شمالی کوریا کا امریکہ تک مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ

پیانگ یانگ // شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس نے ایک نئے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو پورے براعظم امریکہ کو نشانہ بنا سکتا ہے۔شمالی کوریا کے سرکاری ٹیلی وڑن نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جوہری ریاست بننے کا مشن پورا کر لیا ہے۔شمالی کوریا کے مطابق یہ نیا ہواسانگ 15 میزائل اس کا طاقت ور ترین میزائل ہے اور اسے بدھ کی صبح منہ اندھیرے لانچ کیا گیا۔یہ میزائل جاپان کے پانیوں میں جا کر گرا تاہم اس کی اڑان شمالی کوریا کے جانب سے تجربہ کیے گئے ماضی کے سبھی میزائلوں سے زیادہ بلند تھی۔جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ انھوں نے جواب میں پریسزڑن سٹرائک میزائل مشقیں کی ہیں۔امریکی محکمہِ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے اس ممکنہ تجربے کا جائزہ لے رہا ہے۔جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یوناپ کے مطابق مذکورہ میزائل جنوبی پیونگان صوبے میں پیونگ سونگ سے مشرق کی جانب اڑا۔اس سال شمالی کوریا نے متعدد بیلسٹک میزائلوں کے تجربے کیے ہیں جن میں ان کا پہلا بین الابرِعاظمی بیلسٹک میزائل بھی شامل ہے۔ اسی دوران میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی سطح پر کشیدگی میں اٰضافہ ہوا ہے۔شمالی کوریا اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے جوہری اسلحے کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔پیانگ یانگ نے اپنے میزائل پروگرام کے منصوبے کو راز میں بھی نہیں رکھا کہ وہ ایسا میزائل بنانا چاہتا ہے جو امریکہ کی سرزمین کو نشانہ بنا سکے اور یہ کہ اس نے ہائڈروجن بم تیار کر لیا ہے۔گذشتہ ماہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری حملے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ادھر امریکہ کے وزیر دفاع جیمزمیٹس نے شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل کے تازہ تجربہ کو دنیا کے لئے خطرہ قرار دیا ہے ۔ مسٹر میٹس نے میزائل ٹسٹ کے بارے میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور دیگر سینئر حکام سے بات چیت کرنے کے بعد وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے کہا کہ آج صبح کئے گئے اس ٹیسٹ کو لے کر بین الاقوامی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا-'' یہ اونچائی تک گیا، سچ کہوں تو پہلے داغے گئے تمام میزائل سے زیادہ اونچائی تک گیا۔شمالی کوریا کو بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے اس سے پوری دنیا کو خطرہ ہے ۔  وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ جب میزائل ہوا میں تھا، تب ہی مسٹر ٹرمپ کو اس ٹیسٹ کے بارے میں بتایا گیا.اس معاملہ پر جنوبی کوریا کے صدر مون ژئی ان نے بھی مسٹر ٹرمپ سے بات کی اور شمالی کوریاکی اس مہم کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ شمالی کوریا کا تازہ میزائل ٹیسٹ نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرہ ہے ۔جنوبی کوریا کی فوج نے کہا ہے کہ انہوں نے بھی تازہ میزائل ٹیسٹ کا جواب اپنے میزائل ٹیسٹ سے دیا ہے ۔جاپان کی حکومت نے کہا کہ وہ شمالی کوریا کی جانب سے مسلسل کی جا رہی اکساوے کی کارروائی کو قبول نہیں کریں گے ۔ جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔یو این آئی