سلمان خور شید کی حق بیانی

سلمان  خورشید نے ایک بیان کیا دے دیا کہ ہنگامہ مچ گیا۔ کانگریس پارٹی دفاعی پوزیشن میں آگئی اور بی جے پی والوں کو دھما چوکڑی کا سنہری موقع مل گیا۔ بعض نیوز چینلوں کو مسالے دار موضوع ہاتھ آگیا اور انھوں نے کھچڑی پکانے اور اس میں کانگریس دشمنی کا تڑکا لگانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ بی جے پی کے ترجمانوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور سلمان خورشید کے بیان کو سیاق و سباق سے کاٹ کر دیکھا جانے لگا اور وہ مفہوم نکالا جانے لگا جو اس میں ہے ہی نہیں۔ بی جے پی لیڈروں کو اس میں یدطولیٰ حاصل ہے کہ وہ کسی بھی بیان کا کوئی بھی مفہوم نکال لیں اور عوام کے سامنے پیش کر دیں۔ سلمان خورشید نے سوال کرنے والے سے کہا تھا کہ ’ہاں ہمارے دامن پر خون کے دھبے ہیں۔ تم ’ان‘ پر وار کرو گے تو تمہارے دامن پر بھی دھبے آئیں گے‘۔یعنی ہم نے وار کرنے والوں کا سامنا کیا جس کی وجہ سے ہمارے دامن داغ دار ہوئے ہیں۔
ویسے حقیقت یہ ہے کہ سلمان خورشید نصف سچائی بیان کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان میں بیشتر بڑے مسلم کش فسادات کانگریس کے دور حکومت میں ہوئے ہیں کیونکہ اسی نے چند برسوں کو چھوڑ کر آزادی کے بعد کے بڑے عرصے میں ملک پر حکومت کی ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ کانگریس کے دور میں ہی بابری مسجد میں رام للا پرکٹ ہوئے۔ کانگریسی وزیر اعلی نے مورتیاں رکھنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اسی کے دور میں بابری مسجد کا تالا کھولا گیا۔ وہاں پوجا شروع ہو ئی اور بابری مسجد کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ کانگریس کے دور میں فسادات کے دوران لاکھوں کی تعداد میں مسلمان گاجر مولی کی طرح کاٹے گئے۔ ان کی لاشیں دفن کرکے ان پر گوبھی بو دی گئی۔ اسی کے دور میں مسلم یونیورسٹی کا تنازعہ پیدا ہوا۔ بابری مسجد انہدام کے بعد ممبئی میں بھڑکے فسادات کی جانچ کے لیے سری کرشنا کمیشن تشکیل دیا گیا لیکن اگر بی جے پی اور شیو سینا کی حکومت نے سری کرشنا کمیشن کی رپورٹ پر عمل آوری نہیں کی تو کانگریس کی حکومت نے بھی نہیں کی۔ کانگریس حکومت نے فسادات کی جانچ کے لیے لاتعداد کمیشن تو بنائے لیکن ان کی رپورٹوں پر کوئی عمل نہیں کیا۔ کانگریس کے متعدد لیڈروں پر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنی دھوتی کے اندر خاکی نیکر پہنتے ہیں۔ خود سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ پرپر بھی یہی الزام عاید کیا جاتا ہے۔ کیا کوئی مسلمان اسے بھول سکتا ہے کہ انہی کے دور حکومت میں بلکہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ان کی نادیدہ سرپرستی میں بابری مسجد شہید ہوئی اور جب تک وہ شہید نہیں ہو گئی وہ پوجا پاٹ کرتے رہے۔ بے شمار ایسے واقعات ہیں جو مسلمانوں کے تعلق سے کانگریس کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں۔ کانگریس نے مسلمانوں کو جتنے زخم دیے ہیں اتنے کسی بھی پارٹی نے نہیں دیے۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ کانگریس نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے بہت سی اسکیمیں بھی بنائیں اور ان کی سماجی، تعلیمی و اقتصادی پسماندگی کو دور کرنے کی کوشش بھی کی۔ کانگریس دور حکومت ہی میں مسلمانوں کی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے سچر کمیٹی جیسی بے مثال کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے ہندوستانی مسلمانوں کی صحیح صورت حال دنیا کے سامنے پیش کی۔ اس کمیٹی کی رپورٹ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں مسلمانوں کی حقیقی شبیہ نظر آتی ہے۔ لیکن یہ بھی بجا ہے کہ اس کی سفارشات پر عمل آوری کے لیے اسی طرح غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا جس طرح دوسری رپورٹوں پر عمل آوری کے سلسلے میں کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کانگریس سے مسلمانوں کو دھوکے زیادہ ملے ہیں حق اور انصاف کم ملا ہے، جب کہ آزادی کے بعد ایک طویل عرصے تک مسلمان من حیث القوم کانگریس کو ہی ووٹ دیتے رہے ہیں۔ مسلمانوں نے فسادات میں اپنے لاکھوں عزیزوں کا قتل تو معاف کر دیا لیکن بابری مسجد کی شہادت کا جرم معاف نہیں کیا۔ ان کا بہت بڑا طبقہ آج بھی کانگریس سے ناراض ہے۔ کانگریس نے اس کی زبردست قیمت چکائی ہے اور اب بھی چکا رہی ہے۔  
