شیطانیت۔انسان مابین شیطان!

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اے ایمان والو! تم شیطان کے قدموں پر نہ چلو اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گا تو وہ اُس کو بے حیائی اور بُرے ہی کام کرنے کو کہے گا‘‘۔( سورۃ النور۔ آیت 21 ) اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ایک اور جگہ آدم علیہ السلام کو یاد دلاتے ہوئےفرماتا ہے۔’’ کیا میں نے پہلے ہی نہ کہا تھا، اس درخت کے پاس نہ جانا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے وہ تم کو ورغلا کر جنت سے نکلوائے گا‘‘ ۔ آدم کی لغزش کے بعد اللہ تعالی نے اُسے جنت سے کچھ مدت کے لئے دست بردار کردیا بعد ازاں آدمؑ، اللہ تعالیٰ کے ہاں پشیمان ہوئے اور قیامت تک اُس کے اولاد ایک خاص مقصود کی حیثیت سے دنیا میںبھیجی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ازل تا ابد ابلیس کو ملعون قرار دیا ہے ۔اس سبب کے کہ اس کے فخر، کبر، تکبر، حسد و انانیت نے اُسے باغی و سرکش بنایا تھا ۔ ہر قسم کا منفی پروپیگنڈہ از طرفِ شیطان ہوتا ہے، اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دنیا و آخرت دونوں کو تباہ و برباد کرنا۔ ہر چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا گناہ کرنا شیطان ہی کی اتباع ہے۔ شیطان کے وساوس و شبہات کے مطابق چلنا ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ شیطانیت کس بلا کا نام ہے اور کس طرح انسان کوپھسلاتا ہے؟ شیطان ایک غیر محسوس شٔے کا نام ہے، جو اپنے اندر بُرائیوں کا طوفان لئے ہوئے ہیں ،جو انسان کے وجود کے اندر وساوس الہام کردیتا ہے، جس سے انسان کا وجودِ نفس اضطراری ہو جاتا ہے۔ شیطانیت ایک خفيہ ایجنسی کا نام ہے، جس کا Head of Department خود ملعون شیطان ہے ،جو سربراہ کی حیثیت سے اقدامِ عمل قیامت تک رکھنے کا عزم رکھتا ہے ۔ شیطان شعبدے و ہتھکنڈے اس طرح استعمال کرتا ہے کہ انسان کو یہ ظاہر نہيں ہوتا کہ شیطان اُس کے آس پاس رہ کر خفيہ پاليسياں بناتا رہتا ہے۔ اگر چہ شیطان انسان کو براہ راست اُکسانے کی طاقت رکھتا ہے لیکن اس کی زیادہ تر گفتگو اشاروں کی زبان میں ہوتی ہے، جس کو وساوس یا برے خیالات کہتے ہیں ۔ جیسا کہ قرآن نے کہا’’ وہ وسوس ڈالتا ہے لوگوں کے دلوں میں‘‘۔عام طور یہ مانا جاتا ہے کہ شیطان انسان کے دل میں گناہ کا وسوس ڈالتا ہے ،لیکن علماء اس کے علاوہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انسان کی فطرت میں پہلے سے اللہ تعالیٰ نے اچھائی و ب بُرائی، نیکی و بدی، گناہ و ثواب ودیعت کر رکھی ہیں ۔خالق کائنات نے فطری طور پر جو احساسات اور جذبات انسان کے اندر رکھے ہیں، اُن میں سے ایک اہم جذبہ حقيقت کو تلاش کرنے کا ہے۔ کوئی بھی بات سامنے آجائے ،اس کو جاننا، اس کے اسباب اور عوامل کو تلاش کرنا انسان کی فطرت میں ہے۔ قرآن اس حوالے سے فرماتا ہے۔’’ اور ہم نے دکھا دیئے اس کو دونوں راستے‘‘( سورۃ البلد آیت 10 ) یعنی انسان کو ہم نے دونوں راستے بتادئے ہیں کہ یہ برائی کا راستہ ہے اور یہ نیکی کا راستہ ہے اور انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ چاہے وہ اللہ کی اطاعت کرے یا شیطان کی ۔ ایک جگہ اور فرمایا ۔’’ ہم نے سیدھی راہ دکھائی، اب خواہ وہ شکر گزار بنے خواہ نا شکر ا‘‘۔(سورۃ الدہر آیت 3 ) گویا اس سے یہ معلوم ہوا کہ ہر وسوس شیطان کی طرف سے نہيں ہوتا بلکہ کچھ وساوس انسان کی نفسیاتی بیماری بھی ہوتی ہے۔ جس کے لئے ماہرینِ نفسیات کی طرف رجوع کرنا چاہیے نہ کہ ہر گناہ محض شیطان کی سَرڈالا جائے۔ شاید اسی لئے علامہ اقبال نے یہ شعر کہا تھا۔’’ ہنسی آتی ہے مجھے حسرتِ انسان پر، گناہ کرتا ہے خود لعنت بھیجتا ہے شیطان پر‘‘۔علماء کے ہاں یہ بھی آیا ہے کہ اگر تمام وساوس شیطان کی طرف سےہیں، پھر شیطان کو کس شیطان نے نافرمانی پر اُکسایا تھا ۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ شیطان کو خود کی نفس نے غرور و گھمنڈ پر اُکسایا تھا ۔معلوم ہوا کہ انسان کی نفس میں گناہ و ثواب کا علم ہوتا ہے اور شیطان کا کام صرف یہ کہ وہ گناہ پر اُکساتا ہے۔ شیطان کو خدا نے صرف بہکانے اور ورغلانے کی آزادی دی ہے، اس کو یہ طاقت نہيں دی کہ وہ کسی کو بزور گمراہی کے راستے پر ڈال دے۔ آخرت میں شیطان ان تمام الزامات سے بری الزمہ ہونے کا دعویٰ کرے گا کہ میں نے ان لوگوں کو گمراہ نہيں کیا تھا بلکہ وہ خود ہی گمراہی اور باطل کو قبول کرنے والے اور حق کے دشمن تھے ۔ سورہ ق میں آیا ہے کہ اس کا ہم نشین ( شیطان )کہے گا۔ ’’اے ہمارے رب! میں نے اسے گمراہ نہيں کیا تھا بلکہ یہ خود ہی دور دراز کی گمراہی میں تھا‘‘ ۔ اس کی تفسیر میں جسٹس تقی عثمانی فرماتےہیں کہ یہاں ہم نشین ساتھی سے مراد شیطان ہے، کیوں کہ وہ بھی ہر وقت انسان کو بہکانے کے لئے اسکے ساتھ رہتا تھا ۔کافر لوگ چاہیں گے کہ اپنے حصے کی سزا یہ کہہ کر اپنے سرداروں اور خاص طور سے شیطان پر ڈالیں کہ اس نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ اس کے جواب میں شیطان یہ کہے گا کہ میں نے گمراہ نہيں کیا تھا ۔اس طرح کے نوِشت قرآن نے متعدد مقامات پر رقم کئے ہیں ۔سنجیدگی اور غور و فکر سے سوچا جائے تو شیطان کا فریب شیطانی دکھائی نہيں دیتا،کیونکہ شیطان کا ہر فریب لذّتِ فریب ہوتا ہےاورہر فریب حسنِ فریب ہوتا ہے۔ ابلیس کا کمالِ فریب یہ بھی ہے کہ وہ اپنی تجلیٔ فریب کے ذریعے گناہ کی صورت کو خوشنما بناکر دکھاتا ہے اور انسان اس کے دھوکے میں آتا ہے ، اس کی طرف مائل ہوجاتا ہے اور گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔اللہ تعالی نے شیطانیت کی سازش کو جس طرح عیاں کیا، اسی طرح یہ بھی بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو wright and wrong کے اصول پر بنایا ہے۔ کون سیدھی راہ چلتا ہے کون بھٹکتی ہوئی راہ پر ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بخوبی واقف ہیں کہ بنی نوع انسان اگر چہ صحیح اور غلط کی تفریق جانتا ہے ۔ لیکن صحیح اور غلط کے مابین ایک شبہات کا پردہ حائل رہتا ہے، جس کی وجہ سے ایک انسان وقت پر wright and wrong کی تمیز نہیں کرپاتا ہے ۔چیزوں کے درمیان ایک دریافتی پہلو ہے ،اس کے بین elements of doubt کا عنصر موجود ہوتا ہے جو ہمیشہ دو چیزوں میں حائل رہتا ہے۔ ایک حدیث بخاری شریف میں کتاب الایمان میں یوں آیا ہے ۔’’ حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہات کا عنصر doubt موجود رہتا ہے‘‘۔ بنی نوع انسان کو چاہیے کہ وہ ان تمام شبہات کے پردے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیے ہوئے دعائی نسخوں اور عقل سلیم کی دریافت سے پھاڑے۔ متعدد احادیث میں آیا ہے کہ جب شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلبی مقصود ہو،توسورۃ الناس یا عوز بااللہ من الشیطان الرجیم کثرت سے پڑا کریں۔ شیطان کےزیادہ تر حملے قوتِ ایمان رکھنے والے لوگوں پر ہوتے ہیں۔ بے ایمان لوگ تو ویسے ہی نفس کے پجاری ہوتےہیں۔حاجی امداد اللہ مہاجر مکی مرحوم کے پاس ایک مرید آیا اور کہا میری نمازوں میں شیطان وسوس ڈالتا ہے، جس سے میری نمازوں میں خلل پیدا ہوتی ہے ۔ حاجی امداد اللہ نے اسے ایک دلچسپ مثال دی کہ چور اگر ڈاکہ مارے، کیا وہ مالدار کے گھر چوری کرے گا جو کثرت سے اثاثہ و پونجی رکھتا ہو یا فقير کے گھر ؟ مرید نے کہا وہ تو صاحبِ مال کے گھر چوری کرے گا۔ جواب میں مرشد نے کہا شیطان کے وساوس کی مثال بھی اِسی مثل ہے کہ وہ ایمان والے کے پاس وسواس ڈالنے آتا ہے نہ کہ بے ایمان والے کے پاس۔ نیکی کے کاموں میں سب سے زیادہ خلل شیطان کے اثر سے پڑتا ہے ۔ قرآن مجید میں اس کا علاج یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت سے پہلے اور تمام نیک کاموں کے اوقات یہ دعا پڑ لیا کریں ۔ اعوذ بااللہ من الشیطان الرجیم ۔’’ میں پناہ مانگتا ہوں اللہ تعالی سے شیطانِ مردود کی‘‘ ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنی نمازوں میں یہ دعا پڑھتے تھے۔’’ اللھم ارنا الحق ھقًا و ارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا و ارزقنا اجتنابہ و ارنا الأشياء کما ھی ‘‘۔اے اللہ تو ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا اور ہمیں اس کی پیروی کی توفیق دے اور ہمیں باطل کو باطل کے روپ میں دکھا اور ہمیں اس سے بچنے کی توفیق دے اور اے اللہ! تو ہمیں چیزوں کو ویسا ہی دکھا جیسے کہ وہ ہیں۔
(رابطہ ۔ 9906736886 )