سرینگر // دریائے جہلم پر تعمیر ہو رہا193میٹر لمبا پال پورہ ،شالہ ٹینگ پل90فیصد مکمل ہے اور 10فیصد کام کو مکمل کرنے میں متعلقہ تعمیراتی ایجنسی کو 3سال ہو گئے لیکن پل کی تعمیر مکمل نہیں کی جا سکی ہے ۔اس پل کی تعمیر کا کام جموں و کشمیر پروجیکٹس کنسٹرکشن کارپوریشن (جے کے پی سی سی) نے سال2008میں ہاتھ میں لیا اور اس کیلئے سرکار نے 1679.78لاکھ روپے واگزر کئے تھے ۔لیکن بدقسمتی سے کئی ایک ڈیڈ لائنیں مکمل ہونے کے باوجود بھی اس کی تعمیر تشنہ تکمیل ہے اور آج بھی فنڈس کا رونا رویا جا رہا ہے اور پل کی تعمیر مکمل نہ ہونے کے سبب 5منٹ کا سفر 1گھنٹہ میں طے ہورہاہے ۔ یہ پل 13برسوں میں بھی تعمیر نہیں ہو سکا ہے ۔ پل کی تعمیر کا کام جے کے پی سی سی نے سال2008میں شروع کیا تھا تاکہ ایک وسیع آبادی کو اس کا فائدہ مل سکے لیکن 13برسوں سے پل کی مکمل تعمیر کا لوگوں کو انتظار ہے یہ پل شالہ ٹینگ کو پالہ پورہ سے ملاتا ہے اور اس کے آس پاس کئی بستیاں آباد ہیں ،جہاں پر جانے والے لوگوں کو یا تو نور باغ سے گھوم کر آنا پڑتا ہے یا تو گوری پورہ سے ہو کر جانا پڑتا ہے جو کہ 5منٹوں کے سفر کو 1گھنٹے میں تبدیل کر دیتا ہے ۔مقامی شہری نوید انجم میر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سال2018تک اس پل کی تعمیر کا کام سست رفتاری سے چلتا رہا،لیکن بعد میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر اسکی تعمیر کا م روک دیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اگر یہ پل بن کر تیار ہو جاتا ہے تو قمرواری میں ٹریفک جام سے لوگوں کو نجات مل سکتی ہے اوربارہمولہ ٹنگمرگ، بانڈی پورہ کپوارہ ، پٹن اورسوپور کے لوگوں کو اس سے کافی فائدہ پہنچ سکتا تھا ۔لیکن اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔شمالی کشمیر کے مسافروں کو اس پل سے کافی سہولیات ملتی اور وہ آسانی سے ڈائون ٹائون اور صورہ میڈیکل انسٹی چوٹ تک پہنچ سکتے تھے، ایسے لوگوں کو قمرواری اور بائی پاس تک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی اور ان کا ایک گھنٹے کا سفر بچ جاتا ۔جے کے پی سی سی نے پل کی تعمیر میں تاخیر کیلئے 2014 کے تباہ کن سیلاب اور وادی میں 2016 کی بدامنی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔جے کے پی سی سی نے کہا کہ تعمیر میں تاخیر ہوئی ہے لیکن اُ مید ہے کہ بہت جلد اس کا کام مکمل ہو جائے گا ۔