اس وقت دنیا بھر میں پھیلنے والی موذی بیماریوں میں سے کینسر یعنی سرطان سرفہرست ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا پریشان وحیران ہے۔ اس مرض سے متعلق بہت ساری چہ میگوئیاں کی جارہی ہیں البتہ پوری طرح سے اس کی تشخیص یا علاج ابھی دستیاب نہیں ہے اور ماہرین کے مطابق موجودہ طریقہ کار کے تحت کینسر کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب یہ بیماری شروع ہوچکی ہوتی ہے اور یہ پہلی یا دوسری سٹیج پر پہنچ چکی ہوتی ہے ۔یہ مرض اس وقت اتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ ماہرین اس کیلئے پریشان ہیں کیونکہ حالیہ رپورٹ جو سامنے آئی ہے،اس کے مطابق اگر اس کا علاج کامیاب نہیں رہا تو2034تک دنیا بھر میں کینسر مریضوں کی تعداد پچاس فیصد تک بڑھنے کے خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا کی آدھی آبادی اس مرض میں مبتلا ہوگی۔
راقم نے اس کے بارے میں کئی کتابوں کا مطالعہ کیا کہ آخر یہ بیماری کیا ہے؟ کیسے لگتی ہے؟ اور اس کا علاج کیا ہے۔ اُس مطالعہ کی روشنی میں تھوڑی سی جانکاری آپ قارئین تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ سرطان جاندار کو لاحق ہونے والے ایسے امراض کا مجموعہ ہے جنکا تعلق بنیادی طور پر خلیات،جن کو انگریزی زبان میں (CELLS) کہتے ہیں، سے ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب جسم کے اندر کچھ خلیات غیر معمولی طور اپنی جسامت میں اضافہ کرنا شروع کرتی ہیں تو کینسر پیدا ہوتا ہے کیونکہ معمول کے خلیات کے تقسیم ہونے کی ایک حد ہوتی ہے اور اس پر پہنچ کر وہ ٹھہر جاتے اور ان میں اپنے آپ کو ختم کرلینے کا ایک نظام بھی موجود ہوتا ہے جس کے ذریعے سے ان خلیات کی موت واقع ہوتی ہے اور ضرورت کے مطابق ان کی جگہ نئے خلیات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ اگر ان خلیات کی موت واقع نہیں ہوئی تو یہ خلیات بڑھتے بڑھتے کینسر کے خلیات کی شکل میں گروہوں میں جمع ہوجاتی ہیں اور ایک ایسا جسم وجود میں آنے لگتا ہے جس کو ورم(TOMOR)یا رسولی کہتے ہیں۔
یہ مرض کس طرح سے لاحق ہوتا ہے، اس کے متعلق ماہرین فی الوقت کچھ کہنے سے قاصر ہیں البتہ اس بات پر متفق ہیں کہ اس کی بنیادی وجوہات جینز میں رونما ہونے والے تغیرات ہیں اور غذا میں پائے جانے والے چند عناصر مثلاً ذخیرہ شدہ اجناس میں پائے جانے والے ٹوکسن،تابکاری اثرات، وائرل انفیکشنز، فضائی، آبی اور غذائی آلودگی، فوڈ کیمیکلز، سگریٹ نوشی اور زرعی ادویات شامل ہیں۔ اس کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب جسم میں کسی بھی قسم کے خلیات کا تیزی سے بڑھنا، جو کہ رسولی کی شکل میں نمودار ہوتا ہے اور اس کے علاوہ سرطان کی علامات میں بغیر کسی ظاہری وجہ سے وزن کا گھٹنا اور بخار رہنا، قے، فضلے اور پیشاب میں خون آنا وغیرہ شامل ہیں ۔
یونین فار انٹرنیشنل کینسر کنٹرول ہرسال چار ماہ فروری کو عالمی یوم کینسر کے دن کے طور پر منا تی ہے۔ اس دن کو منانے کا ایک خاص مقصد یہ ہوتا ہے کہ دنیا کو اس بیماری سے نجات دلانے اور کینسر مریضوں کے ساتھ ناانصافی ختم کرنے کیلئے راہیں ہموار کی جائیں اور ہر کسی کو اس بات پر آمادہ کیا جائے، عالمی صحت ادارے کے ان نعروں پر عمل کریں کہ ہم اس بیماری کو جڑ سے ختم کرنے پر کاربند رہیں گے اور ایک دوسرے سے تعاون کریں گے، ان مریضوں کیلئے امداد فراہم کریں گے جو اس موذی مرض میں مبتلا ہیں اور ہم ایک جٹ ہوکر اس مرض کے خلاف کام کریں گے۔دوسرا مقصد اس دن کے منانے کا یہ ہے کہ اس دن کو ایسے سیمیناروں کا انعقاد کیا جائے جن سے عام لوگوں تک یہ جانکاری پہنچ جائے کہ کس طرح سے اس مرض سے خود کو اور دوسروں کو بچایا جاسکے۔ ایسے سیمیناروں کا انعقاد کرناپبلک پارکوں، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور اسپتالوں میں کرنا مناسب ہے ۔
