لندن// برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے مختلف اسکینڈلز کے باعث ملک میں سیاسی بحران شدت اختیار کرنے کے بعد کنزرویٹو پارٹی کی قیادت اور وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا اور کہا کہ اگلے وزیراعظم کے انتخاب تک وہ کام کرتے رہیں گے۔مسٹر جانسن نے کہا کہ انہیں استعفیٰ دینے پر افسوس ہے ۔ انہوں نے کہا کہ “یہ دنیا کی سب سے بہترین پوسٹ تھی، لیکن وقفے ضرور ہوتے ہیں۔ میں اپنی پارٹی کے پارلیمنٹرینز کے اسپیکر سر گراہم بریڈی سے متفق ہوں کہ نئے لیڈر کے انتخاب کا عمل اب شروع ہونا چاہیے ۔
نئے قائد کے انتخاب کے شیڈول کا اعلان آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔ میں نے کام کاج کے لیے آج (عارضی طور پر) کابینہ تشکیل دی ہے ۔ میں اگلے وزیر اعظم کے اقتدار سنبھالنے تک حکومت کی ذمہ داری ادا کرتا رہوں گا۔ جانسن حکومت میں وزیر خارجہ لز ٹرس نے ایک ٹویٹ میں کہاکہ “وزیراعظم نے درست فیصلہ کیا ہے ۔ حکومت نے بورس کی قیادت میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ بریگزٹ پر عمل درآمد، کورونا ویکسین فراہم کرنا اور یوکرین کو سپورٹ کرنا ان کی بڑی کامیابیاں ہیں۔
ہمیں اب امن کے ساتھ متحد رہنا ہے اور نئے لیڈر کے انتخاب تک حکومت کا کام کاج دیکھنا ہے ۔ اس سے قبل شمالی آئرلینڈ کے وزیر برینڈن لوئس نے جمعرات کو وزیر اعظم بورس جانسن کی قیادت والی حکومت سے استعفیٰ دے دیا۔