سوڈان: عوام نے فوجی حکومت کو بھی مسترد کردیا

خرطوم// سوڈان میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں صدر عمر البشیر کی برطرفی کے بعد فوج کی جانب سے ملک کا نظام سنبھالنے پر مظاہرین غم و غصے کا شکار ہیں۔ خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق احتجاجی رہنماؤں نے صدر کی برطرفی کے بعد تشکیل دی گئی ملٹری کونسل کو بھی مسترد کردیا ہے۔ مظاہرین نے ملک میں جمہوری نظام کے نفاذ کے لیے سول قیادت اور سوڈان میں جاری تنازعات کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے جن کی وجہ سے ملک بدترین غربت کا شکار ہے۔ سوڈان میں آج چھٹی کا دن ہونے کی وجہ سے اکثر دکانیں اور دفاتر بند تھے۔ جمعے کی نماز کے بعد دارالحکومت خرطوم اور ام درمان میں ہونے والے مظاہروں میں عوام کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔ سوڈان کے آخری منتخب وزیراعظم اور اپوزیشن جماعت کے سربراہ صادق المہدی کی جانب سے ام درمان کی ایک مسجد میں عوام سے خطاب کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ 1989 میں عمر البشیر نے صادق المہدی کی حکومت کو برطرف کیا تھا جس کے بعد ملک میں انتخابی عمل رک گیا۔ دوسری جانب سوڈان پروفیشنلز ایسوسی ایشن نے بھی آج ایک احتجاج طلب کیا ہے، یہ جماعت ڈاکٹروں،اساتذہ اور انجینئرز کی بڑی تعداد پر مشتمل ہے جو آزادی اور جمہوریت کی خواہاں ہے۔ نوتشکیل کردہ ملٹری کونسل کی جانب سے رات میں نافذ کیے جانے والے کرفیو کا احترام کرنے کا کہا تھا۔ تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات فوجیوں نے آرمی ہیڈکوارٹرز کے باہر لگاتار 6 روز سے موجود مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھایا تھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کی لڑائی کمانڈروں سے ہے جنہوں نے بغاوت کی۔ احتجاج میں شریک ایک شخص نے کہا کہ ’ گزشتہ شب اور اس سے پہلے کے دن رات میں کوئی فرق نہیں تھا ‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہم یہ جگہ اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک ہمیں کامیابی نہیں مل جاتی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ ہم نے کرفیو توڑا، ہم یہ اس وقت تک کرتے رہیں گے جب تک ایک سول حکومت نہیں بن جاتی‘۔ گزشتہ روز سوڈان کے وزیر دفاع عود محمد ابن عوف نے سرکاری نشریاتی ادارے پر اعلان کیا تھا کہ فوج نے عمر البشیر کو گرفتار کرلیا۔ عود محمد ابن اوف نے کہا تھا کہ فوج، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بنائی جانے والی ملٹری کونسل آئندہ 2 سال تک حکومت کرے گی جس کے بعد ’ شفاف اور منصفانہ انتخابات کروائے جائیں گے‘۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ فوج نے آئین معطل کردیا اور 3 ماہ کے لیے ایمرجنسی بھی نافد کی ہے۔ بعد ازاں سرکاری نشریاتی ادارے پر نشر کی گئی فوٹیج میں وزیر دفاع کو ملٹری کونسل سربراہ کے عہدے کا حلف لیتے ہوئے دکھایا گیا اور ان کے ہمراہ ان کے نئے نائب، آرمی چیف آف اسٹاف لیفٹنٹ جنرل کمال عبدالمعروف موجود تھے۔ سرکاری نشریاتی ادارے نے کہا تھا کہ آج ملٹری کونسل کی جانب سے ایک نیا اعلان کیا جائے گا۔ عود بن اوف نے ’ بدانتظامی، کرپشن اور ناانصافی‘ ہونے پر معافی مانگی ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں عدم مساوات میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فوج کی جانب سے سخت حکمت عملی اپنانے پر بھی معافی مانگی جس کے نتیجے میں قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں تھیں۔ مظاہرین میں شریک عادل نامی شخص نے کہا کہ اس اعلان کا مطلب ہے کہ ہم نے اب تک کچھ حاصل نہیں کیا۔ دوسری جانب سوڈانیز کانگریس پارٹی نے 4 سال کے عرصے کے لیے سول ملٹری مشترکہ کونسل بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے شہریوں کو اہم عہدے دینے پر اصرار بھی کیا۔ ملٹری کونسل نے ملک بھر میں سیز فائر کا اعلان کیا ہے جس میں جنگ زدہ علاقہ دارفور بھی شامل ہے۔ سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سوڈان کی نیشنل انٹیلی جنس اور سیکیورٹی سروس (این آئی ایس ایس) نے کہا کہ وہ ملک کے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کررہے ہیں۔