شامی تنازع کے بعد بشارالاسد کا دورہ تہران، ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات

تہران//  شامی صدر بشار الاسد نے شام کے تنازع کے آغاز کے بعد اپنے پہلے دورہ ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی۔ پیغامات بھیجنے والی ایپلی کیشن ٹیلی گرام پر شامی ایوان صدر کے اکاؤنٹ کے مطابق ملاقات کے دوران بشارالاسد نے تنازع کے دوران شام کے لیے ایران کی جانب سے کیے گئے اقدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ایوان صدر کی جانب سے کہا گیا کہ رہنماؤں نے 'دونوں ممالک کے لوگوں کے درمیان برادرانہ اور مضبوط تعلقات کا جائزہ لیا' جو دشمن ممالک کے اقدامات کی وجہ سے شام اور ایران کے تعلقات قائم رکھنے میں اہم عنصر ہیں۔ اس موقع پر آیت اللہ خامنہ ای نے بشارالاسد کو بتایا کہ ' ایران سمجھتا ہے کہ شام کی حکومت اور قوم کی مدد مزاحمتی تحریک کے لیے مددگار ہے اور ہمیں اس پر دل کی گہرائیوں سے فخر ہے'۔ آیت اللہ خامنہ ای کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے شام میں جنگی علاقہ بنانے کی کوشش ان خطرناک سازشوں کی ایک مثال ہے جس کی سخت مذمت کرنی چاہیے'۔ اپنے دورے کے دوران شامی صدر بشار الاسد نے اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے بھی ملاقات کی۔ ایرانی حکومت کی آفیشل ویب سائٹ نے حسن روحانی کے بیان کو نقل کرتے ہوئے کہا کہ ' اسلامی جمہوریہ ایران پہلے کی طرح شام کی حکومت اور عوام کے ساتھ ہوگا'۔ واضح رہے کہ شام میں تقریباً 8 برس سے زائد جاری خانہ جنگی میں ایران اور روس بشارالاسد کے قریبی اتحادی ہیں، اس جنگ کے دوران اب تک 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد کی ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