کسی بھی شخص کو اسکا کام زندہ رکھتا ہے ، بہت سے لوگ اپنی شخصیت کی تخلیق ،اسکی تعمیر اور اسے عظمت وبلند ی دینے کیلئے کام کے بجائے دوسرے ذرائع استعمال کرتے ہیں ،پروپیگنڈہ کا سہارا لیتے ہیں ،مضامین لکھواتے یا خود لکھکر دوسروں کے نام سے چھپواتے ہیں ،آل اولاد کےہاتھ میں پیسہ اور قلم آجاتا ہے تو جد امجد عظیم بن جاتے ہیں ، تمام خوبیوں و محاسن سے متصف ہوجاتے ہیں ، خاندانی وجاہت و شرافت میں یکتا ، لوگوں کی ہمدردی وخیر خواہی ، جودو سخا اور جرأت وبہادری میں ممتاز ومنفردہوجاتے ہیں ،کچھ دنوں تک یہ مصنوعی ہالہ شخصیت کے ارد گرد ضرور قائم رہتاہے ،خاندان میں دولت اور قلم کاتسلسل رہتا ہے تو مصنوعی ہالہ بھی بعض دفعہ دوام حاصل کرلیتا ہے ، اگرچہ عام طور پر تحقیق کی تیز روشنی تمام مصنوعی دبیز پردوں کو چاک کردیتی ہے اور حقیقت حال سے دنیا واقف ہوجاتی ھے ،اسکے برعکس جو لوگ اخلاص سے کام کرتے ہیں ،کاموں کی وجہ سے جنکی شخصیت تخلیق ہوتی ہے، انہیں دوام حاصل ہوتا ہے ،بلکہ مرور زمانہ کے ساتہ انکی مقبولیت بڑھتی جاتی ہے ،انکے کارنامے لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ انکی شخصیت اور انکے خدمات کا اعتراف کریں ، متعدد مستشرقین نے مسلمان سائنسدانوں کی تحقیقات کاسرقہ کرکے دنیا کے سامنے پیش کردیا، خوب دادو تحسین ملی ،لیکن بعد میں سرقہ پکڑا گیا
اللہ کا فیصلہ ہے۔’’ ان اللہ لایضیع اجر المحسنین‘‘ ،اللہ کسی کی محنت کو ضائع نہیں ھونے دیتے ۔
18 نومبر سن 1914 کو علامہ شبلی نعمانی کی وفات ہوئی تھی اور تاریخ پیدائش ہے یکم جون 1857 ۔
علامہ شبلی ایک زرخیز دماغ ، امت اور انسانیت کیلئے پہلو میں ایک دھڑکتا دل لیکر پیدا ہوئے تھے ۔ اپنے زمانے کے یکتائے روزگار اساتذہ سے تعلیم حاصل کی ، قدرت کی طرف سے شعر وسخن کا بلند وپاکیزہ ذوق عطاءہوا تھا ، اردو کو ایک ادبی علمی اسلوب دیا ، اہل علم آجتک بنیادی طور پر اسی کی پیروی کر رہے ہیں ، مستشرقین کی طرف سے علم وتحقیق کے لبادہ میں اسلام پر جو حملےہورہے تھے ان حملوں کے مقابلہ میں جو بہادر سب سے پہلے آگے بڑھا اور سینہ سپرہوا، وہ یہی شبلی تھا ،چند لوگ اور بھی انکی پیروی میں میدان میں آئے ،خود ایک فوج تیار کی ،فوج کو ہر طرح کے سازو سامان سے لیس کیا ،اسکی فکرو عمل کا دائرہ صرف بر صغیر نہیں تھا ،پورا عالم اسلام اسکے سامنے تھا ،عالم عربی کا ایک مشہور مؤرخ اور ادیب جب اسلامی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ماہئی بے آب کی طرح تڑپ اٹھتا ہے اور عربی میں اسکا رد لکھتا ہے، جسکا تذکرہ خود اس مصنف نے کیا جسکا اس نے رد لکھا ،علامہ رشید رضا مصری نے علامہ کی اس علمی خدمت اور انکی حمیت وغیرت کو خراج تحسین پیش کیا ۔
مصر کے علماء جب اصلاح نصاب کی آواز بلند کرتے ہیں تو اپنی بات کی تصدیق وتو ثیق کیلئے علامہ شبلی کا حوالہ دیتے ہیں۔ تحقیق وجستجو کا یہ رسیا خلیفۂ ثانی حضرتِ عمر فاروق کی سیرت کیلئے ترکی اور مصر کا سفر کرکے ضروری مواد جمع کرتا ہے ، اس زمانہ کے معروف عربی مجلات میں اسکے مراسلے اور خطوط چھپتے تھے ، مدارس کو مفید تر بنانے کیلئے اخیر تک انتہک محنت کرتا ہے ،عالم اسلام میں خنجر کہیں چلتا ،تڑپتا وہ تھا ، حمید الدین فراہی ،ابو الکلام آزاد ،سید سلیمان ندوی ،عبد السلام ندوی ،عبد الباری ندوی ، اور نہ جانے کتنے لوگوں کی تربیت کرکے اپنے پیچھے چھوڑکر دنیا سے رخصت ہوا ، خواتین کی تعلیم وتربیت کیلئے ہمیشہ فکر مند رہا ، عصری تعلیم کیلئے خود اس نے اسکول قائم کیا ،اپنی جائیداد خدمت دین کیلئے وقف کی ، اور جب زندگی کی شام ہونے لگی تو عجم کی مدح سرائیوں اور امویوں وعباسیوں کی داستان طرازیوں کے بعد تن من دھن کے ساتھ عاشق دلفگار اپنے محبوب آقا کے دربار میں پڑگیا اور پھر جان دیکر ہی اٹھا ،اس عظیم شخصیت کوبدنام کرنے اوراسکے کاموں کو کم عیارثابت کرنے کیلئے یاروں نے بڑا زور مارا ،کتابیں تصنیف کیں ، کچھ عرصہ تک اسکا تذکرہ رہا ، لیکن جھاگ تو جھاگ ہی ہوتا ہے ، اسکی زندگی بڑی مختصرہوتی ہے ۔
نافعیت اور فائدہ رسانی کو بقاء ہے ، اخلاص وہ شجر ہے جو ہمیشہ برگ وبار لاتاہے ۔
شبلی پر سیکڑوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں ، ہزاروں سیمینارہوچکے ہیں۔شبلی کالج ،دارالمصنفیں ،ندوہ ،الاصلاح اسکے اخلاص کا مظہر ہیں ۔ہزاروں کتابیں سیرت پر آچکی ہیں لیکن کیا اردو میں کوئی کتاب سیرت النبی کے پایہ کی ہے۔ شبلی ! اللہ تجھے تیری خدمات کا بہترین صلہ عطاء کرے اور تیرے نام لیواؤں کو تیرے نقش قدم پر چلنے توفیق دے۔