سوپور+شوپیان+کپوارہ// سوپور ،شوپیان اورکرالہ پورہ کپوارہ میں بجلی کی آوجاہی نے عام لوگوں اور تاجروں کی نیند حرام کردی ہے،جبکہ مقامی لوگوں نے محکمہ بجلی پر ان سرد ترین ایام میں لوگوں کو بلا خلل بجلی سپلائی فراہم کرنے میں ناکام ہونے کا الزام عائد کیا۔ سوپور قصبہ کے کئی علاقوں جن میں نور باغ،بادام باغ،آرم پورہ،جامع قدیم اور مہاراج پورہ،براٹھ کلان اور دیگر علاقے شامل ہیں،کے لوگوں نے کہا کہ ان کے علاقہ جات میں15 گھنٹوں تک بجلی گُل رہتی ہے،جبکہ محکمہ بجلی کے افسران سے بار بار فریاد کرنے کے باوجود بھی اُنہیں کوئی راحت نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں انہوں نے بار بار حکام کو اس معاملے میں مداخلت کرکے لوگوں کو راحت دینے کی درخواست دی تاہم انکی فریاد صدا بہ صحرا ثابت ہوئی۔ بادام باغ سوپور کے ایک شہری محمد عبداللہ بچہ نے کہا’’ ہم نے اپنی زندگی میں بجلی کی اس قدر ابتر صورتحال کبھی نہیں دیکھی اور اگر محکمہ بجلی بلا خلل برقی رئو فراہم کرنے میں ناکام ہوا ہے، تو انہیں بجلی فیس طلب کرنے کا کوئی بھی جواز نہیں بنتا‘‘۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی آوجاہی گزشتہ دو ماہ سے جاری ہے،اور ہر گزرتے دن اس میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بجلی کی عدم دستیابی سے سوپور میں تجارت اور صنعتی شعبہ بھی زبردست متاثر ہوا ہے،جبکہ طلاب کو بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اکنامک الائنس سوپور کے چیئرمین حاجی محمد اشرف گنائی کا کہنا ہے کہ بجلی کی ابتر صورتحال نے پورے قصبے میں لوگوں کی زندگی ان سرد ترین ایام میں اجیرن بنائی ہیں۔ جب اس سلسلے میں محکمہ بجلی سوپور کے ایگزیکٹو انجینئر سے اس سلسلے میں رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں کہا کہ قصبے میں بجلی میں خلل کی بنیادی وجہ سے حد سے زیادہ بجلی کا لوڈ ہے۔ جنوبی ضلع شوپیاں کے درجنوں دیہاتوں میں بجلی بحران پر مقامی لوگوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موسم سرما میں ہڈیو ںکو گلا دینے والی سردی کے باوجود بھی اُنہیں بجلی فراہم نہیں کی جاتی۔ان علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں کے ایک وفد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ شوپیاں کے چھوٹی گام،کم دلان،نادی گام،کٹھ پورہ،لون پورہ،نارسو،منزم پورہ،چک صدیق خان،تل دان،کھار وارہ،نل دور،ابل ون،ناگی شرن،کچھ ڈورہ،منتری بگ،حاجی پورہ،گاہند،چک پورہ،ڈی کے پورہ،الم گنج،لندورہ اور ملحقہ علاقے گھپ اندھیرے میں ہیںاور متعلقہ حکام لوگوں کو مشکلات سے باہر نکالنے میں راحت رسانی کا کوئی بھی کام نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا’’ہم اعلی حکام سے یہ چاہتے ہیں کہ بجلی کی جائز فراہمی کو یقینی بنائیں کیونکہ پچھلے دو برسوں سے ہمارے علاقوں میں بجلی گُل ہے‘‘۔انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں مشکل سے روزانہ صرف ایک سے دو گھنٹے بجلی فراہم ہو رہی ہے اور متعلقہ حکام سے بار بار درخواست کرنے کے باوجود ان کی حالت زار پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ادھرکرالہ پورہ کے مضافات کاچہامہ میں بجلی کی عدم دستیابی پر مقامی لوگو ں میں محکمہ بجلی کے تئیں سخت نارا ضگی پائی جارہی ہے جبکہ سڑک پر بچھایا گیا میگڈم 2 ماہ میں ہی اُکھڑ گیا ۔کاچہامہ کے مقامی شہری نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ دو پنچائتو ں پر مشتمل کاچہامہ علاقہ اگرچہ تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہے، تاہم بجلی کی آنکھ مچولی سے لوگ زبردست تنگ آچکے ہیں ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقہ میں نا قص بجلی نظام کی وجہ سے لوگوں کوگوناگوں مشکلات درپیش ہیں اور 24گھنٹو ں میں صارفین کو محض پانچ گھنٹہ بجلی فراہم کی جاتی ہے اور اکثر و بیشتر اوقات علاقہ گھپ اندھیرے میں رہتا ہے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے جہاں عام لوگو ں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،وہیں بچو ں کی تعلیم بھی متا ثر ہو رہی ہے ۔مقامی لوگو ں نے محکمہ بجلی سے مطالبہ کیا کہ وہ علاقہ کو شیڈول کے مطابق بجلی فراہم کرے ۔اس دوران لوگو ں کا کہنا ہے کہ عرصہ دراز بعد میلیال کاچہا مہ کی 3کلو میٹر سڑک پر میگڈم بچھایا گیاجس کے بعد لوگو ں اور ٹرانسپورٹرو ں نے را حت کی سانس لی، تاہم یہ میگڈم محض 2ماہ میںہی اُکھڑ گیا اور آج مذکورہ سڑک جگہ جگہ خستہ حال ہو چکی ہے ۔مقامی لوگو ں نے محکمہ پی ایم جی ایس وائی پر الزام لگایا کہ انہو ں نے سڑک پر نا قص تارکول بچھایا ۔مقامی لوگو ں نے ضلع انتظامیہ سے اس کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ۔