سوڈانی صدر کے استعفے کیلئے مظاہرہ، فائرنگ سے 60 ہلاک

خرطوم //  سوڈان میں دارالحکومت سمیت ملک کے متعدد شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کرنے والے 60 مظاہرین پولیس کی ہلاک ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق سوڈانی عوام گزشتہ تین مہینوں نے صدر عمر البشیر کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں، مظاہرین کی جانب سے مسلسل سوڈانی صدر کے استعفے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے سکیورٹی فورسز کی جانب سے آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے جبکہ 136 طبی اہلکاروں کو بھی گرفتار کیا گیا۔ مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ابتداء میں مظاہرین بدعنوانی اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی مہم چلا رہے تھے، بعدازاں تیس برس سے حکومت کرنے والے عمر البشیر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم فزیشن فار ہیومن رائٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک شدگان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔ انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کے شیل اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال اسپتال میں کیا جبکہ عالمی قوانین کے تحت اسپتالوں پر حملہ کرنا منع ہے۔ واضح رہے کہ سوڈان میں عمر البشیر کی حکومت کے خلاف مظاہرے گزشتہ برس دسمبر میں قیمتوں میں اضافے کے خلاف شروع ہوئے تھے۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ نیویارک کی انسانی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ سوڈان میں ڈاکٹرز اور میڈیکل عملے پر حملہ کرنا انسانی حقوق کے قوانین کی شدید خلاف ورزی ہے۔