شبِ برأت اور اس کے احکام

ماہِ شعبان کی پندرہویں شب، شبِ برات ہے،جو ایک عظیم الشان بابرکت رات ہے ، اُس میں عبادت کرنے والوں کے لیے بے شماراجر و ثواب مقرر کیا گیا ہے۔ایک حدیث میں نبی کریمﷺنے اِرشاد فرمایا کہ: بے شک اللہ جل شانہ شعبان کی پندہویں شب میں آسمانِ دنیا پراپنی شان کے مطابق نزول فرماتے ہیں اورقبیلہ ’’کلب‘‘ کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرمادیتے ہیں [ترمذی:739]قبیلہ’’ بنو کلب‘‘ عرب کے ایک قبیلہ کانام ہے،جو بکریاں کثرت سے رکھنے میں مشہور تھا۔[تحفۃ الاحوذی:3/365] اس رات کے مختلف نام ذکر کیے گئے ہیں:اللیلۃ المُبارکۃ: بابرکت رات۔ لیلۃ الرّحمۃ: رحمتوں والی رات۔لیلۃ الصّک: اللہ جل شانہ کی جانب سے جہنم کا پروانہ ملنے والی رات۔ لیلۃ البراءۃ:جہنّم سے بَری ہونے والی رات ۔ (روح المعانی :13/110) عصرِ حاضرمیں لوگ شبِ براءت کے حوالے سے افراط و تفریط کاشکار ہیں، کچھ لوگ تو سرے سے اس کی فضیلت ہی کے قائل نہیں ہیں، بلکہ اس کی فضیلت سے متعلق تمام احادیث کو ضعیف یا موضوع سمجھتے ہیں، جب کہ بعض لوگ اس کی فضیلت کے تو قائل ہیں، لیکن انہوں نے بہت ساری رسومات و بدعات کو بھی اِس رات کی عبادت کا ایک حصہ بنالیا ہے۔یہ دونوں فریق راہِ اعتدال سے دور ہیں۔شبِ برات کی فضیلت کے بارے میں راہِ اعتدال یہ ہے کہ اس کے متعلق 10جلیل القدرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایات منقول ہیں،جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں: حضرت ابوبکرصدیق ،حضرت علی مرتضیٰ،حضرت عائشہ صدیقہ،حضرت معاذ بن جبل،حضرت ابوہریرہ،حضرت عوف بن مالک،حضرت ابو موسٰی اشعری،حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص،حضرت ابوثعلبہ،حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم اجمعین۔ان میں سے کچھ روایات تو سند کے اعتبار سے انتہائی کمزور درجے کی ہیں اور کچھ روایات کم درجہ ضعیف ہیں اور بعض احادیث حسن درجے کی ہیں۔محدثین کے اصول کے مطابق مجموعی اعتبار سے ان احادیث کے تمام طرق ملانے سے ان احادیث کا مضمون صحیح لغیرہ بن جاتا ہے اور اگر تمام طرق ضعیف مان لیے جائیں تو بھی محدثین کے قواعد کے مطابق یہ احادیث حسن لغیرہ کے درجے تک پہنچتی ہیں۔علامہ عبدالرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ سنن ترمذی کی شرح میں پندرہویں شعبان سے متعلق روایات ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:پندرھویں شعبان کی فضیلت کے بارے میں متعدد روایات وارد ہیں، جن کا مجموعہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان روایات کی اصل موجود ہے۔اور یہ تمام حدیثیں مجموعی اعتبار سے اس شخص کے خلاف حجت ہیں،جس نے گمان کیا کہ پندرہویں شعبان کی رات کی فضیلت کے سلسلے میں کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔[تحفة الاحوذی:3/365]الحاصل شب برات کی فضیلت واہمیت ثابت ہے،اہلِ حق ہمیشہ سے شب برات کی فضیلت و بزرگی کا اعتقاد رکھتے چلے آئے ہیں،چنانچہ علامہ علاءالدین الحصکفی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: شعبان کی پندرہویں شب میں رات کو جاگ کر عبادت کرنا مستحب ہے۔(الدرالمختار: ص:92)ہاں! یہ بات ضروریادرکھیں کہ اگرچہ شب برات نہایت بابرکت رات ہے،تاہم اس رات میں کوئی خاص عبادت مقرر نہیں ہے۔حضرت حسن بن عمار الشرنبلالی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہےکہ :شب برات میں شب بیداری کا مطلب یہ ہے کہ اس رات کے اکثر یاکچھ حصے میں قرآن وحدیث کے پڑھنے یاسننے میں مصروف رہے یا تسبیح پڑھتا رہے،یادرود شریف پڑھتارہے‌[لطائف المعارف:144]
