شوپیان میں فورسز کے ہاتھوں طالب علم کی ہلاکت پر مزاحتمی تنظیموں کا شدید ردعمل

 سرینگر// حریت (گ)،لبریشن فرنٹ ،جماعت اسلامی ،اتحاد المسلمین،دختران ملت،جے کے ایل ایف(آر)فریڈم پارٹی ،نیشنل فرنٹ ،مسلم لےگ ،تحریک مزاحمت ،سالویشن مومنٹ سمیت کئی سیاسی اور مزاحتمی جماعتوں نے شوپیان میں نہتے شہریوں کے خلاف فوجی طاقت کے بلا جواز استعمال اور ایک معصوم طالب علم عادل فاروق ماگرے کی ہلاکت پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں فوج کو وسیع اختیارات دئے جانے کے بعدجاری قتل و غارت گری کی لہر کو مذیز بڑھاوا دیا جارہا ہے ۔ حریت (گ)نے ہلاکتوں کے بڑھتے ہوئے گراف اور شوپیان معرکہ کے دوران عام شہریوں پر فائرنگ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوج نہتے شہریوں کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعدمعصوم لوگوں کو اندھادھند طریقے اور انتقام گیری کے جزبے کے تحت راست نشانہ بنارہے ہیں اورحکام نے ریاست میں عملاََ جنگ کا اعلان کررکھا ہے۔عادل فاروق کے سوگوار خاندان سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معصوم کی جدائی سے ہم انتہائی رنجیدہ ہیں۔حریت بیان میں ریاست میں رواں قتل غارت کے لئے مقامی گماشتوں کو مورد الزام ٹھراتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ کلہاڑی کے دستے کے طور کام کرکے اپنی تنخواہ حلال کررہے ہیں۔حریت نے بھارتی سیاست دانوں اور حال ہی میںبھارتی وزیر راجو وردھن کے بیانات کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فوج کو قتل عام کے لئے کھلی ڈھیل دی جارہی ہے اور ایک طرف ہمارے جوان گاجر مولی کی طرح کاٹے جارہے ہیں اور دوسری طرف ہمیں ماتم کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ادھرلبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کی ہدایت پر ایک اعلیٰ سطحی وفد جس میں غازی جاوید بٹ،محمد الطاف رینہ،مدثر احمد اور حاجی غلام حسن شامل تھے نے شوپیاں جاکر عادل احمد ماگرے کے جنازہ اور تدفین میں شرکت کی اور بعدازاں ان کے گھر جاکر ان کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔اس معصوم بچے کے سفاکانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے فرنٹ قائدین نے کہا کہ قتل و غارت کا یہ سلسلہ بھارتی قیادت کے فسطائی اپروچ کا شاخسانہ ہے جس نے کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ کررکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف نے ہر کشمیری کو OWGقرار دے کر آرزو کی ہے کہ ہر کشمیری احتجاجی کے ہاتھ میں پتھر کے بجائے بندوق ہو تاکہ انکی فورسز کو انہیں قتل کردینے میں آسانی ہوجائے۔عادل احمد ماگرے کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ہم اپنے اس لخت جگر کی جدائی سے دل آزردہ ہیں اور ہمارے دل و آنکھیں اشک کنان ہیں ۔ ہم اپنے اس لخت جگر کےلئے اللہ تعالیٰ سے جنت اور ان کے غم زدہ لواحقین کےلئے صبر جمیل و جزیل کی دعا کرتے ہیں۔