نالیاں صاف نہ ہونے سے عوام کاہواشدید نقصان، ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ
زاہد شیر
گول//حالیہ شدید بارشوں نے محکمہ تعمیراتِ عامہ کی کارکردگی پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دئےہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلسل بارشوں کی پیشگی وارننگ کے باوجود محکمہ نے سڑکوں کے کنارے موجود نالیوں اور نکاسیٔ آب کے نظام کی بروقت صفائی نہیں کی، جس کے نتیجے میں بارش کا پانی رہائشی مکانوں اور زرعی اراضی میں داخل ہو گیا۔مقامی لوگوں کے مطابق گول تتا پانی روڈ پر متعدد مقامات پر نالیاں بند ہونے کی وجہ سے پانی سڑکوں پر جمع ہو گیا اور بعد ازاں رہائشی علاقوں میں داخل ہو کر املاک اور فصلوں کو نقصان پہنچا۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر محکمہ بروقت نالیاں صاف کر دیتا تو اس نقصان سے بڑی حد تک بچا جا سکتا تھا۔گول کے زلس میں نالیاں بند ہوگئیں سارا پانی مشتاق احمد سہمت کے مکان میں چلا گیا اورمکان کا صحن کا بڑا حصہ ڈھہ گیا۔وہیں سلبلہ علاقہ تک تمام سڑک کی صورتحال بارشوں کے دوران ابتر بنی رہی۔ اگر چہ بارشوں سے قبل محکمہ تعمیرات عامہ کے آفیسران و گول انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ گول سلبلہ و دیگر سڑکوں کی نالیوں کی حالت ابتر ہے اور جگہ جگہ تعمیراتی میٹریل پڑا ہوا ہے اس کو ہٹایا جائے لیکن اس کی طرف کسی نے کوئی توجہ نہیں دی جس کا خمیازہ بارشوں کے دوران لوگوں کو اٹھانا پڑا۔ مقامی لوگوں کا کہناہے کہ ہر سال برسات کے موسم میں یہی صورتحال پیدا ہوتی ہے، مگر اس کے باوجود مستقل بنیادوں پر نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوئی عملی منصوبہ نہیں بنایا جاتا۔متاثرہ شہریوں نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے نالیوں کی بروقت صفائی، نکاسیٔ آب کے مؤثر انتظامات اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔وہیں اس دوران ایس ڈی ایم گول نے زلس علاقے کا دورہ کیا اور مشتاق احمد کے گھر کے نقصان کا جائزہ لیا اور اس دوران بھی محکمہ تعمیرات عامہ کا کوئی بھی ملازم وہاںموجود نہیں تھا بلکہ لوگوں نے خود ہی نالی کو ٹھیک کیا۔