سوچ بدلے گی توسماج بدلے گا

عشق کے باب سے رفعت کا پنّا کٹ گیا
دن مہینے وہی ہیں وفا کا سنہ کٹ گیا 
پھولوں کے باغ میں قینچی کا راج ہے
سینچتے ہیں شاخوں کو پر تنا کٹ گیا
میرے ذہن میں اکثر یہ سوالات گردش کرتے ہیں کہ استاد اگرمعمار قوم  ہے تو قوم بگڑی ہوئی کیوں ہے ؟تعلیم کا اتنا رحجان ہے تو جہالت کا اندھیرا کیوں ہے ؟دنیا میں کئی انقلاب آئے لیکن دنیا پھر انقلاب کی متمنی کیوں ؟ کیوں چاروں اور دہشت کا ماحول ہے اور معصوم کلیاں روندی جا رہی ہیں ؟۔کیوں پھولوں کی کیاریاں برباد ہورہی ہیں آفتاب کی روشنی سے؟ ۔کیوں آجکل لوگ باہر کچھ اندھر کچھ ہیں ۔نیتوں میں بگاڑ اور نظروں میں شر ہے؟۔کیوں‌ دنیا فطرت کے خلاف جارہی ہے ۔کیوں زوال کو عروج اور عروج کو زوال سمجھ رہے ہیں ۔کیوں نفرت کے انگاروں پر محبت سلگ رہی ہے اور کانٹوں کی سولی پر غنچے دم توڑ رہے ہیں؟
حالانکہ معاشرے کے بارے میں دین اسلام کا کہنا یہ ہے کہ معاشرہ جن بےشمار افراد سے مل کر بنا ہوتا ہے وہ سب کےسب فی الواقع ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہوتے ہیں اسی لیے پیدائشی طور پر وہ سب برابر ہوتے ہیں ان میں کوئی اونچ نیچ نہیں ہوتی ۔کوئی پاک ناپاک نہیں ہوتا ۔کالے اور گورے،ہندی اور عربی ،آرین اور سامی ،ایشیائی اور یورپی ،مشرقی اور مغربی ،سب ایک سے،ایک درجے کے ،اور ایک طرح کے حقوق رکھنے والے انسان ہوتے ہیں ۔نسل یا وطن ،یا رنگ ،یا زبان کی بنا پر ان میں کوئی تفریق نہیں ہوسکتی۔ 
آج کل کے سماجی تعلقات کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کبھی اس سماج میں رہنے والے لوگ جیسے ہمارے باپ دادا ایک دوسرے کے غمخوار اور خیرخواہ تھے ۔جب بزرگوں سے ہم ان کے زمانے کے معاشرے کے بارے میں پوچھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ کتنے دوراندیش اورشریف النفس تھے ان کی ذہانت اور نظر کا دائرہ کتنا وسیع تھا وہ لوگ انسانیت کے اعلیٰ ترین جزبے سے مالامال تھے ان کے فکر و خیال انسان نما تھے اور شفقت ،محبت ،ہمدردی اور رفاقت کے انمول احساسات سے لبریز بھی ۔وہ پڑھائی لکھائی میں پیچھے تھے لیکن صاحب ادراک اور زیرک تھے رشتوں کی قدر اور ہمسائیگی کے حقوق ان کی اولین ترجیحات میں شامل تھی خود غرضی ،لالچ ،ہرس اور چالبازی سے ان کا دور دور تک واسطہ نہیں تھا ۔ان کی سوچ فطرت کے عین مطابق تھی اور اس میں کوئی دوہرا پن نہیں تھا ان کی سادگی اور سچائی کی نظیر آج نہیں ملتی ۔حالانکہ تعلیم یافتہ لوگ آج زیادہ ہیں لیکن دانشمندی بہت کم ۔جب ہم اپنے سماج کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں تو بہت ساری باتیں سامنے آتی ہیں جیسے عداوت ،دغابازی ،بےچینی ،کینہ بغض ، جانب داری اور طرفداری کا مادہ ہر انسان کے تیور میں نمایاں ہیں ۔ دوسروں کی ترقی سے جلن ،خوشی کا حسد اور جائز کاموں پر اعتراض دن بہ دن بڑھ رہا ہے ۔دشمنی اس حد تک کہ دوسروں کی زندگی کا بھی سودا ہوتا ہے ۔تہمت ، بہتان اور جھوٹ کا رواج عام ہوگیا ہے ۔دنیاداری اتنی غالب ہوگئی ہے کہ لوگ غفلت اور لاپرواہی میں اپنے خالق حقیقی کو بھی بھول جاتے ہیں لیکن ایمانداری اور دیانتداری کے بڑے بڑے دعوے کرتے پھرتے ہیں ۔جب کسی محفل میں بیٹھ جاتے ہیں تو واعظ بن جاتے ہیں اور دوسروں کو تبلیغ اسلام دیتے ہیں اور فتویٰ جاری کرتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ سننے والوں پر اس تبلیغ کا کوئی اثر نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مبلغ کتنے پانی میں ہے ۔بے شرمی اور بے غیرتی کی حد تو یہ ہے کہ جو لوگ اچھے ہوتے ہیں ان پر طعنے کَسے جاتے ہیں اور غلط الزامات لگائے جاتے ہیں ۔