غلام رسول سنتوشؔ (۱۹۲۹ء/ سرینگر) کی شہرت فکشن نگار سے زیادہ ایک مصوّر کی حیثیت سے ہے۔ اُن سے منسوب واحد ناول ’سمندر پیاسا ہے‘ (۱۹۶۴ء) میں انسان کے اندر موجود حرص و ہوس کو بڑی بے رحمی سے بے نقاب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حاجرہ، شکنتلا اور کلپنا ناول کے اہم کرداروںکے طور پر سامنے آتی ہیں، جن کو خود غرضی اور لذت کوشی کا روگ لگ چکا ہے۔
علی محمد لون (۱۹۲۶ء۔ ۱۹۸۷ء/ سرینگر) کشمیری اور اردو دونوں زبانوں کے شہرت یافتہ فکشن نگار اور ڈراما نگار ہیں۔ ان کے افسانوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ کشمیری زبان میں ان کی تصانیف متعدد ہیں، لیکن اردو میں ان کا واحد ناول ’شاہد ہے تیری آرزو‘ ہے، جو ان کے قیام دہلی کے دوران سرکاری عتاب اور دورانِ ملازمت ان کے تجربات و مشاہدات کے موضوع کو محیط ہے۔
وجے سوری (پ: ۱۹۴۲ء/ میرپور) نےا فسانوں کے علاوہ ناول بھی لکھے۔ ان کا ایک ناول ’ایک نائو کاغذ کی‘ ہے، جو طالب علم پال اور اس کی ہم جماعت طالبہ جوالا کی محبت کی کہانی پر مبنی ہے۔
وحشی سعید ساحل [اصل نام: محمد سعید] (پ: ۱۹۵۱ء/ سرینگر) نے افسانوں کے علاوہ ناول نگاری پر بھی اپنی توجہ مرکوز کی۔ ان کے دو ناولٹ: (۱) پتھر پتھر آئینہ (۲) ایک موسم کا خط پہلے ہی منظر عام پر آچکے ہیں، جن میں زندگی کے ہمہ رنگ پہلوئوں کی ترجمانی نظر آتی ہے۔
بھوشن لال بھوشن کے ایک ناول ’صرف پانچ ہزار‘ کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر سروری نے [جلد سوم: ص۲۴۶] لکھا ہے کہ اس میں اسیری اور غریبی کے فرق سے جنم لینے والی برائیوں کو ایک نوعمر لڑکی گلابی کی زندگی کے بیانیہ کی صورت میں اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
نورشاہ (پ: / سرینگر) ریاست کے سرکردہ افسانہ نگار اور ناول نگار ہیں۔ ان کے افسانوں کا ذکر اپنی جگہ آچکا ہے۔ یہاں پر ان کے ناولوں کے حوالے سے ان کی ادبی خدمات کا تذکرہ کرنا مقصود ہے۔ نورشاہ ایک ایسے حساس فنکار ہیں، جو ارضیت، عصری آگہی اور جدید حسیّت کے قائل ہیں۔ منصور احمد منصور کے الفاظ میں:
’’وہ یہاں (کشمیر) کی زندگی کے متنوع رنگوں کے فنکار ہیں۔ مفلوک الحال اور مجبور و مقہور لوگوں کی زندگی، ان کے خواب، ارمان، خواہشات اور رنج و غم ان کے فکشن میں خاص طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان کے ناولوں ’پایل کے زخم‘ اور ’نیلی کھیل کے کالے سائے‘ میں بھی یہی رنگ بکھرے نظر آتے ہیں‘‘۔ (مضمون: ’جموں و کشمیر میں اردو ناول‘، مشمولہ: ’شیرازہ‘ [جموں و کشمیر میں اردو ادب کے پچاس سال] ص:۱۸۴)