 چلئے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ سلمان خورشید نے اعتراف گناہ کیا ہے اور کہا ہے کہ کانگریس کے دامن پر مسلمانوں کے خون کے دھبے ہیں تو یہ کوئی بری بات نہیں۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف وہی کرتا ہے جو اعلیٰ ظرف ہوتا ہے۔ کانگریس کے متعدد رہنماؤں نے مسلم کش فسادات پر، بابری مسجد کے انہدام پر اور مسلمانوں کے ساتھ ناانصافیوں پر خواہ دبے لفظوں میں ہی سہی، اظہار افسوس تو کیا ہی ہے۔ انھوں نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ پر بھی بارہا اپنی ندامت کا اظہار کیا اور سکھ مخالف فسادات پر تو کئی بار معافی مانگی ہے، لیکن کیا یہ اخلاقی جرأت بی جے پی کے رہنماؤں کے پاس بھی ہے۔ آج بی جے پی کے جو ترجمان اچھل اچھل کر کانگریس کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ بتانے کی زحمت کریں گے کہ ان کی پارٹی نے یا لیڈروں نے کبھی کسی فساد پر معافی مانگی ہے یا اظہار افسوس کیا ہے؟ کیا وزیر اعظم نریندر مودی کے اندر اتنی اخلاقی جرأت ہے کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ ان کے دور حکومت میں گجرات میں جو بدترین فسادات ہوئے تھے اور جن میں دو ہزار سے زائد مسلمان مارے گئے تھے، اس پر ان کو افسوس ہے اور ریاست کا وزیر اعلیٰ ہونے کے ناطے وہ اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ انھوں نے ایک بار اظہار افسوس کیا بھی تو ایسی ذلت آمیز زبان میں کہ مسلمانوں کو کتے کا پلّا کہہ دیا۔ کیا مودی کے اندر یہ اعتراف کرنے کی جرأت ہے کہ وزیر اعظم بننے کے بعد ملک میں جو بھی فسادات ہوئے ہیں، گائے کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں کو جس مارا گیا ہے اور ان کے ساتھ جس طرح ناانصافیاں ہوئی ہیں ،وہ وزیر اعظم ہونے کے ناطے ان کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں؟ کیا محمد اخلاق، پہلو خان، حافظ جنید اور دوسرے بے قصوروں کی ہلاکت پر وہ اظہار افسوس کر سکتے ہیں؟ 
حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی بھاجپائی لیڈر اتنی اخلاقی جرأت نہیں رکھتا کہ وہ ان واقعات کے لیے اظہار افسوس کرے بلکہ اس دور حکومت میں تو سنگھی نظریات کے حامل ان تمام لوگوں کو رہا کرنے کا سلسلہ چل پڑا ہے جو فسادات اور بم دھماکوں میں ملوث رہے ہیں۔ اتر پردیش کی حکومت نے پہلے وزیر اعلیٰ یوگی کے خلاف مقدمات چلانے کی اجازت دینے سے انکار کیا۔ اس کے بعد مظفر نگر فساد کے سلسلے میں بھاجپائیوں پر جو مقدمات ہیں ان کو ختم کرنے کا قدم اٹھایا اور اب سادھوی پرگیہ، سادھوی پراچی اور بالیان وغیرہ پر عاید مقدمات اٹھانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ دراصل بی جے پی والوں کو معلوم ہے کہ سیاست میں اخلاق اور شرافت کی کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ اس سے الٹا نقصان ہی ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ کسی بھی قسم کی اخلاقی پابندی سے خود کو آزاد سمجھتے ہیں۔ انھوں نے کبھی یہ حقیقت تسلیم نہیں کی کہ وہ مسلم کش فسادات میں ملوث رہے ہیں۔ بلکہ انھوں نے ہمیشہ اپنی کارستانیوں کو جواز بلکہ دیش بھگتی کا جامہ پہنانے کی کوشش کی ہے۔ دور حاضر میں سیاست میں جو اخلاقی فقدان ہے اس کے تناطر میں سلمان خورشید کا اعتراف قابل ذکر بھی ہے اور قابل ستائش بھی۔ اس قسم کی جرأت کا مظاہرہ کبھی کبھی ہی ہوتا ہے۔