں سے اپنے بھائیوں ، بیٹوں اورجانثار ساتھیوں کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ۔ واقعہ کربلا نے حق اور باطل کے درمیان کبھی نہ مٹنے والی وہ تاریخ رقم کی جس کی مثال تاریخ عالم میں کہیں نہیں ملتی ہے، جو قیامت تک اندھیرے اور اجالے میں فرق کرتی رہے گی اورباطل یزید کا تذکرہ ایک ظالم اور جابرکے طور ہوتا رہے گی۔ میدان کربلا میںحق و صداقت کے علم بردار نواسہ رسول ِ ﷺ سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عمل سے ایک ایسی شمع روشن کی جس کی روشنی سے قیامت تک حق پرستوں کے قافلے آگے بڑھتے رہیں گے۔عصر حاضر میںاسلام کے نام پر اسلام کی بیخ کنی کی جارہی ہے اور حق پرستوں پر ظالم وجبر لوگ حاوی نظر آرہے ہیںکیونکہ جو لوگ اسلام دشمن ہیں انکے ہم ہی آلہ کار بن جاتے ہیں جو ہمیں سمجھ نہیں آتا ہے۔خانوادہ رسولؐ نے میدانِ کربلا کو جو مقام و مرتبہ اور عا لم اسلام و عالم انسانیت کو جو سوچ و فکر عطا کی ہے، اس فلسفہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ واقعہ محض داستان نہ رہے بلکہ ایک ابدی حقیقت کے طور پر سمجھ میں آجائے۔ واقعہ کربلا کے اندر دو فلسفے آپس میں ٹکراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک طرف یزید کا فلسفہ اور سوچ و فکر تھی اور دوسری طرف سیدناحسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فلسفہ اور سوچ و فکر ہے۔ اسی فلسفہ اور سوچ و فکر کی بناءپرسیدنا حسینؓکے نظریہ و فلسفہ کو ’’حسینیت‘‘ کا نام دیا جاتا ہے اور یزیدکا فکر و فلسفہ ’’یزیدیت‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
واقعۂ کربلا کے پسِ منظر میں یزید کی سوچ و فکر یہ تھی کہ طاقت ہی حق ہے یعنی جس کے پاس طاقت ہے وہ حق پر ہے۔ اسی کی پیروی، تابعداری اور معاونت کی جائے اور اس سے ہر صورت سمجھوتہ کرتے ہوئے اس کا ساتھ دیا جائے۔ گویا طاقت کی تائید کرکے اور اس سے تائید لے کر زندگی گزاری جائے۔
یزید کی اس فکر کے برعکس سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ علیہ کی سوچ و فکر یہ تھی کہ طاقت حق نہیں بلکہ حق ہی طاقت ہے۔ لہٰذا نہ تو طاقت کی پرستش کی جائے اور نہ ہی اس کا ساتھ دیا جائے،صرف حق کا ساتھ دیا جائے۔ حق کا ساتھ دیتے ہوئے اگر طاقت علمبردارانِ حق کو کچل بھی دے، تب بھی یہ گھاٹے اور خسارے کا سودا نہیں بلکہ اس صورت میں راہِ حق کے مسافر زندہ و جاوید ہوجاتے ہیں۔
حدیث مبارکہ کی رو سے رسول اللہ ﷺنے برائی کے خاتمہ کے درج ذیل تین معیار مقررکئے۔بُرائی کو ہاتھ سے روکنا، بُرائی کے خلاف آواز بلند کرنا،اوربُرائی کو دل سے بُرا جاننا۔رسول رحمت ؐ نے برائی کے خاتمہ کا تیسرا درجہ اور پیمانہ بھی دیا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو مفاد کی طاقت کے آگے کمزور پڑ جائیں گےاور زبان سے للکارنے کی ہمت بھی کھو بیٹھیں گے۔ کئی لوگ مالی مفاد کی وجہ سے باطل کے آگے کھڑے نہیں ہوسکیں گے اور نہ انہیں زبان سے حق بات کہنے اور بُرائی کو بُرائی کہنے کا حوصلہ ہوگا۔ 