نورشاہ کے فکر و فن پر بہت سارے ناقدین نے اظہارِ خیال کیا ہے۔ پروفیسر قدوس جاوید ان میں سے ایک ہیں۔ ان کے ایک مضمون سے یہ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’نورشاہ کے فنی و جمالیاتی اور لسانی و فکری امتیازات اتنے روشن اور امکانات سے پُر ہیں کہ معاصر اردو افسانہ نگاروں میں غالباً چند ایک کو ہی نورشاہ کے مدِ مقابل رکھا جاسکتا ہے۔ نورشاہ کے اقتباسات پر غور کیجئے! یہ قلم سے وجود میں آنے والے مرقع ہی نہیں، دلِ پُر خوں سے ٹپکے ہوئے ایسے قطرے ہیں کہ ہر قطرے میں آج کے کشمیر اور کشمیری قوم کے کرب و اندوہ کا دجلہ دکھائی دیتا ہے۔ آج کے تناظر میں یہی نور شاہ کے انفراد و امتیاز کا پورا سچ ہے‘‘۔ (مضمون: ’نورشاہ: کشمیر کرب کہانی‘ مشمولہ ’شیرازہ‘ ج: ۵۲، شمارہ: ۸، ص: ۹۲)
نورشاہ کے ناولوں میں: (۱) پائل کے زخم (۲) نیلی جھیل کے کالے سائے (۲) آئو سوجائیں (۴) آدھی رات کا سورج (۵) لمحے اور زنجیریں وغیرہ شامل ہیں۔ ان کا تخلیقی سفر جاری ہے اور ان کے قلم سے مزید کئی ناول متوقع ہیں۔
آنند لہر [اصل نام: شام سندر آنند] (پ: ۱۹۵۱ء/ پونچھ) کے دو افسانوی مجموعے اور تین ناول پہلے ہی شائع ہوچکے ہیں۔ ان کے ناولوں میں شامل ہیں: (۱) اگلی عید سے پہلے (۲) سرحدوں کے بیچ (۳) مجھ سے کیا ہوتا۔ آنند کے افسانوں کی طرح ان کے ناولوں میں بھی اپنی دھرتی سے ان کی محبت و دلبستگی اور زمینی حقائق سے ان کی گہری وابستگی جھلکتی محسوس ہوتی ہے۔
عبدالغنی شیخ (پ: ۱۹۳۶ء/ لداخ) کی ادبی خدمات کا مفصل ذکر افسانہ اور تحقیق و تنقید کے ابواب میں ہوچکا ہے۔ موصوف نے ناول نگاری کی طرف بھی توجہ کی ہے اور تادم تحریر ان کے دو ناول منظر عام پر آچکے ہیں، جن کے نام ہیں:ؒ (۱) وہ زمانہ (۲) دل ہی تو ہے۔اگرچہ عبدالغنی شیخ کے تخلیقی کارنامے اس قابل ہیں کہ ان پر کسی یونیورسٹی کے شعبۂ۷ اردو میں باضابطہ تحقیق کرائی جائے، تاہم یہ بات عجیب ہے کہ ان کی افسانہ نگاری، ناول نگاری، تحقیقی و تنقیدی تحریروں اور ان کے تصنیفی کارناموں پر ابھی تک ناقدین نے خاطر خواہ توجہ نہیں دی ہے۔
جان محمد آزادؔ (پ: ۱۹۴۸ء/ سرینگر) کی افسانہ نگاری کا ذکر آچکا ہے۔ ان کے ناولوں میں اوّل تا آخر وطن عزیز کی کربناک تصویریں چھائی ہوئی ہیں۔ بقول پروفیسر منصور احمد منصور:
’’جان محمد آزاد کو ناول کے فن پر مکمل دسترس حاصل ہے۔ ان کا اسلوب اور لب و لہجہ بھی چونکا دینے والا ہے۔ وہ کہانی کہنے کا گُر جانتے ہیں اور اپنے گردو پیش سے اپنے ناولوں کا تانا بانا بُنتے ہیں‘‘۔ (مضمون: ’جموں و کشمیر میں اردو ناول‘، مشمولہ: ’شیرازہ‘ [جموں و کشمیر میں اردو ادب کے پچاس سال] ص:۱۸۶)