اور یہ سلسلہ اب تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔دکھاوا ،ریاکاری اور مکاری عام ہوگئی ہے اور نیک نیتی ،خلوص اور ہمدردی نایاب ہوگئی ہے ۔فسادات اور آپسی جھگڑوں نے چین و سکون کو ریزہ ریزہ کر دیا ہے ۔کام بھی نہیں فرصت بھی نہیں ۔لوگ عجیب کشمکش میں مبتلا ہیں ۔پیار محبت اور عقیدت و احترام سے خالی سیاہ دل بس نفرت ہی نفرت فروغ پارہی ہے ۔منافقت اور چغلی کھانا جیسے قانونی طور پر لازمی ہے اسی لئے اس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے ۔کیا ہوگا ایسے سماج کا ۔جس میں انسانیت کی جگہ حیوانیت کا راج ہو ۔جہاں علم و دانش کا اثر منفی ہو اور جہالت کا اندھیرا ہرسو چھا گیا ہو ۔اس سماج میں رہنے والے لوگوں کی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے اور سماج کو از سرِ نو تشکیل دینے کی ضرورت بھی ۔کیونکہ معاشرے میں افراد کے باہمی تعلقات کی مطلوبہ نوعیت اور کیفیت بھائی چارگی اور باہمی محبت تبھی ممکن ہے جب اس ضمن میں مثبت کاوشیں کی جائیں گی ۔اور جہاں کسی غلط فہمی یا نفسانیت کے ہاتھوں یہ کیفیت ختم ہوتی نظر آئے وہاں دوسرے لوگوں کا فرض ہے کہ اصلاح حال کے لئے فوراً دوڈ پڑیں ۔معاشرے میں بھلائی اور خدا ترسی کے کاموں کی حوصلہ افزائی اور مدد کی جائے ۔معاشرے کے اندھر برائیوں کو سر اٹھانے کا موقع نہ دیا جائے  بلکہ ان برائیوں کو جڑ سے اکھاڑنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہئے
یہ ہماری منجملہ ذمہ داری ہے کہ ہمارے معاشرے میں سب یعنی مسلم یا غیرمسلم کا جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ رہے ۔ خدا کسی قوم کے حالات کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنےآپ کو تبدیل نہ کر یں۔ انسان سے گھر بنتا ہے اور گھر سے ایک معاشرہ وجود میں آتا ہے. انسان کا کردار اس کی فکر پر منحصر ہوتاہے. انسان ایک معاشرہ تشکیل دیتا ہے . جب ایک شخص پیدا ہوتا ہے تو نہ وہ پیدائشی طور پر شریف ہوتا ہے اور نہ ہی مجرم بلکہ اس کے ایک اچھے انسان بننے اور مجرم بننے میں یہ معاشرہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچہ اگر ایک ایسے معاشرے میں پیدا ہو جس جگہ کے افراد پڑھے لکھے، با شعور اور با اخلاق ہوں تو فطری طور پر وہ بچہ اچھے اخلاق کا مالک ہوگا. ایک اچھا انسان بنے گا لیکن اس کے برعکس اگر ایک بچہ ایسے معاشرے میں آنکھ کھولتا ہے جس جگہ کے لوگ بے شعور، بد اخلاق اور ان پڑھ  ہوں تو یہ باتیں بچے پر منفی اثرات مرتب ضرور کریں گی۔ صرف یہی نہیں بلکہ اگر وہ معاشرہ مختلف طرح کی برائیوں میں مبتلا ہو تو یہ سب باتیں چھوٹی چھوٹی برائیوں سے برے کاموں کی طرف لے جاتی ہیں اور ایک اچھے بھلے انسان کو مجرم بنا دیتی ہیں. اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ پر سکون ہو اور ہر طرح کی برائیوں سے پاک ہو تو ہمیں سب سے پہلے اپنے نفس کو ٹھیک کرنا ہوگا اور دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے خود اپنے آپ کو بےعیب کرنا ہوگا کیونکہ اچھا معاشرہ بہترین انسانوں سے ہی تشکیل پاتا ہے۔ الغرض سماج کو بدلنے کے لئے ہمیں خود بدلنا ہوگا ۔آپسی بھائی چارے کو فروغ دینا ہوگا۔ایک دوسرے کے خیرخواہ بننا ہوگا ۔وسعت قلب اور دور اندیشی کے صفات کو پنپنے دینا ہوگا ۔جس سماج یا معاشرے میں لوگ ایماندار اور خود دار ہوتے ہیں وہ معاشرہ خوشحالی سے بھی مالامال ہوتا ہے۔چلو بدل دیں خود کو اس سے پہلے سماج بدل جائے۔
رابطہ۔قصبہ کھُل ،کولگام کشمیر
����������