سڑکیں کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہوتیں

آج علی الصبح بازار جانا پڑا، کسی کام کے سلسلے میں۔ ابھی ایک کلومیڑ کی مسافت بھی طے نہیںکی تھی کہ گاڑی کو بریک لگانی پڑی۔ آگے چند گاڑیاں رُکی ہوئی تھیں۔ مجھے ذرا جلدی سی تھی، اس لیے آس پاس مشاہدہ کیا کہ معاملہ کیا ہے! پتہ چلا کہ کسی صاحب کو مکان بنانا ہے، اس لیے ریت باجری کی ٹپریاں سڑک پر ہی اَن لوڈ کی جارہی ہیں۔ٹپریاں جب اَن لوڈ کرکے چلی گئیں اور ہم آگے بڑھے تو یکطرفہ ٹریفک چلا۔ کیوں کہ دوسری طرف ریت باجری کا ملبہ پڑا ہوا تھا۔ اچھا تو جب میں اِسی راستے سے چند گھنٹوں کے بعد واپس آیا تو ٹریفک کو یکطرفہ ہی پایا۔ ادھر سے یہ وہ جگہ ہے جہاں پر حادثات واقع ہونے کے غالب امکانات ہیں۔ 
یہ وہ کوفت ہے جس سے اگر آج مجھے سامنا ہوا لیکن کشمیر کا تقریباً ہر کوئی شخص ایسی صورتحال سے دوچار ہوا ہوگا۔ اس ضمن میں بعض لوگ حد ہی کر لیتے ہیںکہ کوڑا کرکٹ اور گندگی کے ڈھیر سڑک پر ہی ڈال دیتے ہیں۔ دیہات کے لوگ اس سے بھی زیادہ حد سے بڑھ جاتے ہیں کہ گوبر گھاس کے ملبے سڑک کے پاس ہی بنا لیتے ہیں۔ دُکاندار حضرات کے اس حوالے سے کیا کہنے! فوٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ سڑک کے کنارے بھی اپنا سامان رکھنے لیے استعمال کر لیتے ہیں۔بعض چھوٹی گاڑیوں کے مالک بیچ راستے میںہی اپنی گاڑیاں پارک کر لیتے ہیں۔ کوئی مرے یا جیے، اُنہیں اُس بات کا کوئی خیال ہی نہیںہوتا۔ اس ساری صورتحال میں ایک بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ لوگ سڑک کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لیتے ہیں۔ 
ایسے تمام افراد میری بات غور سے سن لیں اور یہ سمجھ لیں کہ اُن کی ایسی حرکات و سکنات عوام کو کافی زیادہ ذہنی کوفت میں مبتلا کر دیتی ہیں اور یہ ایک سنگین جرم ہے۔لوگوں کے عبور و مرور پر رخنہ ڈالنا گناہِ کبیرہ میں سے ہے۔ ادھر سے سمجھ نہیں آتا کہ متعلقہ محکمہ جات کس خوابِ ٖغفلت میں سوئے ہوئے ہیں۔ کیوں نہ ایسے جرائم کے مرتکب انسانوں پر فردِ جرم عائدکیا جاتا ۔ اَزروئے قانون ، ایسے افراد پر جرمانے کے ساتھ ساتھ جیل کی سہولیت بھی دستیاب ہے۔ اپنے لیے سہولیات کا گھر بناتے بناتے ایسے لوگ عوام کی کافی ساری بد دُعائیں بھی وصول کرلیتے ہیں۔بھلاایسا گھر، ایسی تعمیر، ایسی زندگی پھر کیسے خوشحال ہوسکتی ہے !۔