آزادؔ کے چار ناول: (۱) کشمیر جاگ اُٹھا (۲) وادیاں بُلا رہی ہیں (۳) برفیلے لمحوں کا جنگل (۴) شہر ملال کے ہم سفر پہلے ہی منظر عام پر آچکے ہیں۔ ان کے یہاں ارضیت اور عصری آگہی کے مظاہر ناولوں میں نمایاں ہیں۔ پروفیسر حامدی کاشمیری کے الفاظ میں: ’’جان محمد آزاد بیدار ذہن کے مالک ہیں۔ وہ گہرے شعور کے ساتھ اپنے گردوپیش کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں۔ بنیادی طور وہ ایک شاعر کے نازل احساس، خواب آفرینی اور نازک مشاہدے سے آراستہ ہیں، لیکن ان کا ذہن معاشرتی، تاریخی اور سیاسی حالات کے تجزیے پر اصرار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ناول سماجی، رومانی اور سیاسی فضا کا مشترکہ خاکہ بن کر ابھرتے ہیں‘‘۔ (’کشمیر جاگ اٹھا، [حرفِ اوّل] ص:۱۲)۔
زبان و بیان پر قدرت، اسلوب کی ندرت، لہجے کی جدّت، جذبے کی حدّت اور اپنے آس پاس کے زمینی حقائق کے شعور و احساس کی شدت نے جان محمد آزادؔ کو کشمیر کے ایک منفرد ناول نگار کی حیثیت سے نمایاں مقام عطا کیا ہے۔
شبنم قیوم (پ: ۱۹/ سرینگر) کا قدرے مفصل ذکر ان کی افسانہ نگاری کے ضمن میں آچکا ہے۔ وہ ایک کثیر جہتی شخصیت کے مالک تخلیق کار ہیں۔ وہ دو افسانوی مجموعوں اور تین ناولوں سمیت ایک درجن سے زائد ضخیم کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کے ناولوں میں شامل ہیں: (۱) جس دیش میں گنگا بہتی ہے (۲) زندگی اور موت (۳) چراغ کا اندھیرا۔ شبنم قیوم کو اپنے معاصرین میں یہ انفراد و امتیاز حاصل ہے کہ وہ ہمیشہ ہی تیز و طرار لہجے میں anti-establishment رہے ہیں۔ دارو رسن سے بے خوفی اور حق گوئی و بے باکی ان کا خاصا ہے، بلکہ یہ ان کا طرزِ حیات ہے۔ انہوں نے معاصر کشمیر کے غمناک واقعات اور کربناک حادثات کی سچے معنوں میں کامیاب ترجمانی کی ہے۔ تاریخ نگاری، افسانہ نویسی، صحافت اور ناول نگاری، ہر میدان میں انہوں نے اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔
ویریندر پٹواری (پ: ۱۹۴۰ء/ سرینگر) کی ایک درجن کے قریب تصانیف میں ان کا ایک ناول بھی شامل ہے۔ پٹواری کے موضوعات کشمیر کی مٹی سے ان کی محبت اور وطنِ عزیز کے مسائل سے ان کی دلچسپی کے عکاس ہیں۔
فاروق رینزو (پ: ۱۹۵۵ء/ سرینگر) کا ادبی سفر ان کے گریجویشن کرنے کے ایام میں شروع ہوا۔ ۲۴ سال کی عمر میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ڈوبتے کنارے‘‘ (۱۹۷۹ء) شائع ہوا۔ ۲۷ سال کی عمر میں ان کا پہلا ناول ’’زخموں کی سالگرہ‘‘ (۱۹۸۲ء) شائع ہوا۔ انہوں نے بعد میں اردو کے علاوہ کشمیری زبان میں بھی فکشن نگاری شروع کی۔ ان کا دوسرا ناول ’’کشمیر۔ جھیل جلتی ہے‘‘ ایک سماجی و اصلاحی ناول ہے۔ پہلے ناول میں ڈاکٹر منصور احمد کے بقول: ’’نئی نسل کی ناآسادگیوں، محرومیوں اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ نفسیاتی الجھنوں کو فنّی چابکدستی سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نہ جانے ان کی ناول نگاری کا سفر رک کیوں گیا؟
