شبیر ابن یوسف
سرینگر13جولائی 1931کے شہداء کی برسی کے موقع پر امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے سری نگر کے پانچ پولیس تھانوں کے دائرہ اختیار میں احتیاطی پابندیاں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان علاقوں میں نوہٹہ، ایم آر گنج، خانیار سمیت دیگر حساس علاقے شامل ہیں۔انتظامیہ کے مطابق خواجہ بازار، نوہٹہ میں واقع نقشبند صاحب کے احاطے میں موجود مزارشہداء کو مکمل طور پر سیل رکھا جائے گا اور دن و رات کے دوران عوام یا کسی بھی سیاسی جماعت کے رہنماؤں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے احتیاطی طور پر کیے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے شہر خاص کے مختلف علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی جائے گی، جبکہ جگہ جگہ ناکے اور رکاوٹیں کھڑی کر کے نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے گی۔ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا، ’’ہم احتیاطی اقدامات کر رہے ہیں۔ اگر کوئی سیاسی رہنما آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا تو اس کی نقل و حرکت محدود کی جائے گی‘‘۔13جولائی 1931 کو سری نگر سینٹرل جیل کے باہر ڈوگرہ حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران 22 کشمیری جاں بحق ہوئے تھے۔ اس دن کو ماضی میںیومِ شہداء کے طور پر سرکاری سطح پر منایا جاتا تھا، شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے سرکاری تقریبات منعقد ہوتیں، پھول چڑھائے جاتے اور عوامی جلوس مزارشہداء تک جاتے تھے۔ اس موقع پر جموں و کشمیر میں سرکاری تعطیل بھی ہوتی تھی۔تاہم 5اگست 2019کو دفعہ 370کی منسوخی اور جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کے بعد لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ نے 2020سے 13جولائی کی سرکاری تعطیل ختم کر دی اور سرکاری سطح پر یومِ شہداء منانے کی روایت بھی بند کر دی، جس کی وجہ سیکورٹی اور انتظامی تقاضے بتائے گئے۔ یہ پالیسی بعد کے برسوں کی طرح2025اور 2026میں بھی برقرار رکھی گئی ہے۔گزشتہ سال بھی شہر خاص میں اسی نوعیت کی پابندیاں نافذ کی گئی تھیں۔ اس دوران برسراقتدارنیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اوراپنی پارٹی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کو مزارشہداء جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ نقشبند صاحب جانے والی سڑکیں بند کر دی گئی تھیں جبکہ بعض رہنماؤں کو گھروں تک محدود رکھا گیا تھا اور عوام کو بھی انتظامیہ کے احکامات پر عمل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔اگرچہ پابندیاں نافذ تھیں، تاہم اگلے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ شہداء قبرستان پہنچنے میں کامیاب رہے تھے اور 13جولائی 1931کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا تھا، جس سے اس مقام کی تاریخی اور جذباتی اہمیت ایک بار پھر اجاگر ہوئی تھی۔نقشبند صاحب کے مزار کے احاطے میں واقع مزار شہداء 13جولائی 1931کے شہداء کی آخری آرام گاہ ہونے کے باعث کشمیر کی تاریخ میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عارضی اور احتیاطی نوعیت کے ہیں، تاہم مقامی سیاسی جماعتیں اکثر ایسے اقدامات کو2019 کے بعد تاریخی بیانیے کو پس منظر میں دھکیلنے کی کوشش قرار دیتی رہی ہیں۔13 جولائی کی برسی کے پیش نظر وادی میں سیکورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا ہے، جبکہ انتظامیہ نے ایک بار پھر عوامی سلامتی کو یقینی بنانے اور موجودہ انتظامی نظام کے تحت امن و امان برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