شکایت ہے مجھے یارب خداوندانِ مکتب سے

کشمیری عوام نامساعد حالات اور زمانے کی ستم ظریفی دونوںکے یرغمال ہیں۔ہم لوگ سیاسی ،اقتصادی اور تعلیمی لحاظ سے یکساں طور یرغمال ہیں ۔ ہم ہر محاذ اور شعبے میں مردہ جانوروں کی مانند اندھے گدھوں کے سامنے بے حس وحرکت لاشیں ہیں۔ یہاںکبھی سکول کھولنے سے قیام امن کے دعوے کئے جاتے ہیں تو کبھی سکولوں کو مقفل کرنے سے امن اور شانتی کااعلان کیا جاتا جاتی ہے ۔ صحیح تر لفظوں میںہم بآسانی اپنے ابن الوقت اور آدم خور سیاست دانوں کے لئے مردہ جانور سے زیادہ اور کوئی حیثیت نہیں رکھتے اوریہ پچھلے ستر برس سے ہمارے جسم کی ایک ایک بوٹی اور ایک ایک ریشہ آرام سے نوچتے آرہے ہیں ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہاں کا دانشور طبقہ بھی آدم خوری کی آندھی میں بالکل ایسے ہی بہہ چکا ہے جس طرح عام آدمی۔ عام اور خاص دونوں اپنی بے بسی اور لاچاری کا رونا روتے ہیں لیکن عمل سب کا ایک جیسا ہے اور ایک ہی جیسی تنگ ذہنی اور کوتاہ نظری کو عملاکر دونوں اجتماعی شعور سے بیگانے ہوچکے ہیں ۔ میرے ناقص خیال میں وہ اقوام زندہ رہتی ہیں اور زندگی کا ثبوت دیتی ہیں جو اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر تعلیمی نظام کو سنبھا لادیتی ہیں اور اس  عمارت کو کسی بھی طرح نہ ڈَھنے دیتی ہیں اور نہ خود نظامِ تعلیم کو زمین بوس کرنے کی حماقت کر بیٹھتی ہیں، لیکن شاید ہم واحد قوم ہیں جس نے سب سے پہلے تعلیمی ڈھانچے کو حقیر مفادات کی خاطر زمین بوس کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے۔تعلیم وتعلم کی عظیم الشان اور اجتماعی فلاح کی بلند وبالا عمارت کی بیخ کنی میں نہ صرف خود ہمارے بعض استادوں نے گھٹیا رول ادا کیا بلکہ اس تخریب وتباہی کے وہ سیاست داں بھی ذمہ دار ہیں جنہوں نے کشمیری قوم کے ننگ و ناموس کا سودا کرکے کشمیری عوام کو لاوارث لاشے کی طرح کبھی اِدھر تو کبھی اُدھر پھینکا۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ ہے کہ ایک منصوبہ بند طریقے پر سرکاری تعلیمی اداروں پر تالے چڑھاکر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو عوام کے سروں پر مسلط ہونے کا دانستہ موقع دیا کہ دیکھتے دیکھتے کشمیری والدین اس نتیجے پر پہنچے کہ تعلیم کی اصل نیلم پری صرف پرائیویٹ اداروں میں محو رقص ہے اور ان عالیشان عمارتوں کی چار دیواری  سے ماوراء بچوں کی تعلیم وتربیت اور مستقبل کی کوئی گارنٹی کہیں نہیں ۔ یہ وہ مسلط کردہ سوچ ہے جس نے والدین کو پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی چوکھٹ پر بے بس و لاچار کیا ،ا نہیں کسمپرسی سے دو چار کیا اور استحصال  کے اُس دلدل میں لا پھینکا جہاں سے دہائیوں تک وہ نہ اپنے پیر باہر نکال سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی لوٹ کھسوٹ پر اپنی زباں کو حرکت دے سکتے ہیں ۔ نجی تعلیمی ادارے شاید پہلے سرمایہ داروں اور نمود پرستوں کے لئے کریز رہے ہوں لیکن اب یہ ادارے نہ تو کریز ہیں نہ نمائش ہیں اور نہ والدین کے لئے وجہ ٔ افتخار اور تسکین کا باعث بلکہ یہ سرکاری تعلیمی اداروں کے مقفل و عدم فعال ہونے اور ان میں مطلوبہ تعلیمی سرگرمیوں کا جنازہ اٹھائے جانے کا شاخسانہ ہیں ہے کیونکہ والدین کے پاس ان کا اور کوئی متبادل نہیں ۔ یہ بات پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان بہت اچھی طرح سمجھتے اور جانتے ہیں جن کی اکثر یت خود  نظریہ درس وتدریس ، تعلیمی ماحول اور تعلیمی نظام سے بے بہرہ بھی ہے اور ان میں کے بعض لوگ اَن پڑھ بھی ہیں ۔ ان کی خصوصیت صرف یہ ہے کہ انہوں نے پیسہ پھینکا ہے اور ایک ایسی بزنس میں ہاتھ ڈالا ہے جو ۹۰ فی صد پرافٹ کی ہر حال میں ضامن ہے ۔پچھلی ایک دہائی سے یہ نجی تعلیمی ادارے بے لگام گھوڑوں کی مانند اپنے راستے میں آئی ہوئی ہر شئے کو کچلتے چلے جارہے ہیں ، والدین کی کوئی دلیل نہیں سنتے ، متعلقین سے کوئی مد لل اور اطمینان بخش بات کرنا اپنی کسر شان سمجھتے ہیں اور کسی اچھے سجھاؤ اور بہترین صلاح بات کو ماننے یا جاننے پر تیار نہیں۔ نتیجہ یہ کہ سیلابی صورتحال سے متاثر ہوئے ، رگڑو تحریک نے ان کی کمائی کا کچھ نہیں بگاڑا اور سال ۲۰۱۶ء کی عوامی ایجی ٹیشن سے بھی یہ لوگ فیس اور دوسرے محصولاتی کاروبار بغیر کوئی کام کئے چلاتے رہے اور والدین کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ کے کروڑوں روپیہ اپنے بنک کھاتوں میں چڑھاتے رہے ۔ بچارے والدین ان سنگ دلوں سے اپنی کیابات منواتے؟ یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جس ٹروما سے کشمیری عوام گذر رہے ہیں، اس کے زیراثر عوام سے کسی شدید رد عمل متوقع نہیں ۔دوسری بات یہ کہ تعلیمی اداروں کو یہ ہمت اور حوصلہ ایسے منسٹروں اور اربابِ اقتدار سے حاصل ہوتی رہتی ہے جو سرکاری تعلیمی اداروں کوآرٹی سی ا ور دیگر کاپوریشنوں کی مانند ناکام کرنے میں ماہر ثابت ہوتے رہے ہیں ۔ ان کے مالی مفادات کسی نہ کسی طرح ان نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ وابستہ ہیں ، تب تو یہ منسٹر اور انتظامیہ کے کل پُرزے سرکاری تعلیمی اداروں کے بجائے ان نجی تعلیمی اداروں کی تعریفوںمیں رطب اللسان ہوتے ہیں ۔ افسوس کہ اب بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایجوکیشن منسٹر ایسے لوگ ہوتے جارہے ہیں جن پر کار نجار بدست ِگلکار صادق آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام نجی تعلیمی اداروں نے ایسے وزیروںکے ہوہاؤ کواولین ترجیح پررکھا ہے ،حالانکہ اصل ترجیح تعلیم کو ہونی چاہئے تھی ۔ لگ بھگ تمام پرائیوٹ تعلیم گاہیںاپنی کمپنی کی مشہوری کے لئے عجیب طرح کے بڑے بڑے چونچلوں کو نافذ کرکے والدین کو بے آرام راتیں تحفے میں دینے سے بھی گریز نہیں کرتے کیونکہ جب صاحب بہادر جیب میں ہو تو ڈر کاہے کا ؟ میرے سامنے دلنہ بارہمولہ میں دہلی کے ساتھ فرنچائز والے ایک تعلیمی ادارے کی مثال ہے جو تعلیم وتعلم سے زیادہ اپنی نت نئی چیزیں طلباء میں بیچنے میں  غیر معمولی دلچسپی کا اظہار کرتا جارہا ہے ۔ مانا کہ دوسرے تمام سکول بھی کاپی، کتاب ، یونیفارم ، ڈرائنگ مٹیریل سے لے کر ڈریس مٹیریل تک سب کچھ خود ہی تیار کرواکر اپنی دکانوں سے طلباء بیچ رہے ہیں ، لیکن لگتا ہے کہ پبلک سول دلنہ میں بس اب ایک ہی کمی رہ گئی ہے کہ مالکان صرف یہاں کے برانڈ بوٹ  کمپنی ابھی تک لگانہیں سکے ہیں ۔یہاں پچھلے دنوں ہی سپورٹس یونیفارم کی بات آگئی ، بچوں کے پاس پہلے سے ہی اسی سکول کی اچھی خاصی سپورٹس وردیاںتھیں جنہیں پچھلے سال ہی والدین نے خون پسینے کی کمائی سے خریدلیا تھا اور ہفتے میں ایک بار استعمال ہونے والی کوئی یونیفارم اتنی جلدی ناقا بل استعمال نہیں ہوتی جب کہ والدین کو ایک نہیں دو دو تین تین یونیفارم لا زماً رکھناہی پڑتے ہیں ، پھر بھی ادارے نے اپنے حکم کے تحت نئی سپورٹس یونیفارم ضروری قرار دی ،اگر چہ والدین نے اس فیصلے پر ادارے کے مالک اور پرنسپل صاحب سے عرض کی کہ وہ والدین کی مجبوریاں سمجھ لیں اور غیر ضروری طور ان کے تعلیمی اخراجات نہ بڑھائیں جو نامساعد حالات میں ان کے لئے بار گراں ہے ، مگر سب مغزماری بے سود ثابت ہوئی ۔ اس نوع کے تعلیمی اداروں میں کلاس ٹیچرز الگ سے بچوں پر ایسے اخراجات کے بوجھ ڈالتے ہیں جو قطعی طور غیر مناسب ہوتے ہیں ، چوتھی اور تیسری کلاس کے بچوں کو ہفتے میں ایک روز آرٹ کا پیریڈ رکھ کر طلبہ سیآرٹ کِٹ خریدوانا کیا معنی رکھتا ہے جو ساڑھے تین چار سو روپیہ سے کم میں کہیں نہیں ملتا ؟ اس طرح کے سینکڑوں ایسے اخراجات جو دن رات والدین کو پریشان کیوں نہ کریں؟ یہ بات اب پرانی ہوچکی ہے کہ نجی ادارے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو ایک بہت بڑا کتابی بیگ اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں جو ان کی عمر ،وزن اور قد سے بہت بڑا ہوتا ہے ۔ حیرت ہے کہ یہ کتابیں کب ، کہاں اور کس طرح پڑھائی جاتی ہیں جب کہ ان کا مصرف اس کے بغیر کچھ نہیں ہوتا کہ مالکان ان کتابوں کے کمیشن سے لاکھوں کی کمائی ہوجاتی ہے ۔اَن پڑھ تو ان پڑھ پڑھے لکھے لوگ بھی نجی تعلیمی اداروں کی اس لوٹ پر اتنی ہی بے بسی محسوس کرتے ہیں بلکہ میں نے خود ایک سکول کی ایک چھوٹی سی دکان پر جس کا کوئی بورڈ نہ تھا ، سے سپورٹس یونیفارم بیچے جاتے تھے اورکئی والدین سمیت سرکاری اساتذہ اور استانیاں واویلا کرتی تھیں  کہ اتنا پیسہ کہاں سے لائیں ؟ صرف ایک لمحے کے لئے ٹھنڈے دل سے سوچئے کہ کیا تعلیم کے نام پر نجی تعلمی ادروں کا یہ گورکھ دھندا پوری قوم خصو صاً ہمارے اونچے تعلیم یافتہ سرکاری اساتذہ اور معمارانِ قوم کے لئے تازیانہ ٔ عبرت نہیں کہ اچھی تنخواہوں اور مراعات کے باوجود وہ اپنے فرائض سے وفا نہیں کرتے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان سے کم تعلیم یافتہ ، کم تربیت یافتہ اورنام کے اساتذہ بشمول نجی تعلیمی اداروں کے خود غرض ولالچی مالکان کی طرف سے عام طلبہ وطالبات اور ان کے والدین کو چونچلے اٹھانے پر مجبور نہیں ہو نا پڑتا؟ خدارا ضمیر کی کھڑکی کھول کرجواب دیجئے !