سکہ ڈافر کی خواتین کا پریس کالونی احتجاج

 سرینگر// جا مع مسجد سر ینگر میںشب قدر کے موقعہ پر زخمی ہونے کے بعد پوچھ تاچھ کیلئے پولیس کو پیش کئے گئے نوجوان کی مسلسل گرفتاری کیخلاف خواتین نے پریس کالونی سرینگر میں آ کر زوردار احتجاجی مظا ہر ے کئے ۔ سکہ ڈافر سے تعلق رکھنے والی خواتین سر ینگر کی پریس کا لونی میں نمودار ہو ئیں اور انہوں نے مقامی نوجوان کی گرفتار ی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہو ئے کہا کہ 30سا لہ مبشر احمد بٹ ولد نذ یراحمد بٹ ساکن سکہ ڈافر صفا کدل شب قدر کے موقعہ پر شب خوانی کیلئے جامع مسجد گیا جب آ ٹھ رکعت تروایح ادا کرنے کے بعد وہ مسجد سے با ہر آ یا تو اسی وقت وہاں ایک ہجوم جمع تھا۔احتجاجی خواتین کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کی وجہ سے وہاں افرا تفر ی کا عالم تھا اور اسی اثنا ء میں ایک گولی چھو تے ہو ئی اسکے پیر میں پیوست ہو ئی اور زخمی ہونے کے بعد وہ بے ہوش ہو گئے اور بعد میں اسکے دوستوں نے اسے بے ہوشی کی حالت میں سکمز پہنچایا۔رات بھر علاج ومعالجہ کے بعد اسے اگلی صبح اسپتال سے گھر رخصت کیا گیا۔ احتجاج میں شامل مبشر احمد بٹ کی بھابی نے کہا کہ اسی روز صفا کدل پولیس کی ایک ٹیم ہماری گھر پہنچی اور انہوں نے کہا کہ’’ ہمیں شب قدر کی رات پولیس آ فیسر کی ہلاکت کے سلسلے میں مبشر سے تھوڑ ی بہت پوچھ تاچھ کرنی ہے لہذا اسکو پولیس تھانہ بھیجنا۔‘‘ انہوںنے کہا کہ مقامی محلہ اور بازار کمیٹی کے ہمرا ہ اسے عرفہ کے روز صفا کدل پولیس کے حوالے کیا گیا، شام کے وقت جب وہ کھا نا اور دوائی لیکر پولیس تھانہ پہنچے تو وہاں ان سے کہا گیا ہے کہ اسے نوہٹہ پولیس تھانہ پہنچایا گیااور جب وہ نو ہٹہ پولیس پہنچے تو پولیس نے مبشر کی تھا نہ میں موجود گی سے انکار کردیا۔مبشر احمد بٹ کی بھابی نے مزید کہا کہ وہ بے قصور ہے اور اس رات وہ محض شب خوانی کے سلسلے میںجامع مسجد گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اب اس کا اتہ پتہ بتانے سے معذوری کا ظہار کررہی ہے جس سے پورا کنبہ ذہنی اضطراب کا شکار ہو چکا ہے ۔احتجاج میں شامل شاہینہ نامی ایک خاتون نے بتایا کہ مبشر کی والدہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہے اور بیٹے کی گرفتارری سے اسکی حالت مزید بگڑ گئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ وہ ریاست سے باہر سیلزمین کی حثیت سے کام کرتا ہے اور یہاں تھوڑی بہت کمائی کرکے اپنی ماں کے علاج ومعالجہ پر خر چ کرتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ گولی لگنے کے بعد وہ زخمی حا لت میں پولیس حراست میں ہے اور مناسب علاج ومعالجہ نہ ہونے کی وجہ سے اسکی زند گی کو خطر ہ لاحق ہو سکتا ہے۔ مظا ہرین نے اسکی فوری رہائی کا مطالبہ کیاہے۔(سی این ایس)