سوپور واقعہ میں سیکورٹی خامیاں تھیں: آئی جی

سرینگر// انسپکٹر جنرل پولیس کشمیر وجے کمار نے کہا ہے کہ سوپور میں گزشتہ روز جنگجویانہ حملے میں 2 میونسپل کونسلروں اور ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت میں سیکورٹی خامیاں رہیں۔ وجے کمار نے کہا ہے کہ ابھی تک جنگجوئوں کیلئے کام کررہے ایک بالائی زمین نوجوان کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جس کے گھر میں اس حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ لاوے پورہ حملہ میں ایک اور زخمی اہلکارکی ہلاکت پر ہمہامہ سی آر پی ایف مرکز میں گلباری کی تقریب کے حاشیہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی کشمیر وجے کمار نے کہا’’سوپور حملے  میں سیکورٹی میں کوتاہیاں ہوئیں‘‘۔ آئی جی پی نے بتایا ’’ وہاں4 پی ایس او زموجود تھے اور اگر وہ جوابی کارروائی کرتے تو جنگجو اپنی کوششوں میں کامیاب نہیں ہوتے۔‘‘انہوں نے کہا کہ سوپور میونسپل کمیٹی چیئرمین نے میٹنگ کے حوالے سے پولیس کو آگاہ نہیں کیا تھااور‘’اس لئے کوئی اضافی تعیناتی نہیں تھی، لیکن پھر بھی4 پی ایس اوز جوابی کارروائی کے لئے کافی تھے، جو انہوں نے نہیں کی‘‘۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور دیگر فورسز عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیوں کو تیز کردیں گے اور سوپور حملے میں ملوث افراد کو یا تو ہلاک کیا جائے گا یا انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔ آئی جی پی نے بتایا’’ایک بالائے زمین کارکن کو پہلے ہی گرفتار کرلیا گیا ہے اور اس سے تفتیش کرنے کے بعد ، معلوم ہوا ہے کہ لشکر طیبہ کے ایک عسکریت پسند مدثر نے ایک غیر ملکی ساتھی کے ہمراہ حملہ کیا‘‘۔انہوں نے کہا کہ سوپور حملے کی منصوبہ بندی گرفتار کارکن کے گھر میں کی گئی اور اسکے لئے بھی بیرون ریاست کی رجسٹریشن والی گاڑی کا استعمال کیا گیا ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا جموں وکشمیر میں جنگجو بیرون جموں کشمیر رجسٹریشن والی گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں ، کشمیر پولیس چیف نے بتایا کہ حال ہی میں پکڑی گئی کچھ گاڑیاں فورسز پرحملہ کرنے کے لئے جنگجوئوںکے ذریعہ استعمال کی تھیں جن میں ایک’’ لاوے پورہ‘‘ حملہ میں استعمال کی گئی۔آئی جی پی کمار نے کہا ،’’اسی وجہ سے علاقائی ٹرانسپورٹ افسرنے بیرون رجسٹریشن والی گاڑیوں کے لئے 15 دن کے اندر اندراج لازمی قرار دینے کا حکم جاری کیا ہے ۔‘‘ آئی جی پی کمار نے مزید کہا کہ پولیس آنے والے دنوں میں کمیوں کو دور کرے گی اور ذاتی محافظین(پی ایس ائوز) کے لئے مختصر ریفریشر کورس بھی کروائے گی۔