سرکار نے جموں /سرینگر میں جائیداد مہاجرین کی الاٹمنٹ سے متعلق خبروں کو مسترد کیا

جموں //جموں و کشمیر کسٹوڈین جنرل کی جانب سے جاری ایک بیان میں میڈیا رپورٹوں کو یکسر مسترد کیا ہے ،جس میںدعویٰ کیا گیا تھا کہ جموں  وکشمیر کسٹوڈین جنرل نے ضوابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک جائیداد مہاجر کے پٹہ کی مدت میں غیر قانونی طور سے توسیع کر دی ہے اور اس طرح سے اسے ضوابطوںکی خلاف ورزی کرتے ہوئے کثیر جائیداد رکھنے کی اجازت دی ہے۔ایک اخباری رپورٹ کے مطابق محکمہ کسٹوڈین نے ریاض احمد خان ولد محمد ہاشم خان کو حیدر پورہ میں جائیداد مہاجرین الاٹ کی ہے جبکہ مذکورہ شخض کے پاس ریذیڈنسی روڈ ،جموں میں پہلے ہی اسی نوعیت کی جائیداد ہے۔نیوز رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ مذکورہ شخض کو حیدر پورہ میں جائیداد مہاجرین کے 4دکانیں الاٹ کیں گئیں ہیں جبکہ اسکے پاس ویر مارگ،ریذیڈنسی روڈ،جموں میں غیر قانونی طور سے جائیداد مہاجرین ہے۔  نیوز رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کسٹوڈین جنرل نے واضع کیا کہ تب کے کسٹوڈین جنرل کی سفارش پر ریاض احمد خان کو حکم نمبر 16 of 2015 بتاریخ 28جنوری2015  کو15لاکھ روپے کے پریمیم اور فی مربع فٹ  13روپے شرح کے حساب سے فی ما ہ کرایہ عوض کے تحت قوانین کسٹوڈین جائیداد مہاجرین کشمیر نے حیدر پورہ، سرینگر میں واقع  I.Q Shopping Mallمیں گرائونڈ فلور پر چار دکانیں الاٹ  کی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کسٹوڈین جائیداد مہاجرین کو پہلے ہی ہدایت دی گئی ہے کہ تمام الاٹ شدگان بشمول ریاض احمد خان سے پریمیم کی باقی رقم وصول کی جائے بصورت دیگر محکمہ انکے خلاف جے اینڈ کے سٹیٹ ایوکیو(ایڈمنسٹریشن آف پراپرٹی) ایکٹ سموت 2006 اور سکے تحت بنائے گئے قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جہاں تک ریذیڈنسی روڈ ،جموں میں مکان نمبر 1209 جائیدا مہاجرین کی الاٹمنٹ کا تعلق ہے ریکارڈ کے مطالعہ سے یہ عیاں ہے کہ یہ جائیداد پہلے غلام رسول (والد) کو الاٹ کی گئی تھی اور انکے انتقال کے بعد اسکے فرزند محمد اسما عیل خان کو الاٹ کی گئی ہے۔کسٹوڈین جنرل کے ترجمان کے مطابق محمد اسماعیل نے اپنے دور حیات میں ہی اپنے ایک بیٹے محمد ہاشم خان اور اپنے پوتے ریاض احمد خان کا نام پٹہ اقرار نامہ میں 10,000 روپے پریمیم اور 500 روپے فی ماہ کرایہ کے عوض شامل کرایا  اور مورخہ 25جنوری 2006 کو محمد اسماعیل کی موت کے بعد اسکانام پٹہ اقرار نامہ سے اخراج کیا گیا اور جائیداد باقاعدہ طور سے محمد ہاشم اور ریاض احمد یعنی کہ باپ اور بیٹے کے نام پر ہے۔ جے اینڈ کے کسٹوڈین جنرل نے اس خبر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جائیداد ان لوگوں کی ہے جو تقسیم ہند کے دوران پاکستان ہجرت کر گئے ۔انہوںنے کہا کہ یہ کوئی موروثی جائیداد نہیں ہے ،جس پر مالکانہ حقوق ہیں۔ اس طرح سے الاٹی کا مذکورہ جائیداد پر کوئی حق نہیں ہے لیکن عارضی طور پر وہ اس کا استعمال اس مقصد کے لئے کرسکتا ہے جسکے لئے یہ الاٹ کی گئی ہے۔کسٹوڈین جنرل کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تب کے کسٹوڈین جنرل اور اسپیشل ٹریبونل جموں نے معاملہ کا فیصلہ پہلے ہی کیا ہے،اسلئے دفتر ہذا/عدالت اس معاملہ میں مزید کوئی کارروائی نہیں کرسکتی ہے ،تاہم درخواست دہندہ کو اپنی شکایت کا ازالہ کرنے کے لئے پرنٹ میڈیا یا سوشل میڈیا کے بجائے معقول فورموں میں جانے کی چھوٹ ہے۔اسطرح سے شکایت کنندہ کے مبینہ الزامات کو مسترد کیا گیا ہے۔کسٹوڈین جنرل کے دفتر نے شکایت کنندہ پر محکمہ کو غیر ضروری طور سے ہراساں کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