سینٹرل جیل سرینگر کے اندر پُر تشدد مظاہرے، باہر لوگوں کی نقل و حمل پر پابندیاں

سرینگر/سینٹرل جیل سرینگر کے اندر گذشتہ رات کے دوران پُر تشدد مظاہرے بھڑک اُٹھے۔ذرائع نے جمعہ کو بتایا کہ یہ مظاہرے قیدیوں اور جیل سٹاف کے درمیان جھگڑے کے بعد ہوئے۔

ڈائریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ، جو ڈائریکٹر جنرل جیلخانہ جات بھی ہیں، نے خبر رساں ایجنسی کے این ایس کو بتایا کہ کچھ قیدیوں نے جیل کے ایک بارک میں مرمت کا کام روکنے کیلئے دوسروں کو بھڑکایا۔

انہوں نے کہا'' قیدیوں نے مل کر جیل سٹاف کے ساتھ تشدد کیا۔انہوں نے وہاں آگ بھی لگائی جس کے بعد آگ بجھانے والا عملہ وہاں پہنچ گیا''۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق یہ تشدد جیل کے اندرتب بھڑک اُٹھا جب بعض قیدیوں کو کشمیر سے باہر منتقل کرنے کی افواہ اُڑ گئی۔

قیدیوں نے ایک عارضی قیام گاہ کو آگ لگاکر جیل کے اُس دروازے تک آنے کی کوشش کی جو پرانے شہر کی طرف کھلتا ہے۔

واقعہ کے فوراً بعد پولیس حکام اور سی آر پی ایف کی اضافی کمپنیاں جائے واردات پر پہنچ گئیں تاکہ حالات کو قابو میں لایا جاسکے۔

دریں اثناء حکام نے جیل کے باہر عام لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عاید کی ہیں۔