گول//جہاں ایک طرف سے مرکزی سرکار دو سو لوگوں کے لئے بھی سڑک کی سہولیت دستیاب رکھنے کا اعلان کر رہی ہے اور کئی سال قبل اس کے لئے پی ایم جی ایس وائی کو متحرک کر کے دوردراز گائوں کو شہر کے ساتھ ملانے کے لئے اس تعمیری ایجنسی کے ذریعے سے سڑکیں بھی تعمیر ہو رہی ہیں لیکن ضلع رام بن کے گول سب ڈویژن کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں آج بھی لوگ سڑکوں کے لئے ترس رہے ہیں ۔سڑکوں کی تعمیر کے لئے کئی جگہوں پر صرف کھدائی کی گئی لیکن اس کو قابل آمد و رفت نہیں بنایا گیا جس وجہ سے لوگوں کو بالآخر سڑکوں پر آکر انتظامیہ ، ایم ایل اے اور سرکار کے خلاف نعرے بازی کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے ۔ آج ٹھٹھارکہ میں لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ دس سال قبل یہاں پر پی ایم جی ایس وائی کی جانب سے صرف زمین کی کھدائی ہوئی جس میں لوگوں کی زرعی اراضی کو بھی کافی نقصان پہنچا لیکن اس کے با وجود آج بھی لوگ سڑک کے لئے ترس رہے ہیں ۔مقامی لوگوں نے کہا کہ وزیر تعمیرات عامہ نعیم اختر نے آمد گول کے موقعہ پر یہاں کی عوام کو یقین دلایا تھا چار جنوری کو کہ چار فروری کو راستہ پر تعمیری کام شروع ہو گا لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ابھی تک یہاں پر کسی بھی آفیسر کو نہیں دیکھا گیا ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر یہاں پر کوئی بیمار ہوتا ہے تو اُسے چار پائی پر سنگلدان لے جاناپڑتا ہے اور سڑک نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو باقی کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگوں نے کہا کہ اگر اس سڑک پر جلد از جلد تعمیری کام شروع نہیں کیاگیا تو اس پر ہم کاشت کریں گے ۔