ترال// جل شکتی محکمہ کی جانب سے ترال کے برن پتھری علاقے میں ندی نالوںاورقدرتی چشموں کے پانی کو پائپ لائن کے ذریعے دور دور تک پہنچانے کے منصوبے کے خلاف قصبے کے کئی دیہات کے لوگوں نے ماچھہامہ میں جمع ہو کر اس منصوبے کے خلاف زور دار احتجاج کیا ۔انہوں نے متعلقہ محکمہ اور انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اگر لوگوںکے ساتھ انصاف نہ ہوا تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے ۔سب ضلع ترال کے ماچھہامہ ،باگندر،کہلیل،کنگہ لورہ اور شاہ پورہ کے علاوہ ناگہ بل کے لوگوں نے جمعہ کے روز جل شکتی محکمہ کے خلاف زور دار احتجاج مظاہرے کئے ۔احتجاج میں شامل لوگوں نے بتایا کہ ناگہ بل اور اس کے آس پاس علاقوں میں متعدد چشمے موجود ہیں جن کا پانی لوگ پینے کے علاوہ سینچائی کے لئے استعمال کرتے تھے تاہم آج سے قریب50سال قبل محکمہ نے ناگہ بل میں موجود سب سے بڑے چشمے کے پانی کو پائپ کے ذریعے 10کلومیٹر سے زیادہ دور دور تک پہنچا کرلوگوں کو فراہم کیا گیا اور اس وقت لوگوں کے ساتھ یہ معاہدہ ہوا کہ اب مزید کسی چشمے کے پانی کو بند نہیں کیا جائے گا۔لوگوں نے الزام لگایا کہ محکمہ نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گائوں کے تقریباً تمام چشموں کو بند کر کے اسے مختلف علاقوں تک پہنچایا جس کے نتیجے میں مقامی زرعی وغیر زرعی اراضی اورباقی استعمال کے لئے پانی کا مقدار دن بہ دن کم ہوا ہے جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔احتجاج میں شامل شہریوں نے بتایا کہ وہ کسی بھی طرح اس اقدام کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے کیونکہ مذکورہ دیہات کے ہزاروں کنال اراضی اس اقدام سے بنجر میں تبدیل ہونے کا خدشہ ہے ۔انہوں نے اس حوالے سے سرکار ،انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ افسران سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ لوگوں نے بتایاکہ اگر محکمہ نے15روز تک اس کارروائی کو نہیں روکا تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