کولمبو//یو این آئی// معاشی حالات کا سامنا کرنے والے سری لنکا میں حال ہی میں غیر قانونی شراب کے کاروبار میں 300فیصد تک اضافہ درج کیاگیاہے ۔وزیر خزانہ رنجیت سیامبلپتیانے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ غیر قانونی شراب کے کالے کاروبار میں کچھ لائسنس شدہ کاروباری بھی شامل ہیں۔ وزیر کے حوالے سے اخبار‘دی آئی لینڈ’ نے کہا کہ جھاڑیوں سے گھرا دیہی علاقوں میں غیر قانونی شراب کا کاروبار زوروں پر ہے ۔ غیر قانونی شراب کے کاروبار میں ایکسائز لائسنس شدہ کاروباری بھی شامل ہیں۔ایکسائزآفیسر فیڈریشن کی سالانہ عام میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے وزیر نے جمعہ کو کہا تھا کہ حال ہی میں عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں غیر قانونی شراب کے کاروبارمیں 300فیصدکا اضافہ ہواہے ۔انھوں نے کہاکہ[؟]ٹیکس ادائیگی نہ کرنے کو غیر قانونی شراب بنانے میں شامل کیا جا سکتاہے ۔2004سے 2016کے درمیان ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق سری لنکا کے غیر قانونی شراب کے کاروبار میں 95فیصد کا اضافہ ہوا ہے جب کہ ملک کے حقیقی شراب کے کاروبار میں صرف 50فیصد اضافہ ہوا ہے ۔