سول لائنز میں آنگن واڑی ورکر پھر نمودار

 
سرینگر//آنگن واڑی ورکروں نے اپنی مانگیں منگوانے کے حق میں جمعرات کو ایک مرتبہ پھرمولانا آزاد روڈپر دھرنا دیکر ٹریفک کی آوا جاہی روک دی ۔احتجاجی ورکروں نے دھمکی دی کہ اگر سرکار نے جلد پورے نہیں کئے تو وہ یک اپریل سے بھوک ہڑتال شروع کریں گی۔ آنگن واڑی ورکراور ہیلپر پرتاپ پارک میں جمع ہوئیں اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرنے لگیں ۔انہوں نے بعد میں احتجاجی مارچ کیااورریگل چوک کے نزدیک مولانا آزاد روڈپر دھرنا دیکر ٹریفک کی نقل و حمل روک دی ۔احتجاجی مارچ کی شرکاء ملازمین نے اپنی ماہانہ اجرتوں میں اضافے سمیت دوسرے مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔احتجاجی خواتین نے بینئر اور پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے اور دھرنا دیکر ٹریفک کی آمدرفت بند کی اور کسی بھی گاڑی کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے سول لائنز میں گاڑیاں درماندہ ہوگئیںاورمولانا آزاد روڈپر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں۔بعد ضلع اور پولیس آ فسران کی مداخلت کے بعد احتجاجی خواتین سڑ ک سے ہٹ گئیں اور یوں وہاں کافی دیرکے بعد ٹریفک بحال کیا گیا ۔احتجاجی خواتین نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اگر چہ ہر ایک ریاست میں آنگن واڑی ورکروں اور ہلپروں کومتواتر اور معقول ماہانہ مشاہرہ فراہم کیا جاتا ہے،مگر جموں کشمیر ہی واحد ایسی ریاست ہے،جہاں پر آنگن واڈی وکروں اور ہلپروں کو کشکول لیکر سرکار کے دروازے پر بھیک مانگنے کیلئے جانا پڑتا ہے۔احتجاجی خواتین نے سرکار سے مطالبہ کیا کہاگر فوری طور پر انکے مطالبات کو پورا کیا جائے اور ساتھ ہی دھمکی دی کہ جب تک انکے مطالبات کو پورا نہیں کیا جاتا وہ احتجاجی ہڑتال جاری رکھیں گی اور یکم اپریل سے بھوک ہڑتال شروع کریں گی ۔