سٹیٹ میڈیکل کونسل کا احیائے نو | 15 روزمیں آن لائن خدمات دستیاب ہوں گی

سرینگر //ایک اہم پیش رفت کے طور ریاستی انتظامیہ نے پچھلے 24برسوں سے ناکارہ بنے ہوئے ادارے ’سٹیٹ میڈیکل کونسل ‘کا احیائے نو کرنے کافیصلہ کیاہے جس سے شعبہ صحت میں پائی جارہی خرابیوں خاص طور پر ڈاکٹروں اور دواساز کمپنیوں کے درمیان گہرے ساز باز کو ختم کرکے عوام کو بہتر طبی خدمات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔یہ ادارہ 15دنوں کے اندراپنی آن لائن خدمات شروع کرنے جارہاہیں، جہاں شعبہ صحت کے حوالے سے شکایات درج کرائی جاسکیں گی ۔بھارت کی مختلف ریاستوں میں ڈاکٹروں کی جانب سے دوا ساز کمپنیوں کی دوائیاںتجویزکرنے کیلئے موٹے رقومات،سفری اخراجات اور تحائف حاصل کرنے کے عمل کو میڈیکل کونسل آف انڈیا نے ڈاکٹروں کیلئے بنائے گئے قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور ڈاکٹروں کے خلاف شکایات موصول ہونے کے بعد مرکزی سرکار نے تمام سٹیٹ میڈیکل کونسلوں کو خلاف ورزی کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی عمل میں لانے کا حکم جاری کیا ہے۔ وہیں دوسری جانب جموں و کشمیر میں 24سال بعد پھر سے سٹیٹ میڈیکل کونسل سرگرم ہوگئی ہے۔سٹیٹ میڈیکل کونسل کے ایک ممبر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’’ گذشتہ 24سال تک سٹیٹ میڈیکل کونسل خاموش تھی اور اگر کوئی شکایت موصول ہوتی تھی تو اس پر خاصی توجہ نہیں دی جارہی تھی مگر اب کونسل کو پھر سے سرگرم کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے اور اس کیلئے بمنہ میں ایک دفتر بھی قائم کیا گیا ہے‘‘۔ مذکورہ ممبر نے بتایا ’’ سٹیٹ میڈیکل کونسل کی آئندہ ہونے والی میٹنگوں میں کئی اہم فیصلے لینے جارہی ہیں جس سے ڈاکٹروں اور دواساز کمپنیوں کے درمیان ساز باز کو ختم کرنے کا موقعہ فراہم ہوگا‘‘۔ سٹیٹ میڈیکل کونسل کے صدر ڈاکٹر سلیم الرحمان نے کہا ’’آئندہ 15دنوں میں کونسل آن لائن سہولیات کا آغاز کررہی ہیں جہاں لوگ ڈاکٹروں کے خلاف شکایات درج کرسکتے ہیں ‘‘۔انہوں نے کہا ’’ پچھلے 50سال میں پہلی مرتبہ سٹیٹ میڈیکل کونسل کیلئے بمنہ سرینگر میں باضابطہ طور پر دفتر قائم کیا گیا جہاں شعبہ صحت کے حوالے سے شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شکایات موصول ہونے کے بعد سٹیٹ میڈیکل کونسل تحقیقات عمل میں لاتی ہے اور ناظم صحت کو ملوث ڈاکٹر کے خلاف کاروائی کرنے کی سفارش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ سٹیٹ میڈیکل کونسل کا کام صرف محکمہ صحت کوملوث ڈاکٹر کے خلاف کاروائی کرنے میں مدد دینا ہوتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ میڈیکل کونسل میڈیکل کالجوں میں نصاب، اسپتالوں میں طبی سہولیات کے خلاف شکایات کے علاوہ خاص طور پر دوائی تجویزکرنے کیلئے دواساز کمپنیوں کی جانب سے ڈاکٹروں کو تحائف، رقومات اور دیگر سہولیات  فراہم کرنے کی روک تھام ہوگی جو میڈیکل کونسل آف انڈیا کے قوائد و ضوابط کے خلاف ہو۔ واضح رہے کہ مرکزی وزیر صحت نے لوک سبھا میں اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ مختلف ریاستوں کے ڈاکٹر دواساز کمپنیوں سے دوائی تجویزکرنے کے عوض موٹے رقومات، سفری اخراجات اور تحائف وصول کرتے ہیں اور ایسے ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