ترنم ریاض ( ۱۹۶۳ء-۲۰۲۱ء/ سرینگر) کی افسانہ نگاری، شاعری اور تحقیقی و تنقیدی کاوشوں کا تذکرہ متعلقہ ابواب میں ہوچکا ہے۔ ان کے ناولوں میں شامل ہیں: (۱) برف آشنا پرندے (۲) فریبِ خطۂ گل (۳) صحرا ہماری آنکھوں میں (۴) نرگس کے پھول (ناولٹ)۔ موصوفہ بیک وقت چار زبانوں کشمیری، اُردو، ہندی اور انگریزی پر عبور رکھتی ہیں اور چاروں زبانوں میں ان کا تخلیقی سفر جاری ہے۔ وہ عصری، آگہی اور جدید حسیّت کی فنکارہ ہیں اور ان کی منثور و منظوم تخلیقات میں اس کا اظہار جابجا ملتا ہے۔ ان کے ناولوں کا حال بھی یہی ہے۔ کشمیر کے عصری حالات کا کرب اور درد بھی ان کی تخلیق کاوشوں میں پنہاں ہے۔
دیپک کنول (پ: ۱۹۴۹ء/ بڈگام) کے پانچ ناول پہلے ہی منظر عام پر آچکے ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں: (۱) کشمکش [۱۹۷۱ء] (۲) تماشہ [۱۹۸۰ء] (۳) ترنگ [۱۹۸۴ء] (۴) نیا سفر [۱۹۸۵ء] (۵) درانہ [۱۹۸۸ء]۔ ان کی افسانہ نگاری کا ذکر آچکا ہے۔ افسانوں کی طرح ان کے ناولوں میں بھی وطن سے ان کی دوری کے باوجود کشمیر کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ وہ ایک بسیار نویس فنکار ہیں اور الیکٹرانک میڈیا کے لیے بھی لکھتے رہتے ہیں۔
شفق سوپوری(پ:۱۹۵۸ء/سوپور)نے شاعری،تنقید اور طنز و مزاح نگاری میں اپنا لوہا منوانے کے بعداچانک ناول نگاری میں ایسی جست لگائی کہ سب کو حیران کردیا ۔مشرف عالم ذوقی(مرحوم) نے اپنے ایک مضمون:’’اُردو ناول کی گم ہوتی دنیا‘‘میں اردو کے صف اول کے افسانہ نگارشفق کے بارے میں لکھا ہے:’’عہد حاضر کے دس بڑے ناول نگاروں کاتذکرہ ہو تو شفق کانام ضرور لیا جائے گا۔ ایک زمانہ تھا جب اردو میں ناول غائب ہوچکا تھا۔ 1980کے آس پاس شفق نے کانچ کا بازیگر لکھا۔ اور اردو جدیدناول کی دنیا میں ہنگامہ مچ گیا۔ شفق کے اس ناول کاآنا کسی دھماکے سے کم نہیں تھا۔‘‘ (مضمون:محولہ بالا)۔ذوقی نے تو سینئر شفق کی بات کی،راقم اپنے کشمیر کے شفق کے بارے میں یہی بات کہنے کی جسارت کرتا ہے کہ 2016ء کے آس پاس شفق سوپوری نے ’’نیلیما‘‘کو منظر عام پر لاکر ایک دھماکہ کردیا۔ سینئر شفق کے ناول سامنے آنے پر عصمت چغتائی نے لکھاتھا:’’شفق تمہارے پاس الفاظ کابڑا بھر پور خزانہ ہے؛الفاظ میں شعلگی ہے۔ اس قلم کی بے حرمتی ہوگی اوراگر تم اس وقت اگلا قدم نہیں اٹھائو گے ۔‘‘(بحوالہ مضمون:محولہ بالا)۔عصمت آپا کے بالکل یہی الفاظ ہم اپنے شفق سے مخاطب ہوکر دہرائیں گے۔کیونکہ سینئر شفق کی طرح اُن کے پاس بھی’’الفاظ کابڑا بھر پور خزانہ ….اور… شعلگی ہے ‘‘۔”نیلیما“ ڈاکٹر شفق سوپوری کے قلم سے پہلا ناول ہے،جوپانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ ناول نگار نے ہر باب کے لیے الگ الگ عنوانات مقرر کیے ہیں۔ ناول میں آدی واسی سماج کی تہذیبی، معاشی، معاشرتی اور مجلسی زندگی کو ایک خاص اسلوب میں کچھ اس انداز سے پیش کیاگیا ہے کہ آدی واسی معاشرہ اپنی تمام تر خوبیوں اور خامیوںکے ساتھ قاری کے سامنے چلتا پھرتا نظرآتا ہے۔ اس ناول سے شفق صاحب کو آناً فاناً اُردو کے بڑے ناول نگاروں میں جگہ مل گئی۔ اس کے بعد اُن کے دو اور ناول شائع ہوئے :’’فائرنگ رینج کشمیر:1990ء ‘‘اور’’دریا ہے چشم گریہ ناک‘‘۔اُن کا چوتھا ناول’’کھجلی‘‘ طباعت کے مرحلے میں ہے۔مختصر وقت میں چار ناول منظر عام پر لاکر شفق نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے،جو کشمیر کا کوئی ناول نگار نہ دے سکا۔
زاہد مختار (پ: ۱۹۵۶ء/ اسلام آباد کشمیر) کا ایک ناول ’’خوشبو کا سفر‘‘ آج (۲۰۱۶ء) سے ۲۴ سال قبل ۱۹۸۲ء میں زیورِ طباعت سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آیا تھا۔ ان دِنوں زاہدؔ۲۶ سال کے بانکے نوجوان تھے۔ نہ جانے بیتے ۳۴ برس میں ان کا کوئی اور ناول کیوں شائع نہ ہوا۔ ان کی شعری کاوشوں اور افسانہ نگاری کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ ناول نگاری کی جانب ان کی توجہ پھر سے مبذول ہوگی۔
عبدالرشید راہگیر [قلمی نام: رشید راہگیر] (پ: ۱۹۵۳ء/ لیہہ) کے ایک ناول ’احساس‘ کا نام لیا جاتا ہے۔ راہگیر آج کل صفا کدل سرینگر میں رہائش پذیر ہیں اور ان کےا فسانے مقامی ادبی رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔
چنداورنوجوان و معمر ناول نگاروں نے بھی گزشتہ برسوں میں ناول لکھے ،جن کا تذکرہ یہاں پر نہ کیا جاسکا۔ان میں شہزادہ بسمل بھی شامل ہیں،جو اسکول بورڈ میں ایک اعلیٰ عہدے سے سبکدوشی کے بعد علم و ادب کی خدمت میں ہمہ تن اور ہمہ وقت اپنے روزوشب گزار نے لگے۔چنانچہ ان کی شائع شدہ کتابوں کی تعداد اب نصف درجن سے زائد ہوچکی ہے۔جہاں تک اُن کے اسلوب کا تعلق ہے،بسمل صاحب کی تحریروں کا مطالعہ کرکے پتہ چلتا ہے کہ زبان و بیان پر قدرت،موضوعات کے انتخاب کی ندرت،عنوانات کی جدت، اسلوبِ نگارش کی انفرادیت، پیش کش کا بانکپن اور نایاب اشعار کا جابجابرمحل استعمال– بسمل صاحب کی فکشن نگاری کی چند نمایاں خصوصیات میں شامل ہے۔اُن کے دو ناولٹس(’چندا کی چاندنی‘ اور ’پیاسی ندیا‘) پر مبنی کتاب’’سوزِ بسمل‘‘100صفحات پر مشتمل ہے اورکشمیر میں اُردو ناول نگاری کے باب میں ایک خوشگوار اضافہ ہے۔اُمید ہےکہ بسمل صاحب کا رشتہ آئندہ بھی قرطاس و قلم کے ساتھ پائیدارو استوار رہے گااور اُن کے فکروفن کے شاہکار قارئین کی راہیں روشن کرتے رہیں گے۔جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے،بسمل صاحب کی جھولی بھری پڑی ہے، اُن کے کالموں، انشائیوں، افسانوں،ناولوں اور فکاہیات کے کئی مجموعوں کے مسودوں سے،جو ہنوز منتظرِ اشاعت اور تشنۂ طباعت ہیں۔اُن کایہ ادبی سرمایہ دبستانِ کشمیر کے اُردو ادب کے لیے گنج ہائے گراں مایہ اور قابل قدراثاثے کی حیثیت رکھتا ہے۔اللہ کرے کہ ان نایاب موتیوںکی اشاعت و طباعت کا انتظام جلد از جلد ہو جا ئے ۔(ختم شد)
(رابطہ۔9906662404 )