سینا بتی کے جنگلات میں ناجائز تجاوزات کیخلاف مقامی لوگ سراپا احتجاج

بانہال // محکمہ جنگلات فارسٹ ڈویژن کے کمپارٹمنٹ نمبر 24  سینا بتی فارسٹ رینج رام بن میں ناجائز تجاوزات کو لیکر مقامی لوگ متفکر ہیں اور انہوں نے محکمہ جنگلات کو اس معاملے میں کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ تحصیل اْکڑال پوگل پرستان کے سینابتی علاقے میں محکمہ جنگلات کے کمپارٹمنٹ نمبر 24  رینج رام بن میں محکمہ جنگلات کی سکیم کمپا کے تحت کئی سال پہلے ایک کلوجر لگایا گیا ہے لیکن محکمہ جنگلات کے فیلڈ عملے کے چند ملازمین کی مدد سے مقامی لوگ ناجائز تجاوزات اور کمپا کے کلوجر کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مقامی زمینداروں کی طرف سے اس جنگلاتی رقبے کو آباد کیا جارہا ہے اور باڑ کیلئے لگائے گئے کھمبے اور کانٹے دار تار کو تہس نہس کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق اطلاعات کے تحت دیئے گئے ایک جواب میں محکمہ جنگلات نے تجاوزات کرنے والوں کیخلاف کارروائی کرنے اور پولیس کیس درج کرنے کے احکامات صادر کرنے کی تفصیل دی ہے لیکن زمینی سطح پر صورتحال جوں کی توں ہے اور جنگلات کی آراضی پر خود غرض عناصر مسلسل ناجائز تجاوزات کر رہے ہیں اور کھمبوں اور خار دار تار سمیت اراضی کے نشانوں کو مٹایا جارہا ہے جبکہ مال مویشی سے پودوں کو ختم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اس پر فوری کارروائی کرنے کی مانگ کی ہے۔ اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر رینج آفیسر رام بن راجندر سنگھ نے کشمیر عظمیٰ کو فون پر بتایا کہ کمپا کا کوئی کلوجز توڑا نہیں گیا ہے اور مقامی زمیندار وہاں موجود گھاس کاٹنے اور گھاس پر اپنا اپنا حق جتانے کیلئے آپس میں جھگڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند مقامی لوگوں کی شکایات کے بعد انہوں نے محکمہ جنگلات اور فارسٹ پروٹیکشن فورس کی ایک ٹیم کے ہمراہ علاقے کا دورہ کیا اور موقع پر پایا کہ وہاں موجود کمپا کلوجر کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا ہے اور ناہی جنگلات پر کوئی تجاوزات کی گئی ہے اور جھاڑیاں وغیرہ لگا کر جو باڑ بندی وغیرہ لوگوں کی طرف سے کی گئی تھی اسے موقع پر ہی ہٹاکر صاف کیا گیا ہے اور یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی زمیندار گھاس کی کٹائی اور مال مویشیوں کو چرانے کے مدعے کو لیکر ایک دوسرے سے اُلجھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہاں لوگوں کی دہائیوں پرانے ڈھوک موجود ہیں اور لوگوں کی رضامندی سے ایک ریزولیشن پاس کیا گیا ہے جس میں مقامی لوگوں نے متفقہ طور پر فیصلہ لیا ہے کہ و ہ محکمہ جنگلات کی آراضی سے گھاس نہیں کاٹیں گے اور ناہی کسی قسم کی ناجائز تجاوزات کا ساتھ دینگے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کا یہ رقبہ پہلے کھلا تھا اور لوگ اسے استعمال کر رہے تھے اور اب کئی  برسوں سے مقامی لوگوں کی معاونت سے اسے ایک کلوجر کی شکل دی گئی ہے اور درخت لگائے گئے ہیں اور تار بندی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے اس سلسلے میں چند زمینداروں کے خلاف ایک کیس درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی کیونکہ لوگوں کی آپسی چپقلش کی وجہ سے امن و قانون کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی لیکن مقامی لوگوں کے درمیان اتفاق کے بعد کیس درج نہیں کیا گیا ہے بلکہ مقامی لوگوں نے ایک ریزولیشن کے ذریعے اس جنگل اور کلوجر کی آراضی میں کسی بھی قسم کی دخل اندازی سے اجتناب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائیندوں کی ٹیم کو بھی اس علاقے کا دورہ کرکے اپنے دعوئوں کو صیح ثابت کرنے کی دعوت بھی دی۔