عظمیٰ نیوزسروس
امرتسر//سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا خیرمقدم کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نےکہا کہ اس معاہدے نے خطے کو طویل المدتی نقصان پہنچایا اور اسے اپنے جائز آبی وسائل کے استعمال سے محروم رکھا۔ یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ شروع ہی سے سندھ طاس معاہدے کے مخالف رہے ہیں۔انہوں نے کہا’’سندھ طاس معاہدے نے ہمیں شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کی معطلی ایک اچھا قدم ہے۔ اب ایسے اقدامات کیے جانے چاہئیں تاکہ ہم اس پانی کو اپنے استعمال میں لا سکیں‘‘۔قابلِ ذکر ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا تھا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت نے دریاؤں کے پانی کے مؤثر استعمال کیلئے مرکز کو پہلے ہی دو بڑے منصوبے تجویز کیے ہیں۔ ان میں سے ایک تُلبُل نیوی گیشن بیراج ہے، جسے جہلم نیوی گیشن بیراج بھی کہا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا’’اس منصوبے سے وولر جھیل میں پانی کی سطح بڑھے گی، جس سے جہلم میں پانی کے بہاؤ میں بہتری آئے گی۔ اس سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور دریا کو آمد و رفت کے قابل بنایا جا سکے گا‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ دریائے چناب کے پانی کو جموں کے لئے استعمال میں لانے سے آئندہ 30برسوں تک خطے میں پانی کی قلت ختم ہو جائے گی۔انکاکہناتھا’’سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے ہمیں اپنے دریاؤں کی صفائی (ڈی سلٹنگ) کی اجازت بھی ملے گی، جو پہلے ممکن نہیں تھی‘‘۔عمر عبداللہ نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت جموں و کشمیر نے بھاری قیمت ادا کی، جبکہ پنجاب کو اپنے علاقے سے گزرنے والے دریاؤں پر حقوق ملے۔ انہوں نے کہا’’ہم نے پنجاب میں تعمیر ہونے والے ڈیموں کا خمیازہ بھگتا۔ جموں و کشمیر کے کئی علاقے زیرِ آب آئے، اس کے باوجود ہم نے کبھی شکایت نہیں کی اور پنجاب کے ساتھ خوشگوار تعلقات برقرار رکھے‘‘۔آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سیاسی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ تبدیلی آئی ہے، مگر جو دعوے کیے گئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا’’ہمیں بتایا گیا تھا کہ آرٹیکل 370ہٹانے سےملی ٹینسی، بے روزگاری اور تشدد ختم ہو جائے گا۔ یہ تمام دعوے جھوٹ ثابت ہوئے‘‘۔
سیکورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ گزشتہ سال کا آغاز پہلگام کے سیاحتی حملے سے ہوا اور اختتام دہلی میں دھماکوں پر ہوا۔ انہوں نے کہا’’یہ واضح طور پر اس فرق کو ظاہر کرتا ہے جو وعدہ کیا گیا تھا اور جو حقیقت میں ہو رہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ پہلگام حملے کے بعد حکومت نے سیاحت کو بحال کرنے کی مخلصانہ کوششیں کیں، مگر اس بات کو یقینی بنایا کہ اس سانحے کو مالی پیمانوں میں نہ تولا جائے۔ انہوں نے کہا’’قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ سیاحت کے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس سے سیاح نشانہ بن سکتے ہیں‘‘۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ برف باری سے سیاحوں کی آمد میں بہتری آئی ہے۔مرکز پر تنقید کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ منریگا کا نام بدلنا غلط ہے کیونکہ اس سے مہاتما گاندھی کا نام ہٹا دیا گیا اور انہوں نے مرکز پر الزام عائد کیا کہ وہ اس سکیم کا مالی بوجھ ریاستوں پر ڈال رہا ہے۔چھٹی سنگھ پورہ میں سکھوں کے قتل عام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سی بی آئی کی جانچ میں مجرموں کی نشاندہی ہو چکی ہے، جن میں سے کچھ کی موت ہو چکی ہے، جبکہ باقی ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں جاری ہیں۔جموں کو علیحدہ ریاست کا درجہ دیے جانے کی قیاس آرائیوں پر سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ لداخ کو یونین ٹیریٹری کا درجہ دینے کے بعد پہلے ہی’’برباد‘‘کیا جا چکا ہے اور اسی تجربے کو دہرانے سے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا’’اگر وہ جموں کو برباد کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اس کی آزادی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ایک میڈیکل کالج کا قیام بھی برداشت نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا’’اگر یہ رویہ ہے تو جموں کے ساتھ کیا کریں گے‘‘وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں کی معیشت بڑی حد تک دربار موو پر منحصر تھی، جسے ختم کر دیا گیا تھا، تاہم ان کی قیادت والی حکومت نے اسے بحال کیا۔ انہوں نے کہا’’ملک کے دیگر حصوں میں لوگ میڈیکل کالج حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، مگر یہاں مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں جیسے کوئی غیر معمولی کارنامہ انجام دیا گیا ہو‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مقصد الگ ریاست بنانا ہے تو ’’آگے بڑھیں اور اسے مکمل طور پر برباد کر دیں‘‘۔انہوں نے جموں و کشمیر میں منشیات کے مسئلے کو بھی تسلیم کیا اور کہا کہ یہ مسئلہ موجود ہے اور حکومت اس کے خلاف سختی سے لڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا’’ہماری سرحدیں ہمسایہ ملک سے ملتی ہیں اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ منشیات جموں و کشمیر میں داخل نہ ہو۔ حکومت خطے میں منشیات کے استعمال کے خاتمے کے لیے بھی بھرپور کام کر رہی ہے‘‘۔بنگلہ دیش میں اقلیتوں کو نشانہ بنائے جانے سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ہر ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اقلیتوں کا تحفظ کرے۔ انہوں نے کہا’’جب بنگلہ دیش کو نصیحتیں دی جا رہی ہیں تو یہی اصول اپنے ملک میں بھی نافذ ہونے چاہئیں۔ یہاں تو اگر اقلیتوں کو میڈیکل کالج میں داخلہ مل جائے تو کالج ہی بند کر دیا جاتا ہے‘‘۔