جماعت اسلامی نے کہا کہ گنوپورہ شوپیان میں جس طرح بھارتی فورسز اہلکاروں نے پُرامن احتجاج کرنے والوں پر طاقت کا بے تحاشا استعمال کرکے طالب علم کو زندگی سے محروم کیا اور دیگر کئی افراد کو شدید زخمی کردیا، اُس سے واضح ہوتا ہے کہ ان اہلکاروں کو حکومت ہند کی طرف سے کشمیریوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ ملی ہے جس کے واضح اشارات حالیہ ایام میں کئی بھارتی وزراءکے بیانات سے بھی ملے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ جماعت اسلامی اس ساری صورتحال کو انسانیت کش قرار دیتے ہوئے اقوام عالم سمیت انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتی ہے کہ یہاں کے عوام پر ہورہے ظلم و ستم کو رُکوانے کی خاطر مو¿ثر اقدامات کریں اور انہیں اُن کا بنیادی حق دلوانے میں ہر قسم کا تعاون کریں۔دختران ملت کی سیکریٹری جنرل ناہدہ نصرین نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں جان دینے اور عسکریت پسندوں کی حفاظت کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے گریز نہیں کرےں گے۔انہوں نے کہا کہ لوگ ماہ صیام مہینے میں بھی اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کرتے اور عسکریت پسندوں کو بچانے کیلئے میدان میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری وادی کشمیر میں طلبہ اس قتل کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں اور ان پر ٹیر گیس شلوں اور چھروں کی برسات کردیتے ہیں جبکہ اس دوران لڑکیوں کو بھی نہیں بخشا جارہا ہے۔جے کے ایل ایف ( آر ) کے سرپرست اعلیٰ بیرسٹر عبدالمجید ترمبو نے دہلی اور ان کے مقامی گماشتوں کو اس قتل عام کا ذمہ دار ٹھراتے ہوئے کہا کہ ان کی ناقابل فہم خاموشی لوگوں کے لئے سوہاں روح بن چکی ہے ۔انہوں نے بین الاقومی تنظیموں کو اس دلدوز واقع کی تحقیقات کرنے اور نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس سلسلے کو روکا نہ گیا تو یہاں نوجوان نسل ناپید ہوگی ۔انہوںنے سوگوار خاندان کی ثابت قدمی اور صبر و تحمل کے لئے دعا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بین الاقوامی ایجنسیاں اس صورت حال کے سلسلے میں اپنی آواز بلند کریں گے ۔اتحاد المسلمین کے صدرمولانا مسرورعباس انصاری نےکہا کہ رمضان المبارک کے ان مقدس ایام میں جس طرح سرکاری فورسز نے کشمیری عوام کے قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا ہے اس سے کشمیری عوام کے تئیں بھارت سرکار کے جارحانہ عزائم کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ حکومت ہندوستان نے نام نہاد تحقیق اور تفتیش کے نام پر مزاحمتی کارکنوں کے خلاف مہم جوئی کا جو محاذ کھولا ہے اس کا واحد مقصد یہاں کی مزاحمتی تحریک کو بدنام کرنا ہے تاہم اس قسم کے حربوں سے ایک جائز جدوجہد میں مصروف قیادت کو اپنے موقف سے دستبردار نہیں کیا جا سکتا ۔فریڈم پارٹی کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد عبداللہ طاری نے شہری ہلاکتوں پر اپنی فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوج بھارتی حکام اور ان کے مقامی گماشتوں کی ایماءپر کسی محاسبہ سے خائف نہیں ،البتہ آئے روز حکام کی جانب سے انہیں کھلی ڈھیل دئے جانے اورانعامات اور اکرام سے نوازنے کے بعد اب ہلاکتوں کا گراف بڑھ رہا ہے ۔ فریڈم پارٹی کے ایک وفدنے بشیر احمد خان کی قیادت میں طالب علم کے گھر جاکر ان کے والدین اور اہل خانہ سءتعزیت کی اور ان کی ڈھارس بندھائی ۔مسلم لےگ کے قائمقام چےرمےن محمد ےوسف مےر نے کہا کہ ہندوستان طاقت کے نشے مےں چور ہوکر جس طرح ےہاں انسانی حقوق کی دھجےاں بکھےر کر چھوٹے بچوں اور عام شہرےوں کو راست فائرنگ کے ذرےعے نشانہ بنا کر ابدی نےند سلاتا ہے اور پےلٹ، بلٹ کا بے تحاشہ استعمال کر کے سےنکڑوں لوگوں کی جانےں اورآنکھےں چھےن رہا ہے اس سے ےہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کو خون کا” چسکا اور پےاس“ لگ چکی ہے اور اسے تب تک چےن اور سکون نہےں ملتا جب تک وہ بے بسوں اور نہتے لوگوں کے خون سے اپنے ہاتھ نہ رنگ لے ۔