اس سے معلوم ہوا کہ اس رات میں عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں ہے، بلکہ جس قدر ہوسکے نفلی عبادت کی جائے،نفلی نماز پڑھیں، قرآن کریم کی تلاوت کریں، ذکر کریں، تسبیح پڑھیں، دعائیں کریں، یہ ساری عبادتیں اس رات میں کی جا سکتی ہیں، لیکن کوئی خاص طریقہ ثابت نہیں۔
یہاں میں قارئین کو یہ بتاتی چلوں کہ شب برات سے متعلق دوطرح کےاعمال ہیں،ایک تومستحب میں شامل ہیں، اوردوسرے رسم یابدعت میں داخل ہیں: مستحب اعمال تین ہیں:(1) پندرہویں شعبان کی رات  میں عبادت کا اہتمام کیاجائے۔(2)شب برات میں انفرادی طور پر قبرستان جاکر مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی جائے،یہ احادیث نبویہ سے ثابت ہے اور کسی حدیث میں یہ صراحت نہیں ملتی کہ زندگی میں صرف ایک بار جانے کی اجازت ہے،تاہم شب برا ت میں قبرستان جانے کو ضروری سمجھنا، اجتماعی طور پر جانااور نہ جانے والے کو ملامت کرنا بھی درست نہیں ہے(3)پندرہویں شعبان میں روزہ رکھنا مستحب ہے، حدیث شریف میں نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا: جب نصف شعبان کی رات ہو تو رات کو عبادت کرو اور آئندہ دن روزہ رکھو(ابن ماجہ)یہ روزہ رکھنا فرض وواجب یا سنت موٴکدہ نہیں ہے بلکہ مستحب ہے، یعنی جو کوئی کرے گا اجر و ثواب پائے گا اور جو نہیں کرے گا، اس پر کوئی گناہ نہیں۔
جہاں تک شبِ برات کے موقع سے معاشرہ میں رائج بدعات کا تعلق ہے تو وہ بہت ہیں،جن میں سے ہر ایک کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ہے،تاہم ان میں سے چندبدعات کی صرف نشاندہی کیے دیتی ہوں: پہلی بدعت: شب برات میں حلوہ پابندی سے پکایاجائے اور یہ نظریہ رکھاجائے کہ اس کے بغیر شب برات کی فضیلت حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔دوسری بدعت: یہ عقیدہ رکھاجائے کہ شبِ برات میں مردوں کی روحیں گھروں میں آتی ہیں۔تیسری بدعت:مساجد میں شب بیداری کے لیے عوام کااجتماع کیاجائے،اور اسے لازم سمجھاجائے۔ چوتھی بدعت:شب برات میں خاص قسم کی نمازیں پڑھی جائیں۔مثلاً ایک موضوع ومن گھڑت روایت کی بنا پر سو رکعت والی نماز پیش کی جاتی ہے۔(درس ترمذی: ج2ص579) پانچویں بدعت :شب برات میں قبرستان میں میلہ لگایاجائے،چراغاں کیاجائے، جماعتوں اور ٹولیوں کی شکل میں شرکت کی جائے۔چھٹی بدعت:شب برات میں آتش بازی کی جائے۔ساتویں بدعت:شب برات میں مسور کی دال پکانے کو ضروری سمجھاجائے۔یہ اور ان جیسی وہ تمام خود ساختہ باتیں جن کا ثبوت کتاب وسنت سے نہ ہو،اورانہیں دین کے نام پر اجروثواب کاکام سمجھ کر کیاجائے،وہ بدعات کے زمرے میں آتی ہیں ،جن پر شریعتِ اسلام میں سخت نکیر کی گئی ہے:ایک حدیث میں نبی کریم ﷺنے ارشادفرمایا:" جس نے ہمارے  اس معاملے (دین) میں کوئی نئی بات گھڑی تو وہ بات مردود ہوگی،یا وہ گھڑنے والا مردود ہوگا۔[صحيح البخاري:2697] اس لیے اے مسلمانو!عزم کریں کہ ہم اس رات کی قدردانی کریں گے، آتش بازیاں وغیرہ خرافات وبدعات کرکے خودکو ان اشعار کا مصداق نہیں بنائیں گے۔اخیرمیں اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا کرتی ہوں کہ وہ ہمیں اس رات کی قدردانی کی توفیق عطا فرمائے،اوربدعات وخرافات سے ہماری کامل حفاظت فرمائے ۔آمین
(متعلمہ جامعہ امّ الہدیٰ ۔بہار)