محبوبہ کا ایکس پر کھلا خط ، عمر کا فوری جواب، لفظی جنگ میں سیاسی چپقلش بے نقاب!
عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر // جموں و کشمیر میں سیاسی اتحاد کی ایک اپیل منگل کو تنازعے میں تبدیل ہوگئی جب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ان کی ملاقات کی درخواستوں کو نظر انداز کیا، جس پر عمر عبداللہ نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اس الزام کی تردید کی اور محبوبہ مفتی پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام عائد کیا۔محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پر ایک خط جاری کیا جو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، بشمول بی جے پی، کے نام تھا۔ خط میں انہوں نے جموں و کشمیر کی منقسم سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ لداخ کی حالیہ کامیابی سے سبق حاصل کرتے ہوئے خطے کی خصوصی شناخت اور آئینی حقوق کے تحفظ کےلئے متحد ہو جائے۔تاہم سیاسی یکجہتی کی یہ اپیل فوراً ہی سیاسی آداب اور رابطوں کے معاملے پر لفظی جنگ کی نذر ہوگئی۔اپنے خط میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہیں یہ خط عوامی طور پر اسلئے لکھنا پڑا کیونکہ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کےلئے وقت مانگا تھا، لیکن ’’ان کی مصروفیات کے باعث ملاقات ممکن نہیں ہو سکی۔‘‘انہوں نے لکھا’’وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور ہم مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس لئے میں نے آپ کو یہ خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس بیان پر فوری ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ محبوبہ مفتی حقائق کو مسخ کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔عمر عبداللہ نے کہا ’’محبوبہ مفتی صاحبہ، ہماری ہفتے کے روز بات ہوئی تھی جب آپ نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ اتوار کو میں پہلگام میں ہوں گا اور پیر یا منگل کو آپ سے رابطہ کرکے ملاقات کا وقت طے کروں گا۔‘‘انہوں نے مزید کہا’’آپ کے خط سے یہ تاثر ملتا ہے کہ میں نے آپ کو کئی ہفتوں سے ملاقات کے لئے انتظار کرایا ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ بہرحال اب آپ کا خط عوامی سطح پر آ چکا ہے‘‘۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ محبوبہ مفتی کی تجویز پر اپنی جماعت نیشنل کانفرنس کے سینئررہنماؤں سے مشاورت کے بعد باضابطہ اسی طرز پر جواب دیں گے اور غالب امکان ہے کہ یہ جواب بھی عوامی طور پر جاری کیا جائے گا۔
نیشنل کانفرنس کے سینئررہنماؤں نے بھی محبوبہ مفتی پر الزام لگایا کہ وہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے جان بوجھ کر حقائق کو غلط انداز میں پیش کر رہی ہیں۔محبوبہ مفتی کی جانب سے اتحاد کی یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لداخ کی دو بڑی تنظیموں،لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں اہم پیش رفت حاصل کی ہے۔محبوبہ مفتی نے اپنے خط میں کہا کہ ’’صرف بات چیت ہی بامعنی نتائج دے سکتی ہے‘‘ اور جموں و کشمیر اس وقت ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں مایوسی اور بے یقینی نے لوگوں کو گھیر رکھا ہے۔انہوں نے لکھا’’علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور باہمی کشمکش نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ 2019 کے بعد کے حالات میں ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔ اگر لداخ یہ کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں‘‘۔محبوبہ مفتی نے زور دیا کہ اس مجوزہ سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لیے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی حمایت ناگزیر ہے۔ انہوں نے عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ تمام سیاسی و سماجی متعلقین کا ایک باضابطہ اجلاس طلب کریں تاکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے سامنے ایک متحدہ مؤقف پیش کیا جا سکے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ اقدام ’’سیاسی کریڈٹ لینے یا پوائنٹ سکورنگ‘‘ کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے اور تمام رہنماؤں کو وسیع تر عوامی مفاد میں اختلافات کو پس پشت ڈالنا ہوگا۔اپنی اس کوشش کو ہمہ گیر بنانے کے لیے محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے اپوزیشن لیڈر سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) کے رہنما محمد یوسف تاریگامی، پیپلزکانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون، پی ڈٰ ایف سربراہ حکیم محمد یاسین ،رکن پارلیمان انجینئر رشید،شیو سینا جموںوکشمیر سربراہ منیش سہانی اور کشمیری پنڈت سنگھرش سمتی کے صدر سنجے ٹکو سمیت متعدد سیاسی و سماجی شخصیات کو بھی اسی نوعیت کے خطوط ارسال کیے ہیں۔
سیاسی اتحاد ہمیشہ اپنی پارٹی کانظریہ
کسی کی بھی کوشش کا خیرمقدم :ترجمان
کسی کی بھی کوشش کا خیرمقدم :ترجمان
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی ترجمانِ اعلیٰ منتظر محی الدین نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کے وسیع تر مفاد میں سیاسی اتحاد کا تصور دراصل اپنی پارٹی نے ہی پیش کیا تھا۔انہوں نے کہا، جموں و کشمیر کے عوام کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کی تجویز بنیادی طور پر اپنی پارٹی کی سوچ کا نتیجہ ہے اور ہم مسلسل اس کی وکالت کرتے رہے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ اپنی پارٹی اس ضمن میں کسی بھی مخلصانہ اقدام کا خیرمقدم اور حمایت کرے گی، خواہ اس کا آغاز کوئی بھی کرے۔ نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، اگرچہ محبوبہ مفتی نے اپنی تجویز میں اپنی پارٹی کو شامل نہیں کیا، کیونکہ ان کا ہمیشہ اتحاد کو کمزور کرنے کا ریکارڈ رہا ہے، اس کے باوجود ہم اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں۔منتظر نے مزید کہا، سب جانتے ہیں کہ اپنی پارٹی مسلسل تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتی رہی ہے کہ وہ متحد ہو کر مرکزی حکومت کے سامنے جموں و کشمیر کے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔ ہمارا ہمیشہ یہ مقف رہا ہے کہ تمام جماعتیں متحد ہو کر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے ملاقات کریں تاکہ جموں و کشمیر کے عوام کی جائز امنگوں اور حقیقی مطالبات کو پیش کیا جا سکے اور ان کی تکمیل کے لیے مشترکہ کوشش کی جا سکے۔ منتظر نے کہا، حال ہی میں اپنی پارٹی صدر سید الطاف بخاری نے جموں میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں لداخ اور کرگل کی قیادت سے سبق حاصل کرنا چاہیے، جنہوں نے اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اجتماعی طور پر مرکز کے ساتھ بات چیت کی اور اپنے عوام کے لیے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔انہوں نے مزید کہا، ہماری کوششوں اور رابطوں کے نتیجے میں ہم اس بات کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوئے کہ جموں و کشمیر کے عوام کے زمین کی ملکیت اور سرکاری ملازمتوں پر خصوصی حقوق محفوظ اور برقرار رہیں۔