جموں //متعدد سکھ تنظیموں نے 1989میں جموں میں سکھ مخالف فسادات میں مارے گئے سکھوں کی تحقیقات کیلئے ریاستی انتظامیہ کی جانب سے قائم کردہ کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر نہ آنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مانگ کی کہ انصاری کمیشن کی رپورٹ جلداز جلد سامنے لائی جائے تاکہ 30برس قبل فسادات میں مارے گئے سکھوں کو انصاف فراہم کیا جاسکے ۔یہاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سکھ پرو گریسیو فرنٹ کے صدر بلویندر سنگھ نے کہاکہ 1989میں جموں میں سکھ مخالف ہوئے فسادات میں 14بے گناہ سکھوں کا قتل عام کیا گیا تھا جبکہ اس دوران کئی افراد زخمی اور ان کی جائیداد کو بھی نقصان پہنچا تھا ۔انہوں نے کہاکہ اس قتل عام کی تحقیقات کیلئے اس وقت کی حکومت نے انصاری کمیشن کی تشکیل عمل میں لائی تھی لیکن تین دہائیاں گزر جانے کے باجود ابھی تک کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی گئی ۔موصوف نے کہاکہ 30بر س قبل پیش آئے اس واقعہ کے سلسلہ میں جموں کے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں کل 61مقدمات درج کئے گئے لیکن ابھی تک اس سلسلہ میں ایک بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے جبکہ انصاری کمیشن کو کچھ ایک ملوث افراد کی شاخت کے سلسلہ میں بیان حلفی بھی دئیے گئے ہیں ۔سکھ تنظیموں کے لیڈران نے کہا کہ مرنے والوں کے لواحقین کو ابھی تک صر ف ایک ایک لاکھ روپے دئیے گئے ہیں جبکہ اس دوران مذکورہ طبقہ کی 209دکانیں /کھوکھے اور 120گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا گیا تھا ۔ان لیڈران نے کہاکہ حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے سکھ طبقہ میں تشویش پائی جارہی ہے ۔انہوں نے ریاستی انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ 1984سے اب تک ریاست جموں وکشمیر میں مارے گئے سکھوں کی تحقیقات کیلئے ’خصوصی تحقیقاتی ٹیم ‘تشکیل دی جائے تاکہ لواحقین لو انصاف فراہم کیا جاسکے ۔انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ 1989میں مارے گئے سکھوں کے لواحقین کو معقول معاوضہ دیا جائے ۔اس موقعہ پر سریندر سنگھ وزیر ،ایس چرنجیت سنگھ ،کشمیر سکھ سوسائٹی کے صدر ٹی پی سنگھ ،ایس منجیت سنگھ ،ڈاکٹر ہر بنس سنگھ ودیگران بھی موجود تھے ۔