سعودی میں قید ہندوستانیوں کی رمضان سے پہلے وطن واپسی: مودی

 بھدوہی//وزیر اعظم نریندر مودی نے اترپردیش کے بھدوہی میں اتوار کو ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 850 ہندوستانی جو سعودی عرب کے جیلوں میں قید ہیں وہ رمضان سے پہلے ہی وطن عزیز واپس آجائیں گے ۔اپنے خطاب میں مودی نے کہا کہ ہندوستان سے لوگ سعودی حج کے ساتھ ساتھ تلاش معاش میں جاتے ہیں لیکن کچھ غلطیوں کی بنا پر ان کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ حالیہ دنوں میں میں نے ولی عہد سلمان سے 850 ہندوستانیوں کو جو مختلف وجوہات سے سعودیہ کی جیل میں بند ہیں ان کو واپس کرنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے میری درخواست کو قبول کرلیا اوران کو ہندوستان کے واپس بھیجاجائے گا۔خطاب میں اپوزیشن پر حملہ کرتے ہوئے کہ مسٹر مودی نے عوام سے سوالیہ لہجے میں کہا کہ کیا مہاملاوٹی لوگوں کے ذریعہ جو گیم کھیلا جارہا ہے اس سے آپ ناراض نہیں ہیں؟وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ مودی نے مسعود اظہر پر پابندی اس لئے لگوائی کیونکہ الیکشن تھے وہ لو گ اب ساری چیزوں کو الیکشن کے لینس سے دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں۔اگر کوئی بھی دہشت گردانہ واقعہ ملک میں وقوع پذیر ہوتا ہے تو ملک کے شہریوں کو کافی مایوسی ہوتی ہے ۔ جب ہماری جانباز جوانوں کی لاشیں ملک میں آتی ہیں تو پورا ملک سوگوار ہوتا ہے ۔ اور جب ان کو منھ توڑ جواب دینے کے لئے سرجیل اسٹرائیک ہوتی ہے تو پورے ملک کا سر فخر سے بلند ہوتا ہے ۔ لیکن مہاملاوٹی لوگ ملک کو عالمی پیمانے پر ملی عزت و قار سے خوش نہیں ہیں۔ مودی نے کانگریس صدر راہل گاندھی پر حملہ کرتے ہوئے کہا‘‘ وہ لوگ جو ملک کی عوام کے لئے بیت الخلاء نہیں بنوا سکتے ۔ ملک کے دفاعی سودے کو اپنے دوستوں کو دلاتے ہیں۔امیٹھی کے لوگ جانتے ہیں کہ کس طر ح سے ‘نامدار’ نے اپنے تاجر دوستوں اور شراکت داروں کی مدد کی لیکن امیٹھی او ر رائے بریلی کو پوری طرح سے نظر انداز کیا ہے ۔انہوں نے دعوی کیا کہ صرف بی جے پی ہی ملک اور اترپردیش میں صحیح طور سے ترقیاتی ایجنڈے پر حکومت کرسکتی ہے ۔ مسٹر مودی نے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے کہا یاد رہے کہ کانگریس، ایس پی۔ بی ایس پی نے ہمیشہ سے عوام کو ذات اور مذہب کی بنیاد پر تقسیم کیا ہے ۔ لیکن ہمارے لئے ترقی ہی واحد منتر ہے اور ہمارا نعرہ ہے ‘‘سب کا ساتھ سب کا وکاس’’۔مسٹر مودی نے اپنے خطاب کو عوام سے جوڑتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ کیا کوئی بھی ہماری ایمانداری یا میری ملکیت پر سوال کھڑا کرسکتا ہے ؟۔ لیکن یہ مہا ملاوٹی لوگوں نے اپنے میعاد کار میں اپنی جیبیں خوب بھری ہیں۔ یواین آئی