شاہ فیصل کی پارٹی’جموں و کشمیر پیپلز مومنٹ ‘کا باضابطہ اعلان، اب ہوا بدلے گی کا نعرہ

سرینگر // نوکری سے استعفیٰ دینے والے سابق آئی اے ایس آفیسرڈاکٹر شاہ فیصل نے اتوار کو اپنی سیاسی پارٹی کے قیام کیساتھ ہی پہلا جلسہ منعقد کیا۔ اتوار کو سرینگر کے راجباغ علاقے میں’’ پکڑ دھکڑ کے عالم میںاب ہوا بدلے گی ،کب ہوا بدلے گی، اب ہوا بدلے گی، رشوت خوری کے عالم میں اب ہوا بدلے گی کے نعروں کے بیچ ‘‘ شاہ فیصل نے اپنی سیاسی جماعت ’جموں وکشمیر پیپلز مومنٹ‘ کو رسمی طور پر لانچ کیا ۔اس دوران انہوں نے کہا کہ جماعت کا قیام عمل میں لانے کا مقصد ریاست کے لوگوں کو ایک نئی سیاست دینے کاہے ۔تقریب کے موقعہ پر جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلباء یونین کی سابق نائب صدر شہلا رشید ،بانڈی پورہ کے حافظ قرآن و پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر غلام مصطفی خان کے علاوہ سکھ اور کشمیری پنڈت لیڈر بھی پارٹی میں شامل ہوئے ۔لوگوں کی ایک جمعیت سے خطاب کرتے ہوئے شاہ فیصل نے کہا’’ یہ جماعت کسی مخصوص علاقے یا مذہب کی نہیں ہے بلکہ جموں ،لداخ اور کشمیر کے لوگوں کی جماعت ہے اور میرے لئے لداخ کا بدھسٹ ، جموں کا ڈوگرہ اور راجوری پونچھ اور کشمیر کا مسلمان بھائی کے برابر ہیں اور آج میں انہیں اس سٹیج سے دوستی کا پیغام بھیجتا ہوں ۔ڈاکٹرشاہ فیصل نے کہاکہ ہماری جماعت مسئلہ کشمیر کا ایک ایساپُرامن حل چاہتی ہے جوجموں وکشمیرکے عوام کی خواہشات کے عین مطابق ہو۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر مسئلے کو ہندوستان اور پاکستان مل کرہی حل کرسکتے ہیں اورہم نئی دہلی واسلام آبادکے درمیان دوریوں کوکم کرنے میں رو ل نبھاسکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ میں یہ نہیں کہوں گاکہ میں مسئلہ کشمیرحل کرئوں گالیکن اتنا ضرورکہہ سکتاہوں کہ ہم سہولت کاربن سکتے ہیں ۔ڈاکٹر شاہ فیصل نے جموں و کشمیر پیپلز مئومنٹ کے اولین ذمہ داروں کاتعارف کراتے ہوئے کہا کہ فیروز پیرزادہ ایک ارب پتی ہیں ،بلدیوسنگھ وادی کے بڑے کارڈیلرہیں ،ڈاکٹرمصطفی حافظ ایک حافظ قرآن اوراسسٹنٹ پروفیسر ہیں ،عزیر رونگا نے لندن میں قانون کی تعلیم حاصل کی ہے ،اوران کے علاوہ ایڈووکیٹ اقبال طاہر اور راجا محمودمیری ٹیم میں شامل ہیں ۔ڈاکٹر شاہ فیصل نے کہا کہ کشمیر ی پنڈت ہمارے سماج کا حصہ ہیں اور اُن کی گھر واپسی کے بغیر ہماری سیاست ادھوری ہے ۔انہوں نے کہا’’ مجھ سے سوال کئے جاتے ہیں کہ آپ کے ساتھ کون ہے اور جو لوگ میرے ساتھ شروعات میں جڑے ہیں، انہوں نے بھی کچھ نہ کچھ قربانیاں دی ہیں وہ بھی نوکریاں اور اپنا سب کچھ قربان کر کے اس لئے ہمارے ساتھ جڑ چکے ہیں کیونکہ وہ ریاست کے مصیبت زدہ لوگوں کیلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں ۔‘‘انہوں نے کہا کہ میرے پاس ابھی 25سال کی نوکری تھی اور نوکری میں رہ کر میں کئی اعلیٰ عہدوں پر فائض رہ سکتا تھا ۔انہوں نے سٹیج پر بیٹھے اپنے دیگر ساتھوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان سب نے زندگی میں بہت عیش وآرام پیسے شہرت کے علاوہ دھوکے بھی دیکھے، لیکن اب یہ لوگوں کی خدمت کیلئے سامنے آئے ہیں۔ڈاکٹر شاہ نے کہا ’’ آئی اے ایس بن کر وہ لوگوں کیلئے کچھ کرنا چاہتے تھے لیکن جب یہاں کے حالات کو دیکھا جاتا ہے تو حیرانگی ہوتی ہے کہ یہاں کے لیڈر پچھلے 70 برسوں سے کیا کرتے آئے ہیں کیسی غلامی کا شکار یہاں کی عوام کو کیا گیا ہے‘‘ ۔انہوں نے کہا کہ میں نے فیصلہ کیا تھا کہ میں کسی مخصوص پارٹی کے ساتھ جڑ جائوں گا اس دوران کئی پارٹیوں سے ملاقات بھی ہوئی ،انہوں نے عزت بھی بخشی ،تاہم اس بیچ انہیں لوگوں کی مزاحمت اور غصہ کا سامنا کرنا پڑاجس سے اُن کی آنکھیں کھل گئیں ۔انہوں نے کہا کہ میں آج اُن لوگوں کا شکریا ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے ایک سہی فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا ۔ لوگوںسے خطاب کرتے ہوئے شہلا رشید نے کہا کہ اُن کی جماعت مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے زمین ہموار کرنے کی کوشش کرے گی،شہلا نے کہا کہ اُن کی یہ کوشش رہے گی کہ کشمیر کی اس سرزمین پر کسی بے گناہ کا خون نہ بہئے۔ شہلا نے کہا کہ اُس نے جب بھی ظلم کے خلاف آواز بلند کی تو اُس کے خلاف ایف آئی آر درج کئے گئے۔شہلا کا کہنا تھا کہ میں ایسے سینکڑوں ایف آئی آر برداشت کر لوں گی لیکن ریاست کے باہر کشمیری تاجروں، طلاب اور دیگر لوگوں پر ہو رہے ظلم کو ہونے نہیں دیں گے۔ شہلا نے کہا کہ اسکے خلاف غداری کے مقدمے درج کئے گئے، گرفتاریاں عمل میں لائی گئیںلیکن ہم نے مودی سرکار کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔شہلا نے کہا کہ ہم نے ایسی مہم شروع کی جس سے مودی سرکار کا پردہ فاش ہوا ۔ پارٹی نے 29نکاتی منشور بھی جاری کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ پیپلز مومنٹ لوگوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرے گی ۔سلک روٹ' کی از سر نو بحالی کے ذریعے اس امن کا کوریڈور بنانے کے لئے کام کرے گی۔ ریاست کو حاصل خصوصی آئینی تشخص کے دفاع اور مختلف کیمونٹیوں بالخصوص بدھ مت، سکھ، عیسائیوں اور کشمیری پنڈتوں کو نمائندگی دلانے کے لئے کام کرے گی۔ بے روزگاری کے خاتمے کے لئے نوکریاں پیدا کرنے اور بھرتی عمل میں شفافیت لانے کے لئے کام کرے گی۔ قدرتی راستے کھولنے جائیں گے ۔