اس تیسرے درجے پر عمل کرنے کے حوالے سے فرمایا:’’یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے‘‘یعنی اس کے بعد ایمان کی اور کوئی کمزور ترین حالت نہیں ہوسکتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درجہ کو بھی ایمان سے خارج نہیں کیا۔ بُرائی کے خاتمہ کے لیے جدوجہد کے انتہائی نچلے درجہ کے بعد جو درجہ آتا ہے، وہ طاقت سے ٹکرانے، زبان سے للکارنے اور دل میںبُرا جاننے کے بجائے ظالم کے ساتھ مل جانا ہے یعنی بدی اور ظلم و جبر کا ساتھ دینا، اضعف الایمان سے بھی نچلا درجہ ہے۔ ایمان کی شرعی، اعتقادی، اصولی اور فنی بحث سے قطع نظر اس درجہ میں تو عملی ایمان کی کوئی شکل ہی نظر نہیں آرہی ہےکیونکہ ایمان کی آخری لائن پر آنے کا مطلب ہے کہ عملی ایمان کے حوالے سے صفر پر آجانا، اس کے بعد پھر منفی گنتی شروع ہوجاتی ہے۔(ماخوذ)
جب سے اُمت اور ہمارے معاشرے میں فرقہ واریت آئی ہے اور اس کا غلبہ ہوا ہے، ہم نے اپنے درمیان بُری تقسیم کر رکھی ہیں۔ مسلک کے نام پرہر طبقہ عاشوراکو اپنے اپنے انداز کے ساتھ مناتا ہے۔ سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی ایک طبقے کے نہیں بلکہ سردار دوعالمؐ کے نواسے ہیں،سیدنا حسین ؓ اسلام کے ہیں، سیدنا حسین ؓ دین ِمصطفویؐ کے ہیںاور کسی ایک مکتبِ فکر کے نہیںہیں بلکہ سیدنا حسینؓ ہر ایک کے ہیں۔
دس محرم ۱۶ ہجری کا شام کربلا کی زمین جوآل رسولﷺ کے خون سے رنگین ہوئی ۔یہ شام انددہ ناک شام ہے۔یہ ایسے دن کی شام ہے جو پھر کبھی نہ ہوگی۔ یہ اسلام ہی کی نہیں انسانیت کی تاریخ میں رہتی دنیا تک وہ شام کہلائے گی جو ظلم وجفا اور صبر ورضا کی لامثال یاد دلاتی رہے گی۔ یزیدیت کی تاریکی میں حسینیت کا اُجالا کرنے والی یہ شام صفہ دہر پر کبھی نہ مٹنے والاوہ نقش اور ایسی ساعت ہے جو حق و باطل اور اندھیرے و اُجالے میں فرق کرتی رہے گی کیونکہ نا م حسینؓ عظمتوں،رحمتوں اور برکتوں کا امین ہے۔شام کربلا آل رسولؐ کی حقانیت ،ایمان ،اسلام ،حق وصداقت جرأت و شجاعت، عزت و استقامت اور سعادت کا باقی رہنے والا عنوان ہے۔میدان کربلا میں نواسہ رسولؐ سیدنا حسین ابن علیؓنے عزیمت واستقامت کی وہ مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک مقدس ، زند ہ وجاوید یادگا ر اور قابل تقلید رہے گی ۔ امام حسین ؓو دیگرشہدائےکربلانے اپنے مقدس خون سے گلشن اسلام کی آبیاری کی ،اسلام کی حق و صداقت کی گواہی دی اور دین کو اپنے اصل پر باقی رکھا۔
شہادتِ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیغام یہ ہے کہ حق و باطل کے وہ دو فکر و فلسفے جن کا آغاز امام عالی مقام کی عظیم الشان شہادت سے ہوا ہے، وہی دو فکر و فلسفے آج تک چلے آرہے ہیں۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں ان دو فکرو فلسفہ میں سے کس کا ساتھ دینا ہے۔ ایک سوچ و فکر یہ ہے کہ ڈر کر اور خوفزدہ ہوکر مفادات کی خاطر یزیدیت کے تابع ہوجائیں۔حالانکہ قیامت کے دن ان مفادات میں سے کوئی بھی مفاد کسی کام نہیں آئے گا۔ یزیدیت سے دوستی قیامت کے دن کام نہیں آئیگی ۔ قیامت کے دن سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہی محبت کام آئے گی اور حسینیت کا کردار قیامت کے دن شفاعت بن کر غلامانِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سروں پہ سایہ فگن ہوگا۔
  یہ حقیقت ہے کہ حضرت امام حسینؓ اور حضرت زینبؓ کا سا صدمہ کسی نے نہیں اٹھایا ہے۔ یہ انہیں کا صبرواستقلال تھا جو عطا ئے الٰہی تھا۔
 اللہ ہمیں شہادتِ امام حسین ؓ سے سبق حاصل کرنے اور حق و صداقت پر چلنے کی توفیق نخشے۔ آمین
اوم پورہ بڈگام 9419500008