انہوں نے کہا کہ ”تل ابےب“ سے رہنمائی اور گائےڈلےن حاصل کر کے دلی جس طرح ےہاں اپنے رےاستی گماشتوں کی مدد سے انسانی خون کو ارزاں کررہا ہے، اس پر عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظےموں کو سنجےدہ اور فوری نوٹس لےنے کی ضرورت ہے۔ نیشنل فرنٹ چیئر مین نعیم احمد خان نے عادل فاروق کی بہیمانہ لاکت پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز نے اُن مظاہرین پر بندوقوں کے دہانے کھول دئے جو اپنے سیاسی جذبات کا اظہار کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو یہ بات تسلیم کرلینی چاہئے کہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے اُس کی واحد وجہ یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کو ابھی تک اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا ہے اس لئے بہتری اسی میں ہے کہ نوشت دیوار پڑھ کر تنازعہ کشمیر کو ایک ہی بار حل کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔سالویشن مومنٹ ظفر اکبر بٹ نے کہا کہ عادل فاروق اور دوسرے عام لوگوں کی بلا جواز ھلاکتوں سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ کشمیری اپنے کشمیر میں فوجی جماوٹ اور کالے قوانین کے چلتے غیر محفوظ تصور کرتے ہیںجسکی مثال یونین منسٹر راجو وردھان کا تازہ بیان ہے ۔ظفر کی ھدایت پر تنظیم کے لیڈروں عدنان سلفی،امتیاز احمد، فاروق احمدنے گنواپورہ شوپیان جاکر عادل فاروق کے نماز جنازہ میںشرکت کرکے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔پیروان ولایت کے سیکریٹری جنرل آغا سید یعصوب الموسوی نے کہاکہ دہلی کے اشاروں پر کشمیریوں کی نسل کشی اب یہاں کا معمول بن چکا ہے اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ انسانی حقوق کے علمبرداری کا دعوٰی کرنے والے ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں ۔ ڈےمو کرےٹک پولٹےکل مومنٹ کے چےرمےن محمد شفےع رےشی نے کہا کہ بھارتی فوج ان کی معاون فورسز اور ریاستی پولیس جموں کشمیر میں ایک منصوبہ بند طریقے پر عام شہریوں کو قتل کررہی ہیں اور اس قتلِ عام کے لیے ذمہ دار فورسز افسروں واہلکاروں سے کوئی باز پُرس ہوتی ہے اور نہ ان کے خلاف کوئی کیس درج کیا جاتا ہے ۔ تحریک مزاحمت کے چیرمین بلال صدیقی نے کہا کہ فوجی کسی جواب طلبی کی غیر موجودگی میں کسی بھی جوان کو موت کے گھاٹ اتارنے میں بے خوف نظر آرہے ہیں ۔انھوںنے اس قتل کو وحشیانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اب بھی عالمی قیادت کا ضمیر جاگ نہ اٹھا تو فوج کی موجودگی میںریاست میں کسی کی جان کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی ۔ اسلامک پولٹیکل پارٹی کے سربراہ محمد یوسف نقاش ،پیپلز لیگ کے قائمقام چیرمین سید محمد شفیع ، مسلم کانفرنس کے چیرمین شبیر احمد ڈار ،محاز آزادی کے صدر محمد اقبال میر،انٹر نیشنل فورم فار جسٹس کے چیرمین محمد احسن اونتو ،ینگ مینز لیگ کے چیرمین امتیاز احمد ریشی اور تحریک استقامت کے چیرمین غلام نبی وار نے بھی فورسز کی اس بربریت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے ۔