سٹیٹ وقف کونسل کی 18ویں میٹنگ منعقد

 جموں//مال،حج و اوقاف اور پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری نے عطیات کو سماجی بہبود کے کاموں بالخصوص مسلم طبقے کے غریب لوگوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے جیسے کاموں میں بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔سٹیٹ وقف کونسل کی 18ویں میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کونسل پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے شعبے میں اختراعی اقدامات بروئے کار لائیں تاکہ مستحق لوگوں کو بڑے پیمانے پر فائدہ مل سکیں۔انہوںنے کہا کہ اوقاف اسلامیہ کی طرف سے چلائے جارہے موجودہ تعلیمی اداروں کو بڑھاوا دیاجانا چاہیئے اور انہیں جدید خطوط پر استوار کیا جانا چاہیئے۔میٹنگ میں ممبر پارلیمنٹ فیاض احمد ، ارکان قانون سازیہ جی ایم سروری ، شاہ محمد تانترے ، فردوس احمد ٹاک ، کمشنر سیکرٹری مال شاہد عنایت اللہ اور سیکرٹری لا ٔ عبدالمجید بٹ بھی موجود تھے۔اس دوران کونسل کی 17میٹنگ کے دوران لئے گئے فیصلوں کی عمل آوری کا جائزہ لیا گیا اور وزیر کو اوقاف محکمہ کی ترقیاتی سرگرمیوں بالخصوص راجوری ، جموں اور کشتواڑ میں وقف کونسل کی طرف سے قائم کئے جارہے تین نرسنگ کالجوں کی صورتحال کے بارے میں جانکاری دی گئی ۔میٹنگ میں کونسل کے ایجنڈا نکات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔کونسل نے زیارت چھوٹے شاہ صاحب ؒ مینڈھر میں اوقاف اسلامیہ کی طرف سے چلائے جارہے سکول کے لئے عمارت تعمیر کرنے کو منظور ی دی گئی ۔وزیر جو اس کونسل کے چیئرمین بھی ہیں نے کہا کہ ملت انٹرنیشنل سکول چواڑی جموں کو ایک بہترین تعلیمی ادارہ بنانے کے لئے انفرادی اور اجتماعی سطح کی کوششیں کی جانی چاہئیں۔میٹنگ میں وقف اراضی پر تعلیم ہونے والے فلیٹوں اور کمرشل کمپلیکسوں کے معاملات بھی زیر بحث لائے گئے ۔اس دوران جامع مسجد تالاب کٹھی کا ہورہے تعمیراتی کام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سٹیٹ وقف کونسل اور اس کے پانچ یونٹوں کا تین سالہ بجٹ بھی اس موقعہ پر پیش کیا گیا جسے بعد میں کونسل نے بحث کے بعد منظوری دی۔کونسل کو جانکاری دی گئی کہ اوقاف محکمہ کے لینڈ ریکارڈ کی دیجیٹلائزیشن کا کام جاری ہے ۔اس موقعہ پر فیصلہ لیا گیا کہ کونسل کی میٹنگ ہر تین ماہ کے بعد منعقد ہوا کرے گی تاکہ کارکردگی کا موقعہ پرہی جائزہ لیا جاسکے ۔کونسل نے کئی ایک نکات کوموقعہ پر ہی منظور ی دی۔جن دیگر شخصیات نے میٹنگ میں شرکت کی ان میں ڈاکٹر محمد اسد اللہ وانی ، مفتی عنایت اللہ،جی اے خواجہ ، اے آر وانی ، عبدالواحد ٹاک ، نورانی صاحب ، ایڈوکیٹ شاہ محمد چودھری بھی شامل تھے ۔