جدید رپورٹ کے مطابق لگ بھگ دنیا بھر میں ہر چھ افراد میں سے ایک کی موت کینسر سے ہی ہورہی ہے اور ہرسال نو ملین لوگ اس مرض سے فوت ہورہے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ اس مرض کی تشخیص بیماری لگنے سے پہلے فی الحال ممکن نہیں ہوپارہی ہے مگر اس پر تحقیق جاری ہے ۔ڈاکٹر فرانسسکو فورکونی ،جو ساؤتھ ہیمپٹن کا رہنے والا ہے اور بین الاقوامی ٹیم برائے کینسر کے ماہر سائنسدان مانے جارہے ہیں اور انہیں اس فیلڈ میں ترقی پانے کیلئے اور تیزی سے کامیابی حاصل کرنے کیلئے کینسر ریسرچ انسٹی چیوٹ یو کے کی طرف سے 2020میںAward Accelerator سے نوازا گیا ہے، کا کہنا ہے کہ ہم جلد ہی کینسر کی تشخیص اور علاج منظر عام پر لا رہے ہیں کیونکہ یہ بیماری پوری دنیا کی میڈیکل سائنس کیلئے ایک چیلنج ہے۔اسکے علاوہ بھی میڈیکل سائنس نے کچھ حد تک ترقی کرکے کئی طریقہ علاج ایجاد کئے ہیں ،جن میں immunotherapy،Monoclonal Antibodies،Adoptive Cell transfer،Immune system Modulators اور کینسر ویکسین قابل ذکر ہیں جن کے ذریعے سے ایک شخص میں کینسر مرض کی تشخیص اور علاج کسی حد تک ممکن ہے مگر یہ اتنے مہنگے ہیں کہ عام مریض ان سے قاصر رہتے ہیں۔
غرض کینسر ایک ایسا مرض ہے جس کی وجہ سے مریضوں کی زندگی تو برباد ہوتی ہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کی جائیداد، دھن دولت اور اثاثے بھی علاج میں لگانے سے برباد ہوجاتے ہیں ۔اس لئے ایسے مریضوں کی مالی معاونت کیلئے ہمیں عوامی سطحوں پر بھی ایسے فلاحی ادارے قائم کرنے چاہئیں جن سے ایسے مریضوں کی بھر پور مالی معاونت ہوسکے اور ایسے اداروں کی مالی امداد فراہم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اور اپنا فرض مان کر ہمیں اس احسن کام سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ یہ بیماری دنیا بھر کے میڈیکل سائنس کیلئے چیلنج ہے ہی مگر عام لوگوں کیلئے بھی اسلئے چیلنج ہے کہ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں کتنے فیصد لوگ دوسروں کی مدد کرنے کیلئے آگے آتے ہیں کیونکہ آج ایک شخص اس بیماری میں مبتلا ہے خدانخواستہ کل ہم میں سے بھی کوئی اس مرض میں مبتلا ہوگا۔ اس کے علاوہ ایسے مریضوں کی خود اعتمادی کو بڑھاوا دینا چاہیے تاکہ اس کا ایمون سسٹم قوی اور فعال رہے اوراس شخص کو اس بیماری سے لڑنے کیلئے ہمت آجائے کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جس شخص کا ایمون سسٹم کمزور ہوتا ہے، اس کو مختلف قسم کی بیماریاں لگ جاتی ہیں جن میں سے کوئی ایسی بھی بیماری ہوتی ہے جو جان لیوا ہوتی ہے اور اسی سے مریض کی موت واقع ہوتی ہے۔ اس لئے ہمیں اس مرض سے متعلق عوامی سطح پر اپنی بستیوں میں کینسر کی جانکاری عام کرنی چاہیے اور اس کے خلاف لڑنے کی ترکیبیں اور احتیاطی تدابیر لوگوں کو بتانی چاہئییں تاکہ اس مرض کو سرے سے ہی ختم کیا جاسکے ۔
پتہ۔خان پورہ کھاگ،بڈگام کشمیر
فون نمبر۔7006259067