شہری ٹریفک پر پابندی تاناشاہی حکمنامہ

سرینگر // اتوار اور بدھ کو شہری ٹریفک پر پابندی کے خلاف چاڈورہ بڈگام سے آئے لوگوں نے پریس کالونی میں احتجاج کیا اور فیصلہ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔حق اطلاع تحریک کے سرگرم کارکن راجہ مظفربٹ کی قیادت میں چاڈورہ بڈگام سے آئے لوگوں نے سری نگر جموںشاہراہ پراتواراوربدھ وارکوشہری ٹریفک پرپابندی کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے کیا۔احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ کہ ریاستی سرکارکایہ حکمنامہ عوام کش ہے ۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف اقسام کے نعرے درج تھے۔احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ اب کشمیریوں سے چلنے پھرنے کی آزادی بھی چھینی جا رہی ہے جو قابل مذمت ہے ۔نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے راجہ مظفربٹ نے کہاکہ اگرسرکارکوفورسزاہلکاروں کی نقل وحمل کی اتنی فکرہے توکیابیماروں کااسپتال پہنچناضروری نہیں ،کیاطلاب کی تعلیم شاہراہ بندرکھنے سے متاثر نہیں ہوگی ۔انہوں نے پابندی کوتاناشاہی حکمنامہ قراردیتے ہوئے کہاکہ ہفتے میں دوروزکیلئے شاہراہ کوشہری ٹریفک کیلئے بندرکھنے سے کشمیرمیں تعلیمی ،کاروباری اورہرطرح کی عوامی سرگرمیاں بُری طرح سے متاثر ہونگی ،اسلئے اس بلاجوازآرڈرکوفوری طورپرواپس لیاجائے ۔احتجاجیوں نے اس دوران سرکار پر زور دیا کہ وہ اُس فیصلے کو واپس لیں کیونکہ اُس فیصلے سے پہلے سے ہی پریشان کشمیریوں کو مشکلات پیش آئیں گئیں ۔