سکول آف آرکیٹکچر میں اساتذہ اور کیمپس کی عدم دستیابی

سرینگر// اساتذہ کی اور کیمپس کی عدم دستیابی کے خلاف سکول برائے آرکیٹکچرکے طلاب نے احتجاج کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ’’ حکام کب بیدار ہونگے ‘‘۔پیر کو سرینگر کی پریس کالونی میں آرکیٹکچر شعبے میں زیر تعلیم درجنوں طلبہ و طالبات نمودار ہوئے اور احتجاج کرتے ہوئے نعرہ بازی کی۔احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے،جن پر اُن کے مطالابات کے حق میں نعرے درج تھے۔ احتجاجی طلاب نے کہا کہ کشمیر یونیورسٹی کے سکول آف آرکیٹکچر کو پس پشت ڈالا گیا ہے ۔ احتجاجی طلاب نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ’’90طلاب کیلئے صرف4مدرسین تعینات ہیں،جو کافی کم ہیں اور اساتذہ کی عدم دستیابی کے نتیجے میں ہمارا مستقبل تاریک ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ نہ ہی طلاب کیلئے کیمپس ہے ،نہ لیبارٹریاں اور نہ ہی دیگر سہولیات ہیں،جس کے نتیجے میں طلاب ذہنی کوفت کا شکار ہوگئے ہیں۔احتجاجی طالب علموں نے سوالیہ انداز میں پوچھا ’’ حکام کب بیدار ہونگے تاکہ طالب علموں کے مسائل کا ازالہ ہوسکے‘‘۔